سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 3
 ایک مرتبہ کسی شاعر نے سیدنا حسینؓ کی تعریف کی تو آپؓ نے اس کو بہت سا مال دیا، اس پر کسی نے سیدنا حسینؓ سے کہا کہ آپؓ نے اسے اتنا سارا مال دے دیا! سیدنا حسینؓ نے کہنے والے کو سمجھایا کہ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دے کہ تم فاطمہ بنتِ رسولﷺ اور علیؓ بن ابی طالب کی اولاد نہیں ہو پھر لوگ خوامخواہ اس کی بات کی تصدیق کرتے اور اسے نقل کرتے، پھر یہ بات ہمیشہ کے لئے کتابوں میں رہ جاتی اور بیان کرنے والوں کی زبانوں پر رائج رہتی۔ سیدنا حسینؓ کا یہ حکمت بھرا جواب سن کر اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ کے بیٹے! خدا کی قسم آپؓ مدح و زم کی حقیقت کو مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
(الحسن والحسین: صفحہ 20)
مدینہ منورہ کے آس پاس سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ملکیت میں بہت سے چشمے تھے، آپؓ نے اپنے رشتہ داروں کے لئے وہ چشمے وقف کر رکھے تھے اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان میں سے ایک چشمہ البغیبغات کے نام سے مشہور تھا، یہ چشمہ سیدنا حسینؓ کے حصّہ میں آیا تو آپؓ نے اسے چچازاد بھائی عبد الله بن جعفرؓ کو دے دیا، کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں، ایک عرصہ کے بعد پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ چشمہ حضرت معاویہؓ کے ہاتھ فروخت كر ديا۔
(تاريخ المدينة المنورة: جلد 1 صفحہ 138)
علامه عزالدین ابن اثیرؒ (606ھ) لکھتے ہیں:
وكان الحسين رضي الله عنه فاضلاً، كثير الصوم والصلاة والحج والصدقة وأفعال الخير جميعها
(اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 23) 
سدنا حسینؓ بہت زیادہ صاحبِ فضیلت، کثرت سے نماز، روزہ، حج، صدقہ اور تمام خیر کے کام زیادہ کرنے والے تھے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیؒ(430ھ) لکھتے ہیں:
تَقِيًّا نَقِيًّا فِي ذَاتِ اللَّهِ ، مُجِدًّا قَوِيًّا ذَا لِسَانٍ وَبَيَانٍ ، وَنَجْدَةٍ وَجَنَانٍ
[معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني] (المؤلف) أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسىٰ بن مهران الأصبهان
(336-430هـ) .
(معرفة الصحابة: جلد 2 صفحہ 9) 
حافظ ابن عبد البر مالکیؒ(463ھ) لکھتے ہیں:
وكان الحسين فاضلا دينا، كثير الصوم والصلاة والحج
(الاستيعاب: جلد 1 صفحہ 378)
سیدنا حسینؓ دیندار صوم و صلوٰۃ اور حج کی کثرت رکھنے والی ہستی تھے۔
حضرت امام نوویؒ (676ھ) سیدنا حسینؓ کے بارے میں لکھتے ہیں:
الحسین بن علی بن ابی طالب الهاشمي أبو عبدالله سبط رسول اللهﷺ وريحانته وهو اخوه الحسن سيدا شباب أهل الجنة مصعب قال حج الحسين خمسا وعشرين حجة ماشيا قالوا وكان الحسين فاضلا كثير الصلاة والصوم والحج والصدقة وأفعال الخير جميعها
 (تهذیب الاسماء: جلد 1 صفحہ 163)
 سیدنا حسینؓ کی کرامت کا ایک واقعہ
آپؓ بڑے صاحبِ کرامت صحابی تھے۔ ابوعون کہتے ہیں: کہ جب سیدنا حسینؓ مکہ کے ارادے سے مدینہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں ان کا گزر عبداللہ ابنِ مطیعؓ کے پاس ہوا، اس وقت وہ اپنا کنواں کھود رہے تھے۔ ابن مطیعؓ نے سیدنا حسینؓ سے عرض کی کہ میں نے اپنے اس کنوئیں کو اس لئے ٹھیک کیا تاکہ اس میں دوبارہ پانی آ جائے لیکن ابھی تک پانی نہیں آیا ہے، ڈول خالی ہی نکلا ہے آپ ہمارے لیے اس کنویں کی برکت کے لئے دعا کر دیں۔
فلو دعوت الله لنا فيها بالبركة.قال: هات من مائها. فأتى من مائها في الدلو، فشرب منه ثم مضمض، ثم رده في البئر، فأعذب وأمهى، ثم ودع وسار إلى مكة.
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 110)
سیدنا حسینؓ نے فرمایا: کنویں کا تھوڑا سا پانی لاؤ، چنانچہ ابن مطیع اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر آپؓ کے پاس آئے، سیدنا حسینؓ نے اس سے تھوڑا پانی پیا پھر کلی فرمائی پھر وہ پانی اس کنویں میں ڈال دیا تو اس کنویں کا پانی میٹھا بھی ہو گیا اور زیادہ بھی ہو گیا۔
سیدناحسینؓ کی تواضع
سیدنا حسینؓ میں تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ آپؓ گھوڑے پر جا رہے تھے، غرباء کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جو زمین پر بیٹھے روٹی کھا رہے تھے، آپؓ نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سیدنا حسینؓ کو پہچان لیا اور کہا اے رسول اللہﷺ کے بیٹے تشریف لائیے! آپؓ گھوڑے سے اتر پڑے اور ان کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ کر کھانے لگے، آپؓ نے اس وقت یہ بھی فرمایا اللہ تعالٰی تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(الجوہرة: جلد 2 صفحہ 213)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کی حکایت ہے کہ آپؓ کے یہاں چند مہمان تھے، کھانے کا وقت آیا، غلام کھانا لایا، اتفاق سے شوربے کا پیالہ لئے ہوئے تھا کہ فرش پر پاؤں پھسلا، پیالے میں سے گرم شوربا آپؓ کے چہرہ مبارک پر گر پڑا، (آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا منظر تھا، اس وقت کے اہلِ جاہ اپنے دل میں ٹٹولیں کہ ایسے موقع پر وہ کیا کرتے ہیں)، آپؓ نے کچھ نہیں کیا مگر مصلحتِ تعلیم نظرِ تادیب سے اس کی طرف دیکھا، اس کی زبان پر فوراً یہ جاری ہو گیا
(وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ)(سورۃ آل عمران: آیت 134)
اللہ کے خاص بندے غصہ کو پینے والے ہیں۔
آپؓ نے فرمایا کظمت غیظی کہ میں نے اپنا غصہ پی لیا،
پھر غلام نے کہا والعافين عن الناس اور وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں،
آپؓ نے فرمایا (عفوت عنك)کہ میں نے تجھے معاف کیا،
پھر اس نے کہا (وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌)
(سورۃ آل عمران: آیت  134)
اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
آپؓ نے فرمایا:
(قد اعتقتك لوجه اللّٰه)
کہ میں نے تجھے اللہ کے واسطے آزاد کیا۔ 
( وعظ الهوی والهدی: صفحہ 23) 
سیدنا حسینؓ کی روایات
سیدنا حسینؓ حضور ﷺ کے وصال کے وقت چونکہ سات سال کے تھے اس لئے آپؓ کو حدیث سننے کے مواقع بہت کم ملے اور اس عمر میں سنے بھی ہوں تو پھر یاد رکھنا بھی کچھ آسان نہیں ہوتا، سیدنا حسینؓ سے آٹھ روایتیں ملتی ہیں، آپؓ نے حضور ﷺ کی وہ احادیث یاد رکھیں اور اسے آگے پہنچایا۔
(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 331)
حافظ ابن عبد البرؒ نے آپؓ سے حضورﷺ کی روایات نقل کیں ہیں:
( دیکھیے استیعاب)
آپؓ نے سیدنا علیؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدہ فاطمہؓ وغیر سے بھی روایات لی ہیں اور آپؓ سے روایت کرنے والوں میں آپؓ کے صاحبزادے علیؒ اور زیدؒ نیز آپ کے بھائی سیدنا حسنؓ صاحبزادی فاطمہؒ اور سکینہؒ اور دیگر حضرات ہیں۔
( دیکھئے تہذیب: جلد 4 صفحہ 345، الاصابہ: جلد 1، صفحہ331)
صفحہ 2 از 3