Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔ (المغنی زادالمعاد، جلد 2، کتاب الاول للحسن بن عبد اللہ تفسير کبیر للرازی، بخاری)

  زینب بخاری

حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔

(المغنی زادالمعاد، جلد 2، کتاب الاول للحسن بن عبد اللہ تفسير کبیر للرازی، بخاری) 

(الجواب اہلسنّت) 

1: محترم حضرات، شرماتے شرماتے شیعہ نے یہ عنوان قائم کیا ہے یقیناً عامۃ الناس اردو خواں حضرات کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرے گا کہ وہ کون سی حلال چیز ہے جسے حضرت عمرؓ نے حرام کر دیا شیعہ لوگ تو مارے شرم کے نہیں بتا سکے۔ ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ جس پر ہمارے کرم فرما بہت ہی برہم ہوئے جا رہے ہیں اور مارے دکھ کے کراہ رہے ہیں مگر اس پر المیہ یہ کہ وہ لوگوں کو بتا بھی نہیں پا رہے کہ ان کی کون سی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا گیا ہے۔ چلیں ان پوشیده عقدہ کو ہم ہی کھول دیتے ہیں وہ متعہ (زنا) ہے ظاہر بات ہے کسی سے اس کی محبوب چیز چھڑائی جائے یا محبوب مشغلہ سے روکا جائے اسے غصہ تو آئے گا۔ اب کرم فرما کھل کے لکھ بھی نہ سکے کہ متعہ جیسی مرغوب چیز کو حضرت عمرؓ نے حرام کر دیا اور غصہ بھی نکالنا مجبوری تھا سو حلال حرام والا لفظ استعمال کرنے میں انہوں نے عافیت سمجھی بعض لوگ حکایت بیان کرتے ہیں خدا کو معلوم سچ ہے یا نہیں مگر اکثر لوگوں سے سنا گیا ہے کہ محترم ذاکر صاحب پشاور کے کسی علاقے میں مجلس عزا میں مرثیے پڑھ رہے تھے سوز و ساز اور اپنی آواز سمیت سارا زور لگا لیا مگر خان برادری پر کچھ اثر نہ ہوا بلکہ وہ ٹس سے مس بھی نہ ہوئے رونا تو دور کی بات، ادھر ذاکر صاحب تو ذاکر تھے پتے کھیلنا اور ڈالنا بخوبی جانتے تھے لہذا انہوں نے پتا ڈال ہی دیا کہنے لگے اے مومنو! میں کیا بتاؤں ظالموں نے حضرت حسینؓ پر کیا کیا ظلم کیے کربلا میں حضرت حسینؓ کا نسوار بھی ان سے چھین لیا بس نسوار پر جان فدا کرنے والی قوم تڑپ گئی۔ یہ نسوار چھیننے کا جملہ سننا تھا کہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کہ واقعی ان پر ظلم ہوا ہے۔ چونکہ ان کی محبوب چیز نسوار تھی اس لیے یہ چھن جانے کا چھوٹا سا جملہ سن کر برداشت نہ کر سکے۔ یہ حکایت سچ ہے یا نہیں مگر اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ کوئی نسوار چھن جانے پر روتا ہے تو کوئی متعہ (زنا) چھن جانے پر اپنے اپنے طور پر یہ بیچارے سارے دکھی ہیں۔ 

2:  حلال کی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا ، یہ عنوان اختیار کرنے کی بجائے واضح کہنا چاہئے جو ان کے گمان میں بالکل حلال ہے، متعہ تھا کہ حضرت عمرؓ نے متعہ کو حرام قرار دے دیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ کو حلال قرار دیا تھا یہاں متعہ کا لفظ بولتے ہوئے شرم محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ خود شیعہ قوم بھی اس بارے میں کافی کھٹکے میں ہے متعہ کا لفظ اُن کو بھی تھوڑا تھوڑا شرما دیتا ہے اگر ہمارے مہربان غور کریں تو رحمت عالمﷺ نے گناہ کی جو تعریف فرمائی ہے وہ بھی کچھ متعہ کے گناہ ہونے پر دلالت کرتی نظر آتی ہے۔ فرمایا والإثم ما حاك في صدرك أن يطلع عليه الناس (مشکوة) – 

 کہ گناہ وہ کام ہے کہ جو تیرے دل میں کھٹکے کہ کہیں لوگوں کو اس کا پتہ نہ چل جائے یعنی جس کام کو چھپانے کی کوشش ہو وہ گناہ کا کام ہے، ہر شخص پوچھنے پر بلا خوف و تردد بتاتا ہے کہ میں نماز پڑھ کر آیا ہوں مگر کوئی متعہ کے بارے میں خبردار نہیں کرتا۔ خود ملاحظہ فرمایئے یہاں عنوان قائم کرتے ہوئے بھی مذکورہ عبادت کو چھپایا گیا حالانکہ یار لوگوں کے ہاں تو متعہ کیے کرائے بغیر جنت کا حصول بھی ممکن نہیں تسلی کیلئے باقر مجلسی شیعہ مجتہد کا رسالہ عجالہ حسنہ رسالہ متعہ اردو مترجم پڑھ لیا جائے۔ 

3: هم بلاتر دد عرض کرتے ہیں حضرت عمرؓ نے متعہ کی حرمت کا اعلان کیا ہے حرام نہیں کیا بالفاظ دیگر متعہ کا حرام ہونا بتایا ہے۔ بنایا نہیں کیونکہ اس کا حرام ہونا قرآن سنت کے علاوہ خود شیعہ روایات میں بھی مذکور ہے قرآن پاک کی 5 آیات اس حرمت پر دال ہیں ہم حقیقی دستاویز کے مقدمہ میں اس عنوان پر کچھ عرض کر چکے ہیں قارئین وہاں ملاحظہ فرمالیں یہاں حرمت متعہ پر صرف دو شہادتیں خود شیعہ کرم فرماؤں کے گھر سے پیش کرتے ہیں کہ شہادت کے ساتھ دعویٰ ثابت ہوتا ہے اور مدعی علیہ شاہد پر جرح کرتا ہے لہذا شیعہ گواہ پیش کرنے سے ہمارا مقصود ان کا من پسند گواہ پیش کرنا ہے تا کہ جرح کرنے والا دیکھ لے کہ کسی پر جرح کر رہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ 

1: قال الشيخ روی في التهذيب باسناده عن على حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية و نكاح المتعة – 

(فصل الخطاب ربانی صفحہ 330) 

شیخ کہتے ہیں کہ صاحب تہذیب نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علیؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے خیبر والے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانا اور نکاح متعہ کو حرام قرار دے دیا تھا۔ 

2:  ایک شخص نے ابو جعفر سے متعہ کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو ابو جعفر نے اسے نکاح متعہ کے بارے میں فتوی دیا اس نے پھر سوال کیا

ايسرك أن نسائك وبناتك و أخوانك و بنات عمك يفعلن ذاك فاعرض عنه ابو جعفر حين ذكر نساء و بنات عمه.

(فروع کافی ج 2 صفحہ 32) 

کہ آپ کی بیویوں بیٹیوں بہنوں چچا زادوں کے ساتھ بھی متعہ کر سکتا ہے؟ تو ابوجعفر ؒ نے (غصہ سے) اپنے گھر کی عورتوں چچا زادوں ( کے ساتھ متعہ کرنے کے بارے میں) سن کر اس کی طرف سے منہ پھیر لیا (اس سائل کے اس سوال پر ناراض ہو گئے۔ گویا امام کو اپنی عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں سن کر غیرت آ گئی اور یہی غیرت ایمان والوں کا اثاثہ ہے جو متعہ کے بازار میں تار تار ہو جاتی ہے، فاروقی غیرت نے اس عزت و غیرت کا برملا اعلان کیا ہے، جس پر شیعہ لوگ سخت طیش میں آئے ہوئے ہیں باقی متعہ کا حرام ہونا رحمت عالمﷺ نے کے دین سے ثابت ھے حضرت عمرؓ نے حرام بتایا سے متعہ کو حرام بنایا نہیں ۔ متعہ کی حرمت کے بارے میں مزید وضاحت اس تحقیق حلال و حرام در جواب متعہ و اسلام مصنف (مولانا اللہ یار خاں ؒ ) میں ملاحظہ فرمائیں.