غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز) - دورِ حاضر کے…

غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز)

  محسن اقبال

صفحہ 4 از 5

ابو یحیی خان نوشہریؒ نے ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات میں وحید الزماں کا ذکر بطور اہلحدیث اور اس کی کتابوں کا ذکر بطور تصنیفی خدمات کیا۔

قاضی محمد اسلم صاحب نے کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ وحید الزماں اہلحدیث نہیں تھا بلکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ وحید الزماں اہلحدیث ہو گئے تھے اور قاضی صاحب کے صرف یہ لکھ دینے سے کہ بعض اہلحدیث علماء نے اس کا رد کیا وحید الزماں اہلحدیث علماء کی لسٹ سے باہر نہیں نکل جاتا۔قاضی صاحب کی کتاب کا نام ہی تحریک اہلحدیث تاریخ کے آئینے میں ہے اور مقدمہ میں انہوں نے واضح لکھا کہ''انہوں نے 1400 سالہ مسلک اہلحدیث کی تاریخ،تحریک کو اس کتاب میں شامل کیا ہے اور ان علماء کا تذکرہ کیا جنہوں نے مسلک کی اشاعت کے لئے علمی،دینی اور تحقیقی کتب لکھی''(مقدمہ،30۔۔33)
تو اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک وحید الزماں اہلحدیث تھا تب ہی اس کا تذکرہ تحریک اہلحدیث میں شامل کیا گیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے وحید الزماں کے ترجمہ میں تسلیم کیا کہ وحید الزماں کی کتابوں کا کریڈٹ اہلحدیث کے کھاتے میں جاتا ہے۔توان کے نزدیک بھی وحید الزماں اہلحدیث ہی تھا۔

مولانا ارشاد الحق اثری اور علامہ وحید الزماں کی خدمات حدیث

مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے علمائے اہلحدیث کی خدمات پر کتاب لکھی جس کا نام ''پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث'' رکھا۔ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں ان علماء کا ذکر کیا جن کو وہ اہلحدیث تسلیم کرتے تھے۔ اس کتاب میں علامہ وحید الزماں کا تذکرہ اور ان کی خدمات حدیث کا ثکر تفصیل سے کیا اور علامہ وحید الزماں کا اس کتاب میں ذکر کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا اثری صاحب کے نزدیک وہ اہلحدیث تھے ۔مولانا نے شروع میں لکھا کہ ''ان سے علمائے اہلحدیث نے بے زاری کا اظہار کیا'' اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وحید الزماں اہلحدیث نہیں تھا۔کیونکہ جب مولانا ثناء اللہ امرتسری کے خلاف غیر مقلدین نے کئی کتابیں لکھی جیسا فیصلہ مکہ،فتنہ ثنائیہ،درایت تفسیری وغیرہ اس کے باوجود ثناء اللہ امرتسری صاحب غیر مقلدین کے شیخ الاسلام قرار پائے تو وحید الزماں کا ذکر تو تاریخ اہلحدیث کی ہر کتاب میں بطور اہلحدیث کیا گیاہے۔اثری صاحب نے کہیں بھی وحیدالزماں کے اہلحدیث ہونے کا انکار نہیں کیا تو ثابت ہوا کہ وحید الزماں اہلحدیث تھا۔

کچھ غیر مقلدین نزل الابرار کا حوالہ دیتے ہیں کہ علامہ وحید الزماں نے لکھا ہے عامی پر مجتہد یا مفتی کی تقلید ضروری ہے  اس لئے وحید الزماں حنفی تھا حالانکہ یہ غیر مقلدین کا دھوکہ ہے اور ادھوری عبارت ہے۔مکمل عبارت میں وحید الزماں لکھتا ہے کہ ''عامی کے لئے مجتہد یا مفتی کی تقلید لازمی ہے،لیکن تمام مسائل میں خاص ایک امام کی تقلید بدعت مزمومہ ہے۔اگلے صفحہ پر لکھا کہ''ہمارا ایک نام ہے اہل حدیث،ان کو وہابی کہنے والے بدعتی ہیں''(نزل الابرار،1/7،8) یہاں وحید الزماں نے واضح لکھا کہ ہمارا نام اہلحدیث ہے اور کسی معین امام کی تقلید بدعت ہے۔اگر صرف تقلید کو جائز کہنے کی وجہ سے وحید الزماں حنفی ہوتا تو بہت سے غیر مقلد علماء نے مطلق تقلید کو جائز کہا جن میں نذیر حسین دھلویؒ،ثناۓ اللہ امرتسری،محدث محمد گوندلوی، اسماعیل سلفی وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے تقلید کی کچھ اقسام کو واجب تک کہا ہے تو کیا صرف تقلید کو واجب کہنے کی وجہ سے یہ سب حنفی ہو گئے؟؟؟

غیر مقلدین کے شیخ الکل نذیر حسین دھلویؒ کی سوانح حیات میں علامہ وحید الزماں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا۔

عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ نے سنن نسائی کے مقدمہ میں وحید الزماں کا ذکر تفصیل سے کیا اور اس کی کتابوں کو فقہ حدیث کی کتاب تسلیم کیا۔

عبدالرشید عراقی نے چالیس علمائے حدیث میں وحید الزماں کا ذکر کیا اور اس کی تصنیفات کا ذکر بھی کیا۔
عبدالرشید عراقی نے وحید الزماں کا ذکر چالیس علمائے اہلحدیث میں ذکر کیا۔ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کتاب میں ان چالیس علماء کا ذکر کیا گیا جو عبدالرشید عراقی کے نزدیک اہلحدیث تھے۔

غیر مقلدین کے مورخ محمد اسحٰق بھٹیؒ نے کئی کتابوں میں وحید الزماں کا ذکر بطور اہلحدیث کیا۔

وحید الزماں کی اہلحدیث کو وصیت کہ اگر وہ مر گیا تو اس کی کتب  ہدیۃ المہدی اور انوار اللغہ کو مکمل فرما دیں۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدیۃ المہدی اہلحدیث کے لئے لکھی گئی اس لئے وحید الزماں نے اہلحدیث کو وصیت کی تھی کتب کو مکمل کروانے کے لئے۔
وھید الزماں اہلحدیث کو کیوں وصیت کر کے گیا کہ میری کتب کو مکمل کر دینا؟

صفحہ 4 از 5