غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز) - دورِ حاضر کے…

غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز)

  محسن اقبال

صفحہ 1 از 5

علامہ وحید الزماں کے غیر مقلد ہونے کا ثبوت

علامہ وحید الزماں کو اہلحدیث تو بہت سے علماء نے تسلیم کیا لیکن چند علماء نے یہ کہا کہ علامہ صاحب بعض مسائل میں اہلحدیث سے الگ تھے تو اس بارے میں بھی اہلحدیث علماء کے رسالہ محدث میں اہلحدیث کے عالم نے وضاحت کی ہے۔
علامہ عبد الرشید عراقی صاحب اہلحدیث مسلک کے مورخ ہیں اور انہوں نے رسالہ محدث کے ایک شمارہ میں ''برصغیر پاک و ہند میں علمِ حدیث اور علمائے اہلحدیث کی خدمات'' کے تحت علامہ وحید الزماں کا تذکرہ بہت شاندار انداز میں کیا ہے اور ان کی بہت تعریف کی۔
علامہ عبد الرشید عراقی صاحب، علامہ وحید الزماں مسلک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ 

مسلک 

ابتداء میں مقلد تھے اور تقلید شخصی کے قائل تھے۔ اس دور میں اہلحدیث کے مسائل پر تنقید بھی کرتے تھے، بعد میں اپنے بڑے بھائی مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) ، جو مسلک اہلحدیث میں بڑے متشدد تھے، سے متاثر ہوکر تقلید شخصی ترک کردی۔
مولانا سید عبدالحئ (م1341ھ) لکھتے ہیں:

''کان شدیدا فی التقلید فی بدایة امرہ ثم رفضہ و تحررواختار مذھب اھل الحدیث مع شذوذ عنھم فی بعض المسائل''2

یعنی ابتداء تقلید میں متشدد تھے ۔ پھر تقلید سے آزاد ہو گئے اور مذہب اہلحدیث اختیار کرلیا۔ تاہم بعض مسائل میں اہلحدیث سے تفرو شذوذ بھی رکھتے تھے۔'' (ماہنامہ محدث، مئی 1986، صفحہ 50،51)
بعض مسائل میں اہلحدیث سے تفرو شذوذ بھی رکھتے تھے اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے حاشیہ میں ادارہ نے لکھا کہ'' کیونکہ اہلحدیث میں سے امام احمد حنبلؒ کے فتاویٰ کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کی شرح میں جابجا ان فتاویٰ کو ''ہمارا مذہب'' سے تعبیر کرتے ہیں۔(ادارہ) بحوالہ (ماہنامہ محدث، مئی 1986، صفحہ 50،51)
تو اس سے وضاحت ہو گئی کہ بعض جگہ علامہ وحید الزماں خود کو حنبلی اس لئے کہتے تھے کہ اہلحدیث امام احمد بن حنبلؒ کے مسائل کو ذیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کہ وجہ سے علامہ وحید الزمان کبھی کبھی خود کو حنبلی بھی کہتے تھے۔
اسی بات کو مبشر حسین لاہوری صاحب نے بھی نقل کیا کہ '' چونکہ اہلحدیث مکتب فکر کا بھی یہی نکتہ نظر ہے جس کے سرخیل امام احمد بن حنبلؒ ہیں۔ اسی بناء پہ مولانا مرحوم کبھی خود کو حنبلی ظاہر کیا کرتے تھے'' ( ماہنامہ محدث ، لاہور ۔ جنوری 2003 ءصفحہ 76)

غیر مقلدین کے مبشر حسین لاہوری صاحب نے علامہ وحید الزمان کا عقیدہ اور مسلک کے نام سے غیر مقلدین کے مشہور رسالہ محدث میں ایک مضمون لکھا۔ 
اس رسالہ میں علامہ وحید الزمان کے مسلک اہلحدیث ہونے کے بارے میں اپنے اہلحدیث عالم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 
''موصوف کے مسلک و عقیدہ کے حوالہ سے لوگوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے ، بعض لوگ آپ کو حنفی و مقلد اور اہلحدیث قرار دیتے ہیں جبکہ بعض نے آپ کو شیعہ ہونے کا بھی گمان ظاہر کیا ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ پہلے حنفی المذہب تھے پھر احادیث کے تراجم کے دوران آپ مسلکاً اہلحدیث ہو گئے ۔( اربابِ علم و فضل از محمد ادریس بھوجیانی ص 139، بحوالہ : ماہنامہ محدث ، لاہور ۔ جنوری 2003 ءصفحہ 74)

مبشر حسین لاہوری صاحب علامہ وحید الزماں کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ '' اکثر اہلحدیث کا یہی قول ہے اور ہمارے اصحاب میں سے صاحب سبل السلام نے اسی کو ترجیح دی ہے''
اور وحید الزماں کے اس قول کے بعد لکھتے ہیں کہ ''صاحب سبل السلام ، محمد بن اسماعیل امیر صنعانیؒ چونکہ اہلحدیث مکتب فکر کے ممتاز فرزند تھے اسلئے مولانا مرحوم کا ان کی طرف نسبت کرنا اور دیگر کئی مقامات پہ بھی قرآن و حدیث سے براہِ راست مسائل اخذ کرنے کا نکتہ نظر بیان کرنا اس بات کی تصدیق کر دیتے ہیں کہ مولانا مرحوم حنبلی یا اہلحدیث تھے اور آخری دم تک اسی موقف پہ رہے، مگر اہلحدیث ہونے کے باوجود موصوف عوامی مسلک اہلحدیث سے قدرے آزاد شخصیت کے حامل تھے'' ( ماہنامہ محدث ، لاہور ۔ جنوری 2003 ءصفحہ 77)
مبشر حسین لاہوری کی اس بات سے ثابت ہوا کہ علامہ وحید الزماں مسلک اہلحدیث سے قدرے آزاد ہونے کےباوجود وہ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور مبشر حسین لاہوری ان کو اہلحدیث ہی تسلیم کرتے ہیں۔

علامہ وحید الزماں کو اہلحدیث تو بہت سے علماء نے تسلیم کیا لیکن چند علماء نے یہ کہا کہ علامہ صاحب بعض مسائل میں اہلحدیث سے الگ تھے تو اس بارے میں بھی اہلحدیث علماء کے رسالہ محدث میں اہلحدیث کے عالم نے وضاحت کی ہے۔

علامہ عبد الرشید عراقی صاحب اہلحدیث مسلک کے مورخ ہیں اور انہوں نے رسالہ محدث کے ایک شمارہ میں ''برصغیر پاک و ہند میں علمِ حدیث اور علمائے اہلحدیث کی خدمات'' کے تحت علامہ وحید الزماں کا تذکرہ بہت شاندار انداز میں کیا ہے اور ان کی بہت تعریف کی۔

علامہ عبد الرشید عراقی صاحب، علامہ وحید الزماں مسلک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ 

مسلک

ابتداء میں مقلد تھے اور تقلید شخصی کے قائل تھے۔ اس دور میں اہلحدیث کے مسائل پر تنقید بھی کرتے تھے، بعد میں اپنے بڑے بھائی مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) ، جو مسلک اہلحدیث میں بڑے متشدد تھے، سے متاثر ہوکر تقلید شخصی ترک کردی۔

مولانا سید عبدالحئ (م1341ھ) لکھتے ہیں:

''کان شدیدا فی التقلید فی بدایة امرہ ثم رفضہ و تحررواختار مذھب اھل الحدیث مع شذوذ عنھم فی بعض المسائل''2
صفحہ 1 از 5