غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز) - دورِ حاضر کے…

غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز)

  محسن اقبال

صفحہ 2 از 5

یعنی''ابتداًء تقلید میں متشدد تھے ۔ پھر تقلید سےآزاد ہوگئے اور مذہب اہلحدیث اختیار کر لیا۔ تاہم بعض مسائل میں اہلحدیث سے تفرو شذوذ بھی رکھتے تھے۔'' (ماہنامہ محدث، مئی 1986، صفحہ 50،51)
''بعض مسائل میں اہلحدیث سے تفرو شذوذ بھی رکھتے تھے'' اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے حاشیہ میں ادارہ نے لکھا کہ'' کیونکہ اہلحدیث میں سے امام احمد حنبلؒ کے فتاویٰ کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کی شرح میں جابجا ان فتاویٰ کو ''ہمارا مذہب'' سے تعبیر کرتے ہیں۔(ادارہ) بحوالہ (ماہنامہ محدث، مئی 1986، صفحہ 50،51)
تو اس سے وضاحت ہو گئی کہ بعض جگہ علامہ وحید الزماں خود کو حنبلی اس لئے کہتے تھے کہ اہلحدیث امام احمد بن حنبل کے مسائل کو ذیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کہ وجہ سے علامہ وحید الزمان کبھی کبھی خود کو حنبلی بھی کہتے تھے۔
اسی بات کو مبشر حسین لاہوری صاحب نے بھی نقل کیا کہ '' چونکہ اہلحدیث مکتب فکر کا بھی یہی نکتہ نظر ہے جس کے سرخیل امام احمد بن حنبل ؒ ہیں۔اسی بناء پہ مولانا مرحوم کبھی خود کو حنبلی ظاہر کیا کرتے تھے'' ( ماہنامہ محدث ، لاہور ۔ جنوری 2003 ءصفحہ 76)

علامہ وحید الزماں کے نزدیک اللہ نے ایمان کامل اہلحدیث کو ہی دیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وحید الزماں اہلحدیث تھا۔

علامہ وحید الزماں نے غیر مقلدین کے شیخ الکل نذیر حسین دھلویؒ سے سند حدیث حاصل کی۔

بدیع الدین راشدی صاحب نے عقیدہ تو حید اور علمائے سلف کی خدمات میں علامہ وحید الزماں کو فقیہ وقت اور محب السنہ جیسے القابات دئیے ہیں۔
علمائے سلف کی خدمات میں ذکر کرنے سے ثابت ہوا کہ بدیع الدین راشدیؒ علامہ وحید الزماں کو اہلحدیث ہی سمجھتے تھے۔

عبدالرشید عراقی نے وحید الزماں کا ذکر چالیس علمائے اہلحدیث میں ذکر کیا۔کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کتاب میں ان چالیس علماء کا ذکر کیا گیا جو عبدالرشید عراقی کے نزدیک اہلحدیث تھے۔

قاضی محمد اسلم صاحب نے کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ وحید الزماں اہلحدیث نہیں تھا بلکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ وحید الزماں اہلحدیث ہو گئے تھے اور قاضی صاحب کے صرف یہ لکھ دینے سے کہ بعض اہلحدیث علماء نے اس کا رد کیا وحید الزماں اہلحدیث علماء کی لسٹ سے باہر نہیں نکل جاتا۔قاضی صاحب کی کتاب کا نام ہی تحریک اہلحدیث تاریخ کے آئینے میں ہے اور مقدمہ میں انہوں نے واضح لکھا کہ''انہوں نے 1400 سالہ مسلک اہلحدیث کی تاریخ،تحریک کو اس کتاب میں شامل کیا ہے اور ان علماء کا تذکرہ کیا جنہوں نے مسلک کی اشاعت کے لئے علمی،دینی اور تحقیقی کتب لکھی''(مقدمہ،30۔۔33)
تو اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک وحید الزماں اہلحدیث تھا تب ہی اس کا تذکرہ تحریک اہلحدیث میں شامل کیا گیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے وحید الزماں کے ترجمہ میں تسلیم کیا کہ وحید الزماں کی کتابوں کا کریڈٹ اہلحدیث کے کھاتے میں جاتا ہے۔توان کے نزدیک بھی وحید الزماں اہلحدیث ہی تھا۔

موجودہ غیر مقلدین علامہ وحید الزماں کے غیر مقلد ہونے کے منکر ہیں لیکن علامہ وحید الزماں غیر مقلد تھا اور ان کے اسلاف میں شامل تھا اس کا اعتراف کئی غیر مقلد علماء نے کیا ہے۔
غیر مقلد مولانا داؤد ارشد صاحب مولانا انوار خورشید صاحب کی کتاب حدیث اور اہلحدیث کا جواب دیتے ہوئے  لکھتے ہیں کہ''انوار مقلد نے ہدایۃ المستفید کے مقدمہ میں سے میاں نذیر حسین دہلوی،فاتح قادیاں مناظر اسلام ثناء اللہ امرتسری،نواب صدیق حسن خان قنوجی،علامہ وحید الزماں اور حافظ عبداللہ محدث روپڑی کے القابات بھی نقل کئے ہیں۔بلاشبہ یہ ہمارے اسلاف تھے۔''(حدیث اور اہل تقلید،جلد1،صفحہ 162)
یہاں داؤد ارشد صاحب نے واضح تسلیم کیا کہ نذیر حسین دہلوی،ثناء اللہ امرتسری،نواب صدیق حسن خان،علامہ وحید الزماں اور عبداللہ رو پڑی غیر مقلدین کے اسلاف تھے۔داود ارشد صاحب نے تسلیم کر لیا کہ علامہ وحید الزماں بھی غیر مقلدین کے  اسلاف میں شامل تھا۔

وحید الزماں اہلحدیث تھا غیر مقلد عالم جلال الدین قاسمی کا اقرار

غیر مقلدین کے عالم جلال الدین قاسمی نے یہ تسلیم کیا کہ علامہ وحید الزماں پہلے شیعہ تھا پھر اہلحدیث ہو گیا تھا۔(احسن الجدال صفحہ 50)
غیر مقلدو! تمہارے اپنے علماء وحید الزماں کے اہلحدیث ہونے کا اعلان کرتے پھر رہے ہیں تو پھر کس منہ سے وحید الزماں کو حنفی کہتے ہو؟

غیر مقلد عالم شمس الحق عظیم آبادیؒ کی حیات و خدمات نامی کتاب میں وحید الزماں کی تصنیفات کا اعتراف بطور اہلحدیث کیا گیا۔

فتاوی ثنائیہ مدنیہ میں تسلیم کیا گیاکہ نزل الابرار فقہ کی کتاب ہے اور زیادہ مسائل حدیث سے لئے گئے ہیں 

غیر مقلدین کے مورخ محمد اسحٰق بھٹیؒ نے کئی کتابوں میں وحید الزماں کا ذکر بطور اہلحدیث کیا۔

یحییٰ گوندلویؒ عقیدہ اہلحدیث میں علمائے اہلحدیث کی تصنیف و تالیف کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے وحید الزماں کا ذکر بطور اہلحدیث کیا۔

علامہ وحید الزماں امام اہلحدیث تھا۔غیر مقلد عالم رئیس ندوی کا اعتراف اور علامہ وحید الزماں کی عبارات کا دفاع
مشہور غیر مقلد عالم رئیس ندوی نے اپنی کتاب ''مجموعہ مقالات پہ سلفی تحقیقی جائزہ'' میں کئی بار اعتراف کیا کہ علامہ وحیدالزماں امام اہلحدیث تھا اور اس کے ساتھ ساتھ رئیس ندوی صاحب نےاپنی اسی کتاب میں علامہ وحیدالزماں کی کتابوں ''نزل الابرار،ہدیۃ المھدی اور کنز الحقائق'' کا بھرپور دفاع بھی کیا ہے۔
غیر مقلدو! اگر وحید الزماں تمہارا نہیں اور اس کی کتابیں ''نزل الابرار،ہدیۃ المھدی اور کنز الحقائق'' تمہاری نہیں تو تمہارا عالم رئیس ندوی تمہارے امام اہلحدیث وحید الزماں کی عبارت کا دفاع کیوں کرتا پھر رہا ہے؟

صفحہ 2 از 5