سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 3 از 3
حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے آپ سے روایت کرنے والوں میں عبید بن حنین، همام الفرزدقؒ، عکرمہؒ، شعبیؒ، طلعۃ عقیلی، آپ کے بھتیجے زید بن الحسنؓ اور آپ کے پوتے محمد باقرؒ کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم مؤخر الذکر بارے میں لکھا کہ انہوں نے آپ کا دور نہیں پایا تھا۔
محمد بن علی الباقر ولم يدركه
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 188) 
مسند احمد کی ایک روایت دیکھیے، یہ روایت آپؓ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؒ آپؓ سے نقل کرتی ہیں:
عن فاطمة ابنة الحسين عن أبيها الحسين بن على عن النبيﷺ قال: ((ما من مسلم ولا مسلمة يصاب بمصيبة فيذكرها وان طال عهدها)) قال عباد ((قدم عهدها فيحدث لذلك استرجاعا إلا جدد الله له عند ذلك فأعطاه مثل أجرها يوم أصيب بها)).
( مسند احمد: جلد 1 صفحہ331 )
امام ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں بھی یہ روایت آپؓ سے نقل کی ہے۔
( دیکھئے صفحہ 166) 
حضرت امام بخاریؒ (256ھ) نے اپنی صحیح میں اور امام احمدؒ (241ھ) نے اپنی مسند میں آپؓ سے مروی روایتوں کو کئی جگہ نقل کیا ہے، ان میں آپؓ سیدنا علیؓ اور حضورﷺ کے مولیٰ ابو رافعؓ سے روایت کرتے ہیں تاہم بعض روایات آپﷺ سے براہِ راست بھی ملتی ہیں۔
عن فاطمة بنت حسين عن أبيها حسين بن على قال قال رسول الله للسائل حق وان جاء على فرس
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ330) 
ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
کہ سائل کا حق ہوتا ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر مانگنے آیا ہو۔
علي بن حسين عن أبيه ( حسين بن علي) أن النبي ﷺ قال البخيل من ذكرت عنده ثم لم يصل على صلى الله عليه وسلم
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 331)
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود (ﷺ) نہ پڑھے۔ 
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ.
 (ايضاً: صفحہ 331)
حضورﷺ نے فرمایا آدمی کے اسلام کی خوبی کم گفتگو اور لایعنی باتوں سے اجتناب کرنا ہے۔
عن ربيعة بن شيبان قال قلت للحسين بن على ما تعقل رسول الله قال صعدت معه غرفة الصدقة فاخذت تمرة فاكلتها في في فقال النبي ألقها فانها لا تحل لنا الصدقة
(ايضاً) 
ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسینؓ سے پوچھا کہ آپؓ کو حضورﷺ کی کوئی بات یاد ہو تو ارشاد فرمائیے! آپؓ نے فرمایا:
ایک دن میں بالاخانہ پر چڑھ گیا تھا وہاں صدقہ کے کھجور پڑے ہوئے تھے ان میں سے میں نے ایک کھجور لیا اور منہ میں ڈالا ہی تھا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اس کو باہر نکال لو اس لئے کہ ہمارے لئے صدقہ کا مال جائز نہیں ہے۔
عن الحسين بن علي عن النبي ﷺ قال الحرب خدعة
(مسند بزار) 
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ جنگ ایک دھوکہ ہے (معلوم نہیں کس وقت کہاں سے کیا معاملہ پیش آ جائے) 
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا في ابن صائد: اختلفتم وأما بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلافًا.
 (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 398) 
حضورﷺ نے ابن صائد کے ذکر میں (لوگوں کے اختلاف کو دیکھتے ہوئے) فرمایا کہ تم لوگ اختلاف میں پڑ گئے حالانکہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں میرے بعد تم لوگ سخت اختلاف بھی دیکھو گے۔
سیرت الرسولﷺ جاننے کا شوق
سیدنا حسینؓ کو حضورﷺ کے حلیہ مبارک اور سیرت مبارکہ معلوم کرنے کا بہت شوق تھا، آپؓ زیادہ سے زیادہ حضورﷺ کے بارے میں جاننے کی طلب رکھتے تھے اور اس بارے میں آپؓ اپنے بڑے بھائی سیدنا حسنؓ پر سبقت لے گئے تھے اس بات کی شہادت خود سیدنا حسنؓ نے دی ہے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ، وَكَانَ وَصَّافًا عَنْ حِلْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَشْتَهِي أَنْ يَصِفَ لِي مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ الْحَسَنُ: «فَكَتَّمْتُهَا الْحُسَيْنَ زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ. فَسَأَلَهُ عَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاهَا عَنْ مَدْخَلِهِ وَمَخْرَجِهِ وَشَكْلِهِ فَلَمْ يَدَعْ مِنْهُ شَيْئًا
(شمائل ترندی: حدیث 337) 
میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہؓ سے حضورﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ حضورﷺ کے حلیہ مبارک کو بہت کثرت اور بہت اچھی طرح بیان کرتے تھے مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ میرے سامنے بھی اس کا بیان کریں چنانچہ آپؓ نے حضورﷺ کا حلیہ مبارک بیان کیا۔ سیدنا حسنؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عرصہ تک سیدنا حسینؓ سے اس کا ذکر نہیں کیا جب ایک عرصہ کے بعد ان کو یہ بات بتلائی تو معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے اس بات کو سن چکے تھے۔ اور یہی نہیں کہ انہوں نے ماموں سے سنا بلکہ سیدنا علیؓ سے حضورﷺ کے گھر جانے اور واپس آنے اور اس کا طرز و طریقہ بھی تفصیل سے معلوم کر چکے تھے۔

صفحہ 3 از 3