Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

  ابو روافض وقاص علی حیدری

حصہ اول

۔حدیث عشرہ مبشرہ  پر پہلا اعتراض یہ کیا گیا کہ چونکہ اس میں شامل حضرت سعد بن ابی وقاص علیہ السلام  کو اس کا علم نہیں تھا اس لیے حدیث غلط ہے۔

1.جب کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رسول اللہ سے اپنے سننے کی حضرت عبداللہ بن سلام کے جنتی ہونے کے علاوہ نفی فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ سے حضرت عبداللہ بن سلام کے علاوہ جنتی ہونے کے بارے میں کسی اور کا نہیں سنا۔

اس کا یہ کیسے مطلب ہوگیا  کہ رسول اللہ سے کسی نے بھی عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی خوشخبری نہیں سنی۔کسی ایک صحابی رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کسی ایک بات کا علم ہونا اور دوسرے کو نہ ہونا پہلے والے کے علم کی نفی نہیں ہوتی۔

2. اگر حضرت سعد بن ابی وقاص علیہ السلام  یہ فرماتے کہ  رسول اللہ  نے کسی  بھی صحابی  کے جنتی ہونے کی بشارت نہیں دی سوائے حضرت عبداللہ بن سلام کے پھر معترض کا اعتراض ٹھیک تھا ۔مثال کے طور  پر حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر علیہ السلام فرماتے  تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا  حسن اور حسین میرے دنیا کے پھول ہیں جامع ترمذی جلد دوم ابواب المناقب۔

اب اگر حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام یہ کہہ دیں کہ یہ فرمان ہم نے نہیں سنا اور حضرت عبداللہ بن عمر علیہ السلام کہ دیں میں نے سنا۔نہ تو اس سے حضرت عبداللہ بن عمر علیہ السلام  کی طرف سے رسول اللہ کی زبان مبارک  سے اس حدیث کی سماعت کی نفی  ہوسکتی،اور نہ حضرات حسنین کریمین علیہما السلام کی بات غلط  ہے ۔

دونوں باتیں اپنی جگہ پر حق ہیں۔صرف سوچ کا اینگل درست ہونا چاہیے ورنہ امامیہ مزہب کے مصادر سے ہر درست روایت کو غلط رنگ دے کر بات کا بتنگڑ بنایا جا سکتا ہے۔بشرطیکہ درست روایات ہوں۔

3. بنیادی طور پر یہ حدیث عشرہ مبشرہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی جن کی روایت کا معترض غلط مطلب بیان کر رہا ہے ۔

بلکہ یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعید بن زید علیہاالسلام نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ

 آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وصحابہ وسلم نے فرمایا

ابو بکر جنت میں،عمر جنت میں،عثمان جنت میں،علی جنت میں، طلحہ جنت میں،زبیر جنت میں،عبدالرحمن بن عوف جنت میں،سعد بن ابی وقاص جنت میں،سعید بن زید جنت میں اور  ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں جائیں گے۔

جامع ترمذی جلد دوم باب المناقب۔

 

 

حصہ دوم 

۔تاریخ طبری کے حوالے  سے حدیث عشرہ مبشرہ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس حدیث میں شامل جنتی صحابہ کرام کو حضرت عمر فاروق علیہ السلام نے مسئلہ خلافت کے خلاف کرنے کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

جبکہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے اس کا ایک راوی لوط بن یحیی ابی  مخنف ہے جو پرلے درجے کا جھوٹا کذاب اور ضعیف راوی تھا جمہور محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا  ہےاس روایت کا دوسرا راوی محمد بن عبداللہ انصاری  ہے جس کو امام عقیلی نے منکر الحدیث کہا ہے ،امام ابن حبان نے منکر حدیث کہا ہے اور امام ابن طاہر  نے جھوٹا کہا ہے۔اس روایت کا تیسرا راوی جناب اعمش  ہیں جو تدلیس کی وجہ سے مشہور  ہیں اگر وہ سماع کی تصریح راوی سے نہ کریں تو ان کی روایت حجت نہیں ہوتی اور یہاں سماع کی تصریح نہیں ہے بلکہ  ابراہیم  سے جناب  اعمش   سماع کی تصریح کے بغیر روایت کرتے ہیں۔

ان  علتوں کی وجہ  سے معترض کی یہ طبری کی روایت حجت نہیں۔

ملاحظہ ہو میزان الاعتدال جلد پنجم صفحہ 508, میزان الاعتدال ترجمہ محمد بن عبداللہ انصاری, تاریخ طبری جلد دوم صفحہ 687.

 حصہ سوم

اس حدیث مبارکہ میں شامل حضرت حضرت طلحہ علیہ السلام اور حضرت زبیر علیہ السلام پر معترض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ دونوں شخصیات حضرت عثمان علیہ السلام کی شہادت میں شریک تھے اور جو حوالہ جات پیش کیے گئے ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہ ان دو شخصیات نےحضرت عثمان علیہ السلام کو شہید کیا تفصیل اس کی درج ذیل ہے۔

 نمبر1:

 تاریخ طبری کے اندر جو روایت ہے اس میں بھی قتل کا ذکر نہین اور باقی راویوں پر بحث کے علاوہ بھی  محمد بن عمر واقدی بھی اس روایت میں موجود ہے اور اس کی روایت  پیش ہی نہیں کی جاسکتی محدثین نے اس پر سخت جرح نقل کی ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں یہ کذاب  ہے امام ابن معین فرماتے ہیں یہ ثقہ نہیں  ہے ،امام بخاری کہتے ہیں یہ متروک ہے

امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ روایت گھڑتا تھا، امام دارقطنی فرماتے ہیں یہ ضعیف ہے۔ملاحظہ ہو میزان الاعتدال جلد 7 ص 273 میم۔

۔کامل ابن اثیر میں علیحدہ سند نہیں وہ بھی تاریخ طبری کا ہی چربہ ہے۔اس لئے اس کا جواب کی ضرورت ہی نہیں۔

نمبر 2:

 الاستیعاب  جلد دوم کی جو روایت پیش کی گئی ہے اس میں جناب امام عبدالرحمن بن مہدی ہیں جن سے علامہ ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں جبکہ امام عبدالرحمن بن مہدی  سے علامہ ابن عبدالبر کی ملاقات ہی ثابت نہیں اس لیے یہ روایت ہی منقطع ہے امام امام عبدالرحمان 198 میں وفات پا گئے تھے اور علامہ ابن عبدالبر ان کے سو سال سے زائد عرصہ بعد پیدا ہوئے ملاحظہ ہو الاستیعاب جلد اول مقدمہ۔

 دوسری بات یہ ہے کہ  علامہ ابن عبدالبر نے خود لکھا  ہے کہ مروان کا یہ وہم تھا کہ حضرت طلحہ علیہ السلام امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان علیہ السلام کی شہادت میں ملوث ہیں۔چنانچہ علامہ ابن عبدالبر لکھتے  ہیں 

 ‏‏فیما زعموا۔۔۔یہ مروان کا وہم ہے۔ملاحظہ ہو الاستیعاب جلد دوم صفحہ 318.

  تیسری بات یہ ہے کہ مروان والی روایت   میں یہ ساری گفتگو علامہ ابن عبدالبر نے ویقال۔۔۔سے شروع  کی ۔سکین لگا دوں گا اس میں دیکھ لیں۔اس کا مطلب ہے کہا گیا  ہے کیا پتا کس نے کہا ،کون تھا ،کیسا آدمی تھا ،ثقہ  تھا ،جھوٹاتھا۔اس علت کی وجہ سے بھی یہ روایت نہیں پیش کی جاسکتی۔

 چوتھی بات یہ ہے کہ حضرت طلحہ علیہ السلام نے اپنے آپ کو  ہرگز یہ نہیں کہا کہ میں نے حضرت امیر المومنین سیدنا عثمان علیہ السلام کو شہید کیا بلکہ آپ نے ندامت کا اظہار اس وجہ سےکیا  کہ آپ ان کی مدد نہ کرسکے اس لیے آپ نے اللہ سے دعا کی کی کیا اللہ آپ ان کا بدلہ مجھ سے لے کر راضی ہو جائیں۔اور یہ روایت ہے ہی منقطع جس کی تفصیل بتا دی گئی ہے۔

 نمبر3:

طبقات ابن سعد کی جو روایت معترض نے پیش کی ہے وہ بھی قابل حجت  نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ

 اول۔اس میں ایک راوی عوف ہے اس کے بارے میں میزان الاعتدال میں موجود ہے کہ یہ قدری، رافصی شیطان تھا۔اور ایسا راوی اگر ثقہ بھی ثابت ہوجائے تو  بھی اس کی وہ روایت جو اس کے مذہب اور نظریہ کی تائید کرتی ہو وہ رد کر دی جائے گی ۔

دوم ۔دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں۔۔ بلغنیی ان مروان۔۔ کے الفاظ عوف کہتا ہے کہ مجھے مروان بن الحکم کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے۔۔اگر یہ بات پہنچانے والا کون ہے، ہے اس کا علم روایت کے اندر نہیں۔پس اس لحاظ سے ایک راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے بھی حجت نہیں ہے۔ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد جلد سوم صفحہ 119۔

سوم۔عوف کی مروان بن الحکم سے ملاقات بھی ثابت نہیں۔

 نمبر 4:


امامت و سیاست۔اس کتاب کا بھی  حوالا معترض نے دیا ہے یہ جس مصنف کی طرف منسوب  ہے اس کی یہ کتاب ثابت ہی نہیں۔

اس کے علاوہ اس کی روایت کی سند ثابت ہی نہیں۔

تیسرا یہ کہ خود امامت و سیاست کے مصنف کے بارے میں (بشرطیکہ وہ اس کتاب کا مصنف ثابت بھی ہو) امام حاکم فرماتے ہیں کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قتیبہ کزاب ہے۔ملاحظہ ہو میزان الاعتدال جلد 

 نمبر 5: 


ممکن ہےتاریخ میں ڈھونڈنے سے ایسے حوالے مل جائیں گے  جن میں امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان علیہ السلام کے قاتلین میں حضرت مولا علی علیہ السلام کانام بھی صحابہ کرام کے علاوہ لوگوں نے لیا کیونکہ کہ ہر شخص کو مکمل حالات کا پتہ نہیں تھا قاتلین امیرالمومنین  سیدنا عثمان علیہ السلام  مولا علی علیہ السلام کے لشکر میں چلے گئے اور دوسرا قرینہ عام لوگوں کے پاس یہ تھا کہ جناب مولا علی علیہ السلام فورن خلیفہ بھی بن گئے شک تو جاتا تھا۔

لیکن یہ ثابت نہیں کہ مولا علی علیہ السلام نے یہ کام کیا اور آپ علیہ السلام نے اس فعل سے برات کا اعلان بھی فرمایا تھا۔

اس لئے ہم اہل سنت والجماعت مولا علی علیہ السلام سمیت تمام صحابہ کرام میں سے کسی پر بھی خلیفتہ المومنین مظلوم مدینہ سیدنا عثمان بن عفان علیہ السلام کی شہادت کا الزام نہیں لگاتے

کسی کے بارے میں جرم ثابت ہونا  اور ہے اور ایسا مشہور  ہونا اور ہے

مثال کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام جب کوہ طور سے واپس آئے تو سارا غصہ قوم کے بگڑنے کا حضرت ہارون علیہ السلام پر اتارا لیکن ان کا کوئی قصور نہیں تھا یہ حالات دیکھ کر انہوں نے ایسا کیا۔

حصہ چہارم

نمبر:1

حضرت علی علیہ السلام کا قتل امیرالمومنین کا الزام لگانے کے لیے معترض نے نہج البلاغہ کا حوالہ دیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب ہمارے نزدیک  غیر معتبر ہے دوسری بات یہ ہے کہ نہج البلاغہ کے اندر اس روایت کی سند ہی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کو نہ تحقیقی جواب کے زمرے میں پیش کیا جا سکتا ہے نہ الزامی۔

 

نمبر 2:

اول 

خود  مولا علی علیہ السلام نے حضرت طلحہ و زبیر علیہم السلام کے لیے جنت کی خوشخبری  امام الانبیاء خاتم المعصومین حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی چنانچہ آ پ۔رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  اپنے کانوں سے سنا ہے کہ 

طلحہ و زبیر جنت میں میرے پڑوسی ہوں گے۔

ملاحظہ ہو جامع ترمذی جلد دوم ابواب المناقب صفحہ719.

دوم

خود امامیہ کتاب میں موجود ہے کہ حضرت مولا علی علیہ السلام کوجب حضرت علی علیہ السلام کے شھادت کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے یہ چاہا کی طلحہ میری بیعت کے بغیر ہی  جنت میں چلا جائے۔

ملاحظہ ہو روزہ تو صفحہ جلد دوم صفحہ 487.

سوم

اسی طرح  جب مولا علی علیہ السلام کے سامنے حضرت زبیر علیہ السلام کے قاتل آپ علیہ السلام  آیا  تو اس کو آپ  نے  فرمایا

بشر وہ بالنار۔

ترجمہ۔اسے جہنم کی بشارت دے دو۔

ملاحظہ ہو المستدرک جلد سوم  رقم .5578., مسند ابی داود الطیالسی جلد اول صفحہ 137 رقم 158, مسند احمد جلد دوم صفحہ 185 ۔

اس کے علاوہ یہ روایت شیعہ کتب میں بھی موجود  ہے ملاحظہ ہو اخبار الطوال صفحہ49. مروج الذھب صفحہ 364 روضتہ الصفا جلد دوم صفحہ487.

چہارم

اور اسی طرح مولا علی علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کے قتل شہادت کے بعد بعد قرآن مجید کی سورہ حجر کی آیت نمبر 47 سے استدلال کر کے جنتی تسلیم کیا چنانچہ آپ نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا کہ میں اور طلحہ انہی لوگوں میں سے ہوں گے یہ سن کر پاس بیٹھے دو  سبائیوں نے مولا علی پر اعتراض کیا کہ خود ان کو قتل بھی کرتے ہو اور ان کو جنتی بھی کہ کر بھائی بھی مانتے ہو۔؟

اس پر مولا علی علیہ السلام کو غصہ آگیا کیا اور آپ نے اتنی آواز سے فرمایا کہ پورا محل گونج گیا آپ نے فرمایا جاؤ  اس زمین سے دور  ہو جاؤ اگر اس آیت کے تحت جنت میں جانے والے میں اور  طلحہ نہیں تو بتاؤ اور کون ہے؟

ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد جلد سوم  119,120

پنجم

اگر اسی طرح آپ تاریخی کتب سےقاتل تلاش کرنے  ہی ہیں تو لیجئے شوق پورا کیجئے  یہ لیں یہ سارے قاتل مولا علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے

جب ان لوگوں نے صدیقہ کائنات مولا علی علیہ السلام کی روحانی ماں جناب اماں عائشہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ صلح دیکھی اور مولا علی علیہ السلام نے اپنے لشکر کو مخاطب کرکے فرمایا 

جن لوگوں نے حضرت عثمان علیہ السلام کی قتل میں میں کسی قسم کی بھی مدد کی وہ میرے ساتھ نہ آئے آئیے مولا علی علیہ السلام ن

کا یہ فرمانا تھا کہ ان کے لشکر میں شامل ان باغیوں نے سر جوڑ لیے جنہوں نے امیر المومنین کو شہید کیا تھا  اور ان میں جو سب سے بڑے سرغنہ ماسٹر مائنڈ باغی  تھے ان  میں عبداللہ بن سبا ،اشتر ،شریح بن اوفی،سالم بن ثعلبہ

اور کہنے لگی کہ ہمیں اطلاع اور زبیر کی رائے تو پہلے سے معلوم تھی تھی آئیے آج سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے اگر ان دونوں کی صلح کرلی تو یہ  ہمارےخون پر صلح 

عبد اللہ بن سباء نےیہ بھی کہا کہا کہ ہم پچیس سو ہیں اور طلحہ اور زبیر ر اور ان کے ساتھی 5000 ہیں

ملاحظہ ہو البدایہ والنہایہ  جلد سوم صفحہ1484.

ثابت ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام کے مطابق قاتل ان کے اپنے لشکر میں تھے اور عبداللہ بن سبا اور ان کے ساتھیوں کی کی بیانات سے بھی پتہ چلا کہ قاتل وہ خود ہی تھے اور جناب طلحہ اور زبیر علیہم السلام تو مسلم۔بین الفریقین  صدیقہ کائنات سلام اللہ علیہا کے لشکر میں تھے۔

نمبر 3:

معترض نےحدیث عشرہ مبشرہ پر یہ  بھی اعتراض کیا ہے کہ حضرت عثمان علیہ السلام کو آگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی تو جب آپ کے گھر کا محاصرہ ہوا تو آپ نے بلوائیوں،باغیوں کو یہ حدیث کیوں نہ سنائی

جواب۔کسی جگہ کسی حدیث کا نہ بیان کرنا اس کی عدم ثبوت پر دلالت نہیں کرتا 

جیسے سیدنا امام حسین علیہ السلام کو جب شہید کیا گیا اس وقت آپ نے اپنے جنتی ہونے کی احادیث مبارکہ اپنے  قاتلین کو نہیں سنائیں اس کے علاوہ  امامیہ حضرات کے بارہ اماموں میں سے جن کو شہید کیا گیا انہوں نے بھی آپنے قاتلین کو ایسی کوئی دلیل نہیں دی  جن سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوتا تھا۔

 حصہ پنجم۔

نمبر 1:

معترض نے یہ بھی کہا ہے کے امام اول خلیفہ بلا فصل امیرالمومنین جناب ابو بکر صدیق علیہ السلام نے سقیفہ میں اپنے جنتی ہونے کی حدیث پیش کیوں نہ کی اس کا جواب ایک تو اوپر والے حصہ چہارم میں دے دیا گیا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ جب خلیفہ بلا فصل کے ہاتھ پر سب لوگوں نے بیعت کر لی تو اس حدیث کے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔

نمبر 2:

معترض نے حضرت ابو بکر صدیق علیہ السلام اور  حضرت عمر فاروق علیہ السلام کے بارے میں یہ لکھا کہ اگر ان کو جنت کی بشارت دی گئی تھی تو وہ آخرت کے حساب کتاب  سے کیوں ڈرتے  تھے اس کا جواب تفصیل ملاحظہ ہو 

اول۔اللہ تعالی کے سامنے عاجزی اختیار کرنا اور خشوع کا اظہار کرنا،اور اللہ کے سامنے  پیش ہونے کے بارے میں فکر کرنا کوئی عیب کی بات نہیں اور اس سے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی فضیلتوں کی نفی نہیں ہوتی۔

۔خود امامیہ مذہب کے معتبر عالم  محمد شریف مرتضی علم الہدی نے انبیاء کرام کے بارے میں قرآن مجید میں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر ان کی عصمت کی نفی کرتے ہیں انکی تاویل جناب نے اپنی کتاب میں کی اور اس کتاب کے مترجمین اور حاشیہ نگار نے بھی  جناب آ دم علیہ السلام کا اللّٰہ سے مغفرت طلب کرنے والی آیات کی تاویل میں لکھا کہ

حضرت آدم کا ادنی لغزش سے طلب مغفرت کرنا  بغرض اظہار عبدیت و خشوع و خضوع تھا ۔  ملاحظہ کتاب تنزیہ الانبیاء ولآئمہ صفحہ 36۔

دوم

جب حضرت فاروق اعظم علیہ السلام کا جنازہ رکھا گیا تو مولا علی علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ اس جیسے اعمال کے ساتھ اللہ سے ملنے کی آرزو کروں اور اللہ کی قسم مجھے پہلے ہی سے یہ خیال تھا کہ آپ کو اللہ تعالی آپ کے صاحبین (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق علیہ السلام)  کے ساتھ کردے گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں گیا اور ابو بکر وعمر گئے میں داخل ہوا اور ابو بکر اور عمر داخل ہوئے  اور ابو بکر اور عمر نکلے۔

ملاحظہ ہو صحیح بخاری جلد دوم کتاب المناقب ،مسند احمد جلد اول مسانید علی ابن ابی طالب جلد اول امستدرک حاکم جلد سوم،

اس کے علاوہ اعمال فاروق علیہ السلام والی روایت  امامیہ کی کتب میں بھی موجود ہے

ملاحظہ ہو معانی الاخبار صفحہ۔117,باب 245., کتاب الشافی صفحہ 171،تلخیص شافی صفحہ ۔428 میں بھی موجود ہے۔

نوٹ۔اس روایت میں مولا علی علیہ السلام نے آرزو کی تھی میں حضرت فاروق اعظم علیہ السلام والے اعمال لے کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہوں۔جس ہستی کے اعمال حاصل کرنے کی آرزو مولا علی علیہ السلام کریں  وہ جنتی نہیں ہے تو دنیا میں جنتی اور کون ہو سکتا ہے۔

 اور دوسرا اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق علیہ السلام کو بھی آپ جلنتی مانتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ان کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرمایا ۔آپ کے الفاظ ساتھ کر دے گا کا یہی مطلب ہے۔

سوم
۔امام الانبیاء علیہ السلام کنفرم جنتی  ہیں اس کے باوجود آپ فرماتے ہیں مجھے کیسے خوشی آ ے حالانکہ

صور والےفرشتے نے صور لیا اور وہ کان لگائے اس انتظار میں ہیں کہ کب اسے پھونکنے کا حکم ہوتا ہےملاحظہ ہو ۔

جامع ترمذی جلد دوم ابواب صفۃ القیامۃ صفحہ 139 رئیس

چہارم

دنیا میں اللہ کے خوف سے رونا کوئی عیب نہیں بلکہ یہ فضیلت کا باعث ہےمذہب امامیہ کی معتبر کتاب خصال میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تین آدمیوں کے علاوہ ہر شخص روتا ہوگا ایک وہ جو دنیا میں اللہ کے خوف سے رویا ہو۔ملاحظہ ہو کتاب الخصال جلد اول صفحہ 185 ۔

پنجم 

حضرت مولا علی علیہ السلام نے وقت شہادت حضرت امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا یا حسن میں تمہیں اس طرح وصیت کرتا ہوں جس طرح مجھے رسول خدا نے وصیت کی ہے اے فرزند جب میں دنیا سے مفارقت کروں اور میرے اصحاب تم سے موافق نہ رہیں اس وقت اپنے گناہوں پر رونا اور دنیا کو مقصور بزرگ نہ قرار دینا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ خداوند جبار سے پنہاں و آشکار خائف رہنا ۔

ملاحظہ ہو امامیہ مزہب کی کتاب جلاء العیون جلد اول صفحہ نمبر 296 ،297

نوٹ۔جس معترض نے حضرت حضرت صدیق اکبر علیہ السلام حضرت عمر فاروق علیہ السلام سلام کے وقت وفات پر جو باتیں نقل کرکے ان کے جنتی ہونے کی نفی کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اس کے اصول سے ان کے اپنے پہلے اور دوسرے امام  جنت سے فارغ ہوگئے۔

ششم

۔امامیہ مذہب کی معتبر کتاب صحیفہ سجادیہ میں موجود  ہیں کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا

اناالزی  افنت الزنوب عمرہ ۔

میں وہ شخص ہو جس کی عمر گناہوں میں تمام ہوئی۔

اس کے علاوہ امام زین العابدین نے اپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا بھی اللہ سے کی اور آخرت کے انجام کی فکر  بھی کی۔

اس صورت میں بقول معترض کے اصول کے امام زین العابدین کنفرم جنتی  ہیں تو یہ سوال ان کے جنتی ہونے پر بھی ہوسکتا ہے کہ جس کو جنت کی بشارت ملی ہو ،کنفرم جنتی ہوں جو وارث جنت ہو وہ بھلا کیسے اپنے گناہوں کی بخشش اور آخرت کی فکر کر سکتا ہے۔

ملاحظہ ہو صحیفہ سجادیہ ۔

 ہفتم

امام حسن علیہ السلام نے  وقت وفات روتے  ہوئے فرمایا  میں دو باتوں کے لیے روتا ہوں ایک وہ جو حالت آنے والی ہے یعنی برزخ  اور دوسرا دوستوں کی جدائی سے۔

امامیہ مذہب کی معتبر کتاب اصول کافی جلد اول۔                      

            ۔ یہ جاہلانہ سوال ہے کہ اس کی ترتیب ترتیب خلافت کی وجہ سے ہونے کی وجہ سے یہ حدیث غلط ہے جبکہ زبان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کئی اور احادیث مبارکہ میں بھی خلفاء ثلاثہ علیہا السلام کے نام مبارک اسی ترتیب سے آپ علیہ السلام نے کئی دفعہ بتائے۔

 ملاحظہ فرمائیں جامع ترمذی جلد دوم ،ریاض النضرہ جلد اول ۔

علاوہ ازیں خود مولا علی علیہ السلام نے کئ دفعہ اسی ترتیب سے ان ہستیوں کا اپنے سے افضل اور خلافت میں اولیت کو بیان فرمایا ۔

ملاحظہ فرمائیں ۔فضائل صحابہ جناب امام احمد بن حنبل ،نہج البلاغہ ،واقعہ صفین ،شرح نہج البلاغہ ابنِ میثم ۔

 ۔چھ ماہ بعد بھی بیعت کرنے سے عشرہ مبشرہ والی حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب بعد میں بھی بیعت کر لی تو اور ہر شخص کے اعمال کا دارومدار مدار خاتمہ پر ہوتا ہے ملاحظہ ہو صحیح بخاری جلد دوم ۔

اور یہ چھ ماہ والا قول راوی کا تفرد ہے جب کہ امام اول خلیفہ بلا فصل حضرت ابوبکر صدیق علیہ السلام کی خلافت پر مولا علی علیہ السلام کی بیعت اسی وقت ہی ہوگئی تھی جب بیعت عام لینے کے لیے ان کو طلب کیا گیا تھا ۔ 

ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری جلد دوم ،مستدرک حاکم ،اعتقاد بیہقی ۔

 جہاں تک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا السلام کی ناراضگی کا تعلق ہے یہ بشری تقاضے سے تھی جس کا کوئی اثر شیخین علیہاالسلام کی ذوات پر نہیں پڑتا ۔اور بعد میں رضآ مندی بھی ثابت ہے ۔۔طبقات ابنِ سعد جلد ہشتم ۔

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا خود مولا علی علیہ السلام پر بھی کئ دفعہ غضبناک ہوئیں ۔اور ایسے کاموں سے ناراض ہوجاتی تھیں جن میں جناب علی علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں ہوتا تھا۔ 

ملاحظہ فرمائیں علل الشرایع جلد اول ،امالی شیخ صدوق ،تفسیر عیاشی ،بشارت مصطفیٰ ،احتجاج طبرسی جلد اول ،جلا العیون جلد اول ،حق الیقین ۔ 

اگر ان کے ناراض ہونے سے مولا علی علیہ السلام کی جنت مشکوک نہیں ہوتی جن سے کئ دفعہ ناراض ہوئیں ،تو شیخین علیہاالسلام کی جنت کو بھی کوئی نقصان نہیں ۔

رہی جنازہ میں شامل نہ ہونے کی بات یہ بھی لچر قسم کا جاہلانہ اعتراض ہے کسی درست سند کی روایت میں یہ نہیں کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے کسی کا بھی نام لے کر جنازہ سے منع کیا ہو۔ بلکہ اکثر روایات میں مطلق نہی ہے کہ کسی کو اطلاع نہ دی جاے اوریہ سب پردہ کی وجہ سے تھا جیسے جس پر رات کو جنازہ کی وصیت اور جنازہ کو پردہ میں رکھنے کے قرائن اس پر دلالت کرتے ہیں ۔

ملاحظہ فرمائیں الاستیعاب۔۔۔ 

 کسی کو غصہ میں کہے گئے الفاظ عقیدہ نہیں ہوتے اور نہ ان الفاظ کا قانونی طور پر لاگوس ہونے کا کوئی جواز ہوتا ہے جیسے جناب حاطب علیہ السلام کو غصہ میں جناب فاروق اعظم علیہ السلام نے منافق کہ دیا لیکن وہ جنتی ہیں اور زبان نبوت نے اسی وقت جناب فاروق اعظم علیہ السلام کے سامنے اس کی تصدیق فرمائی ۔ 

اسی طرح نہج البلاغہ کے اندر جناب علی علیہ السلام نے غصہ میں آکر جناب معاویہ علیہ السلام کو کیا کچھ نہیں فرما دیتا لیکن اس کا کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ جبکہ انہی جناب معاویہ علیہ السلام کے اسلام اور ایمان کو مولا علی علیہ السلام نے اپنے جیسا فرمایا اور ان کو سب وشتم کرنے اپنے نالائق سبائیوں کو منع کیا۔اگر ایسے الفاظ کا اثر پڑتا ہے تو مولا علی علیہ کی جنت بھی فریق ثانی کی جمع پونجی سے مشکوک ہوجاےگی شرح اس کی یہ ہے کہ جناب عباس علیہ السلام جو  اہل بیت رسول ہیں انہوں نے جناب فاروق اعظم علیہ السلام کے سامنے جناب مولا علی علیہ السلام کو خائن،دھوکے باز، آثم اور جھوٹا کہا۔ 

ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری جلد دوم ،صحیح مسلم جلد دوم ،نہج البلاغہ ،

  جناب طلحہ و جناب زبیر علیہم السلام نے مولا علی علیہ پر جنگ مسلط نہیں کی اس کا ثبوت دینا کہ کسی کتاب سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا صرف قصاص کا مطالبہ تھا جس کے حوالے سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے لیکن ان پر آج کے اعتراض کرنے والے سبائیوں کے آباؤ اجداد نے اندھیرے سے فایدہ اٹھا کر دونوں گروہوں کو آپس میں لڑا دیا۔

 حضرت علی علیہ السلام سے جنگ والی روایت کی صحت مشکوک ہے ۔جو مطلب سبائیوں نے اپنی رزیل فکر سے نکالا وہ مولا علی علیہ کو سمجھ نہ آیا اور وہ اس نام نہاد جنگ کے اختتام پر اہل بیت کی سرخیل صدیقہ کائنات اماں عائشہ سلام اللہ علیہا کو عزت سے رخصت کرے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ آپ کی وہی حرمت ہے جو اس سے پہلے تھی ۔۔۔

اس کے علاؤہ جناب زبیر و جناب طلحہ علیہ السلام کے قاتلین کو خود جہنمی مولا علی علیہ السلام نے ڈکلیئر کیا۔

ملاحظہ فرمائیں نہج البلاغہ ،طبری جلد سوم ،البدایہ والنہایہ جلد سوم ،

  اگر ان مقتولین کی وجہ سے کسی زبان نبوت سے جنتی شخصیت مشکوک ہوسکتی ہے تو اس کی زد سب سے پہلے مولا علی علیہ السلام پر پڑے گی کیونکہ کہ صفین میں خود ان کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شرعی حق مانگ رہے تھے ۔اس جنگ میں ہزاروں کے مقتولین کی جواب دہی خلیفہ وقت کے سر جائے گی ۔یہاں جس آیت کو پیش کیا گیا ہے یہ  صرف سبائی نہیں خارجیوں کی رزیل فکر پر یہ اعتراض تیار کیا گیا ہے جو مولا علی علیہ السلام کے باطل پر ہونے کے ثبوت میں  خارجی بھی پیش کرتے ہیں ۔

  داماد رسول مظلوم مدینہ جناب عثمان علیہ السلام کی تائید اور اپ کو مظلوم اور حق پر سمجھنے والوں میں بقیہ اصحاب کے ساتھ اماں عائشہ سلام اللہ علیہا بھی تھیں 

زیر بحث روایت جھوٹی کزاب راویوں کی ہے جس میں مظلوم مدینہ کے بارے میں قتل کا فتویٰ تھا۔

ملاحظہ فرمائیں طبری جلد سوم ،طبقات ابنِ سعد جلد سوم ۔میزان الاعتدال ۔

  رہی جناب عبدالرحمن بن عوف علیہ السلام کے صاحبزادے کی روایت پر اعتراض اس کا حوالہ اجہل کبیر صاحب نے نہیں دیا ورنہ اس پر بھی تفصیلی جواب دیا جاتا۔ جناب حمید کے بارے میں یہاں اعتراض کہ ایک سال کا بچہ کیسے روایت کرسکتا ہے اس کے لیے ایک پھکی حاضر خدمت ہے کہ یہ عقلی ڈھکوسلہ اس وقت آپ کے مصنفین کو کیوں یاد نہیں آتا جب جناب علی علیہ السلام کے بچپن کے واقعات سنائے جاتے ہیں 

پھر جہالت یہ کہ جن جناب حمید رحمۃ اللہ علیہ کو جناب عبد الرحمن بن عوف کا بیٹا بتایا جا رہا ہے وہ خود اپنے والد سے روایت  کر رہے ہیں یہ حمید نامی راوی جنابِ عبدالرحمن بن عوف علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں ہی نہیں ان کے والد دوسرے ہیں اور وہ جناب عبد الرحمن سے روایت کر رہے تھے ۔۔۔ 

عن عبد الرحمن بن حمید عنہ ابیہ عن عبد الرحمن بن عوف قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ 

یعنی جناب عب الرحمن بن حمید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ جناب عبدالرحمن بن عوف علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔

جامع ترمذی جلد دوم ۔

عشرہ مبشرہ والی حدیث کی سند صرف یہی نہیں اور بھی کئی اسنادہ سے مروی ہے چنانچہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ،‌‌‌‏ أَنَّهُ قَالَ:‌‌‌‏ أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ،‌‌‌‏ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، ‌‌‌‌‌‏قِيلَ:‌‌‌‏ وَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏    اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ،‌‌‌‏ أَوْ صِدِّيقٌ،‌‌‌‏ أَوْ شَهِيدٌ   ، ‌‌‌‌‌‏قِيلَ:‌‌‌‏ وَمَنْ هُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏    وَأَبُو بَكْرٍ، ‌‌‌‌‌‏وَعُمَرُ، ‌‌‌‌‌‏وَعُثْمَانُ، ‌‌‌‌‌‏وَعَلِيٌّ، ‌‌‌‌‌‏وَطَلْحَةُ، ‌‌‌‌‌‏وَالزُّبَيْرُ، ‌‌‌‌‌‏وَسَعْدٌ، ‌‌‌‌‌‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، ‌‌‌‌‌‏قِيلَ:‌‌‌‏ فَمَنِ الْعَاشِرُ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ أَنَا   . قَالَ أَبُو عِيسَى:‌‌‌‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‌‌‌‌‌‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ 

جامع ترمذی جلد دوم رقم حدیث نمبر 3757،سنن ابنِ ماجہ۔ ۔۔

اللہ کے خوف سے رونا عیب نہیں ہے بلکہ فضیلت کا باعث ہے۔ امامیہ مذہب کی معتبر کتاب الخصال

مولا علی علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو اپنے بعد گناہوں کی مغفرت مانگنے کی اور اللہ سے خوف کرنے کی وصیت

امامیہ علماء کا انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں تاویل کرنا

امام زین العابدین علیہ السلام کو اپنے انجام کی فکر امامیہ کتاب صحیفہ کاملہ

امام زین العابدین علیہ السلام کا اپنے گناہوں پر نادم ہونا۔ امامیہ کتاب صحیفہ سجادیہ

امام زین العابدین علیہ السلام کا اپنے گناہوں پر رونا اور اللہ کے عذاب سے ڈرنا۔ امامیہ کی کتاب مجمع الفضائل المعروف مناقب آل ابی طالب جلد ششم

امام حسن علیہ السلام کا فضائل کی تسلیاں سننے کے باوجود وقت وفات حساب کتاب کے ڈر سے رونا

جناب موسی کاظمی علیہ السلام کا موت کی سختی کے دور ہونے اور اللہ کے سامنے حساب کے وقت بخشش کا سوال

    ۔ اختتام ۔