Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

سیدنا حسینؓ علم و فضل کے اعلی مقام پر

ارباب سیر اس پر متفق ہیں کہ سیدنا حسینؓ علم و فضل میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ بہت سے لوگ آپؓ سے مسئلہ پوچھتے اور آپؓ ان کے فقہی سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ علامہ ابن قیم حنبلیؒ (751ھ) نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو فتویٰ دیتے تھے تاہم ان کی تعداد کم روایت ہوئی ہے۔

والباقون منهم مُقِلُّون في الفتيا، لا يُروى عن الواحد منهم إلا المسألة والمسألتان، والزيادة اليسيرة على ذلك؛ يمكن أن يُجمع من فتيا جميعهم جزءٌ صغير فقط، بعد التقصّي والبحث، وهم: أبو الدَّرْداء، وأبو اليُسر، وأبو سَلَمَة المخزوميّ، وأبو عُبَيدة بن الجَرَّاح، وسعيد بن زيد، والحسن والحسين ابنا علي،۔۔۔،الخ

( دیکھئے اعلام الموقعین: جلد2، صفحہ19)

✰_ سیدنا حسینؓ اپنے وقت کے بڑے خطیب تھے اور آپؓ کو یہ فن اپنے والد محترم سے ملا تھا، آپؓ کے بعض خطبات اس کے شاہد ہیں۔ مسجد نبوی میں آپؓ کی مجلس لگا کرتی تھی جس میں دور دور سے لوگ آتے اور آپؓ سے فیض لیتے تھے۔

ایک مرتبہ سیدنا معاویہؓ نے ایک آدمی کسی کام کے لئے مدینہ منورہ بھیجا تو اس سے کہا کہ جب تم مسجد نبوی جاؤ گے تو وہاں دیکھو گے کہ ایک علمی مجلس قائم ہے اور وہ مجلس اس قدر پروقار اور پر سکون ہو گی کہ جیسے پرندے ان سب کے سروں پر بیٹھے ہوں تو سمجھ لینا کہ یہ سیدنا حسینؓ کا حلقہ ہے۔

( تہذیب تاریخ ابن عساکر: صفحہ 322)

شمس الائمہ امام سرخسیؒ نے سیرِ کبیر میں آپؓ سے کئے گئے سوالات کے جوابات نقل کئے ہیں۔

سیدنا حسینؓ کے اہل و عیال

✰_  سیدنا حسینؓ نے متعدد شادیاں کیں اور ان سے اولادیں میں بھی ہوئیں۔ آپؓ کے تین صاحبزادے آپؓ کے ساتھ کربلاء میں شہید ہوئے سیدنا زین العابدینؒ (سیدنا علیؒ بن الحسینؓ) باقی رہ گئے، ان سے آپؓ کی نسل آگے چلی اور اللّٰہ نے اس نسل میں برکت ڈالی۔

✰ سیدنا  علیؒ بن حسینؓ (سیدنا زین العابدینؒ) خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ اور کثیر الحدیث محدث اور فقیہ ہیں۔ کثرتِ عبادت کی وجہ سے آپؒ کو "زین العابدین" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللّٰه تعالٰی نے آپ کو بہت اونچا رتبہ اور مقام عطا فرمایا تھا اور علماء اسلام کے ہاں آپؒ بہت زیادہ مناقب و فضائل کے حامل بزرگ ہوئے ہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

وقال: (وأما ثناء العلماء على علي بن الحسين ومناقبه فكثيرة...)

(منهاج: جلد 7، صفحہ 534 )

حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے زین العابدینؒ سے زیادہ خشیت الٰہی رکھنے والا شخص نہیں دیکھا۔

(حلیۃ الاولیاء )

اللّٰہ تعالٰی نے آپؒ کے اوقات میں بہت برکت اتاری تھی، حضرت امام مالکؒ کا بیان ہے کہ آپؒ روزانہ ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، آپؒ کا یہ معمول موت تک رہا۔

انه كان يصلى في كل يوم وليلة ألف ركعة إلى أن مات

( تہذيب: جلد  7، صفحہ306 / سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770)

امام زہریؒ کا بیان ہے کہ آپؒ بڑے اونچے درجہ کے فقیہ تھے، تاہم آپؒ بہت کم گو تھے۔

(ایضاً)

آپؒ کو صدقہ خیرات کرنا بہت محبوب تھا اور آپؒ کبھی تو اپنا سارا مال اللّٰہ کے رستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔

(حلیۃ الاولیاء: جلد 3، صفحہ 140)

شعبہ بن نعامہؒ کا بیان ہے کہ آپؒ کی وفات پر لوگوں کو پتہ چلا کہ آپؒ تو مدینہ منورہ کے سو سے زائد گھرانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔

(طبقات: جلد 5، صفحہ222/ منہاج: جلد 4، صفحہ 49)

آپؒ خود اپنی کمر پر اناج وغیرہ لے کر جایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپؒ کی کمر پر کچھ نشانات بھی پڑ گئے تھے۔

(حلیۃ الاولیاء )

محمد ابن سعد آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

كان ثقة مامونا كثير الحديث عاليا رفيعا ورعا

(سير اعلام النبلاء: 2768/ تہذیب: جلد 7، صفحہ 305)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ (728ھ) آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

وقال ابن تيمية (أما علي بن الحسين، فمن كبار التابعين وساداتهم علماً وديناً،

(منہاج السنة: جلد 4، صفحہ 49)

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) تقریب میں لکھتے ہیں: ثقة ثبت عابد فقيه فاضل مشهور

( تقريب التهذيب)

آپؒ کی حدیث کی مجلس مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی، آپؒ کے قریب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے مولیٰ سلیمان بن یسار ہلالیؒ کی مجلس حدیث رہتی، سلیمان بن یسارؓ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں۔ یزید بن حازمؒ اس مجلس میں جایا کرتے تھے اور اس مجلس کے عینی شاہد تھے، وہ فرماتے ہیں:

رأيت على بن حسين وسليمان بن يسار يجلسان بين القبر و المنبر يتحدثان إلى أن ارتفاع الضحى ويتذاكرون فإذا أراد أن يقوما قرء عليهم عبدالله بن أبي سلمة سورة فإذا فرغ دعوا

(طبقات ابن سعد: جلد 5، صفحہ 217)

میں نے سیدنا علی بن حسینؓ اور سیدنا سلیمانؒ کو دیکھا ہے، دونوں مسجدِ نبوی میں حضورﷺ کے روضہ اطہر اور منبر شریف کے درمیان بیٹھتے تھے اور دن چڑھے تک حدیث کی روایت اور اس کا مذاکرہ کرتے تھے اور جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو عبد الله ابن ابی سلمہؒ قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتے اس کے بعد یہ دونوں حضرات دعا کرتے تھے. آپؒ روزانہ نماز عشاء کے بعد مسجد نبوی کے آخر حصہ میں بھی بیٹھا کرتے تھے آپؒ کےساتھ سیدنا عروہ بن زبیرؓ بھی ہوتے تھے۔ (طبقات ابن سعد )

اور لوگ آپؒ کی اس مجلس سے مستفید ہوا کرتے تھے.

ایک مرتبہ لوگوں نے آپؒ سے کہا کہ آپؒ ان لوگوں کی مجلس میں کیوں بیٹھتے ہیں جو مرتبہ میں آپؒ کے برابر نہیں ہیں؟ آپؒ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھ کو دینی نفع ملتا ہے.

إني أجالس من انتفع بمجالسته فی دینی

(تہذیب جلد 7 صفحہ 305)

آپؒ کے شیوخِ حدیث میں آپؒ کے والد محترم اور سیدنا عبدالله بن عباسؓ، مسور بن مخرمۃؓ، ابو رافعؓ، ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ، ام المؤمنین  ام سلمۃؓ، ام المؤمنین حضرت صفيةؓ، مروان بن حکمؒ، سعید بن مسیبؒ وغیر ہم ہیں۔

(منہاج السنة: جلد 4، صفحہ 48 )

فضيل بن مرزوق نے سیدنا زین العابدینؒ سے پوچھا کہ کیا اہل بیت میں کوئی ایسا آدمی ہے جس کی اطاعت امت پر فرض قرار دی گئی ہو؟ آپؒ نے کہا: نہیں اہل بیت میں کوئی ایسا نہیں جو مفترض الطاعت ہو، جو شخص ایسی باتیں کرتا ہے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا آدمی ہے. فضیل نے پوچھا کہ روافض(شیعہ) یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے لئے اور سیدنا علیؓ نے سیدنا حسن ؓ کے لئے اور سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ کے لئے (علی ھذا القیاس) امامت کی وصیت کی تھی ( کہ ان کے بعد یہ اور ان کے بعد وہ امام ہوں گے). آپؒ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میرے والد کا اس حال میں انتقال ہوا کہ انہوں نے اس باب میں دو حرف کی بھی وصیت نہ کی تھی، جو لوگ(شیعہ) اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ہماری طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اہل بیت کے نام پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔

( تہذیب الکمال: جلد 20، صفحہ 396)

ایک مرتبہ کسی نے آپؒ سے سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے بارے میں پوچھا کہ آپؒ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپؒ نے حضور ﷺ کے روضہ اطہر کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا کہ ان کے مقام و مرتبہ کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ سرور دو عالم رسول اکرم حضرت محمد رسول الله ﷺ کے ساتھ آرام فرما ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770 تہذیب جلد 7 صفحہ 306)

سیدنا زین العابدینؒ کے صاحبزادے سیدنا محمد باقرؒ کہتے ہیں میں اپنے والد سیدنا زین العابدینؒ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بنی امیہ کی اقتداء میں بغیر کسی تقیہ کے نمازیں پڑھا کرتے تھے اور ہمارا بھی یہی معمول ہے

( طبقات: جلد 5، صفحہ 216)

آپؒ کی وفات 94ھ کو مدینہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں آپؒ کی تدفین عمل میں آئی۔

(نوٹ) جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعہ گروہ امامت کے عنوان پر ایک دوسرے کے مقابل آ گیا اور ہر کوئی اپنی پسندیدہ شخصیت کو امام بتانے لگا اس طرح سیدنا علیؒ بن حسینؓ کی وفات کے بعد بھی امامت کے مسئلہ پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔ شیعہ روایات بتاتی ہیں کہ آپؒ کی وفات کے بعد آپؒ کے صاحبزادہ حضرت زیدؒ نے دعویٰ امامت کر دیا (ان کی امامت کے قائلین کو زیدیہ کہا جاتا ہے ) اور وہ چالیس ہزار کا لشکر لے کر عراق کے حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر ان میں سے تیس ہزار نے عین موقع پر آپؒ سے بے وفائی کر لی اور حضرت زیدؒ شہید کر دئے گئے۔ انہی دنوں کچھ لوگ سیدنا حسن مثنیؒ بن سیدنا حسنؓ بن علیؓ کی امامت کے قائل ہوئے ان کے بعد ان کے بیٹے عبداللہؒ پھر ان کے بعد ان کے پوتے محمد نفس ذکیہؒ کی امامت کے قائل ہوئے اور انہوں نے آپؒ کو امام مهدی سمجھا. ایک گروہ سیدنا زین العابدینؒ کے بعد آپؒ کے دوسرے بیٹے سيدنا محمد باقرؒ کی امامت کا قائل ہوا اس گروہ میں چار لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں حضرت جعفر صادق رحمه الله کہتےہیں کہ وہ اگر نہ ہوتے تو ہمارا کہیں ذکر بھی نہ ہوتا۔ زرارہ ،ابوبصیر- محمد بن مسلم، برید بن معاویہ

(دیکھئے رجال کشی صفحہ 136)

ہم اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ ان چاروں نے اہل بیت نبوت کے نام پر کسی قدر شرمناک تماشا برپا کیا اور ان بزرگوں کے نام سے کتنی شرمناک روایات وضع کرڈالیں یہ بات خود شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب ان بزرگوں کو ان کی خرافات کا پتہ چلتا تو وہ ان پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے اور ان کو پرلے درجے کا جھوٹا کہتے تھے۔

✰سیدنا حسین ؓ کی ایک بیٹی فاطمہ کا نکاح حسن مثنیؒ سے ہوا جو آپؓ کے بھتیجے تھے ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبد الله بن عمروؓ سے ان کی شادی ہوئی۔

آپؓ کی دوسری صاحبزادی سکینہؓ کی شادی عبدالله الحسن سے ہوئی تھی مگر رخصتی سے قبل عبدالله فوت ہو گئے پھر ان کا نکاح مصعب بن زبیر سے ہوا، ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے حضرت زید بن عمرو سے ان کا نکاح ہوا۔

یاد رہے کہ سیدنا حسنؓ کی دونوں بیٹیاں بھی سیدنا عثمانؓ کے خاندان میں بیاہی گئیں، ان نکاحوں کی تصریح شیعہ کی معتبر کتابوں تذکرہ سبط ابن جوزی  اور منتخب التواریخ صفحہ 241 طبع ایران میں موجود ہے اور شیعہ مؤرخ امیر علی نے بھی اپنی کتاب تاریخ صحرانشیناں (صفحہ 202 حاشیہ ) پر سیدہ سکینہ بنت الحسینؓ کے سیدنا عثمانؓ کے پوتے کے نکاح میں آنے کو صریح لفظوں میں تسلیم کیا ہے۔

( عبقات 216)

حضور ﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی پیشگوئی پہلے ہی فرمادی تھی چنانچہ آپؓ کی شہادت دس محرم 61ھ جمعہ کے دن ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 57 سال اور ساڑھے چھ ماہ تھی۔ آپؓ کا مزار مبارک عراق میں مرجع خلائق ہے اور ہزارھا لوگ دن رات آپؓ کے مزار پر سلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور آپ کے لئے ایصال ثواب کرتے ہیں .

علامہ عزالدین ابن اثیرؒ لکھتے ہیں:

و قبره مشهور يزار

(اسد الغابة: جلد 2، صفحہ 27)

آپ کی قبر مشہور اور زیارت گاہ خلائق خاص وعام ہے.

وقبره مشهور يزار به ويتبرك به وحزن الناس عليه كثيرا واكثروا في المراثي

( تهذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 163 )

اللّٰہ تعالٰی نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ بتولؓ سیدنا حسینؓ کی قبر مبارک کو نور سے منور فرمائے آپؓ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور سب مسلمانوں کی جانب سے آپؓ کو بہترین جزاء عطا فرمائے آمین۔