Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مذہبی عقیدہ کی آزادی

  علی محمد الصلابی

(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: حمد حمد الصمد، صفحہ157 ، 158)

مذہب اسلام نے کسی فرد کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اسے اللہ کی مخلوق، اس کی کائنات اور دین کے بارے میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی اور اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ لوگوں سے اچھے طریقے سے گفتگو کریں۔ فرمان الہٰی ہے:

لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌۞(سورۃ البقرة: آیت 256)

ترجمہ: ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘

اور فرمایا:

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا‌ اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ‌۞(سورۃ الشورى: آیت 48)

ترجمہ: ’’پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

اور فرمایا:

اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ‏ ۞(سورۃ النحل: آیت 125)

ترجمہ: ’’اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بے شک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستہ سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

وَلَا تُجَادِلُوۡٓا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ‌ وَقُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَاُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَاِلٰهُـنَا وَاِلٰهُكُمۡ وَاحِدٌ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ ۞(سورۃ العنكبوت: آیت 46)

ترجمہ: ’’اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمھاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماںبردار ہیں۔‘‘

اس موضوع سے متعلق اور بھی بہت سی آیات ہیں۔

بہرحال سیرتِ فاروقؓ سے ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ آپؓ نے اپنے دورِ حکومت میں مذہبی آزادی کی پوری حمایت کی اور اس سلسلہ میں رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے نقشِ قدم پر چلتے رہے، آپؓ نے اہلِ کتاب کو ان کے مذہب پر باقی رکھا، ان سے جزیہ وصول کیا اور عہد و معاہدہ کیا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، ان کی عبادت گاہوں کو منظم کیا گیا، ان کو ڈھایا نہیں گیا، بلکہ اپنی حالت پر چھوڑ دیا گیا، اس لیے کہ اللہ کا ارشاد ہے:

وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞(سورۃ الحج: آیت 40)

ترجمہ: ’’اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعہ ہٹانا نہ ہوتا تو ضرور ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔‘‘

چنانچہ عہدِ فاروقیؓ کی اسلامی فتوحات جسے صحابہؓ نے بڑی بے جگری سے انجام دیا، اس بات پر شاہد ہیں کہ اسلام نے دیگر مذاہب کا پورا احترام کیا ہے اور اس کی اعلیٰ قیادت کسی کو زبردستی مسلمان بنانے سے ہمیشہ گریزاں رہی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھی نصرانی عورت اپنی کسی ضرورت سے حضرت عمرؓ کے پاس آئی تو آپؓ نے اس سے کہا: مسلمان ہو جاؤ، محفوظ رہو گی اللہ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس نے جواب دیا: میں بہت ہی بوڑھی عورت ہوں اور موت میرے بہت ہی قریب ہے، آپؓ نے اس کی ضرورت پوری کر دی، لیکن ڈرے کہ کہیں آپؓ کا یہ کام اس کی ضرورت سے غلط فائدہ اٹھا کر اسے مجبوراً مسلمان بنانے کے مترادف نہ ہو جائے۔ اس لیے آپؓ نے اپنے عمل سے اللہ سے توبہ کی اور کہا: اے اللہ! میں نے اسے سیدھی راہ دکھائی تھی اسے مجبور نہیں کیا تھا۔ 

(مذہبی عقیدہ کی آزادی صرف غیر مسلموں کے لیے ہے بشرطیکہ وہ اس کی نشر و اشاعت نہ کریں، البتہ مسلمانوں کے لیے یہ آزادی نہیں کہ جس طرح کے کفریہ و شرکیہ افکار و عقائد چاہیں اختیار کریں، بلکہ ان پر ارتداد کا قانون اور مرتد کی سزا نافذ ہوگی۔ مترجم)

سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک نصرانی غلام تھا اس کا نام ’’اشق‘‘ تھا، اس کا بیان ہے کہ میں حضرت عمرؓ کا نصرانی غلام تھا، آپؓ نے مجھ سے کہا: مسلمان ہو جاؤ تاکہ مسلمانوں کے بعض معاملات میں تم سے میں مدد لیا کروں کیونکہ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں ان لوگوں سے مدد لوں جو غیر مسلم ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا تو آپؓ نے فرمایا: لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌ ’’دین اسلام میں زبردستی نہیں‘‘ اور جب آپؓ کی وفات قریب ہوئی تو آپؓ نے مجھے آزاد کر دیا اور کہا: تمہاری جہاں مرضی ہو چلے جاؤ۔

اہلِ کتاب اپنی عبادت گاہوں اور گھروں میں اپنے مذہبی شعائر کی ادائیگی کرتے اور عبادت کے طریقوں کو بجا لاتے تھے، لیکن کوئی اس سے انہیں منع نہیں کرتا تھا، محض اس لیے کہ اسلامی شریعت نے انہیں عقیدہ کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔ امام طبریؒ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے اس معاہدہ کو نقل کیا ہے جس میں آپؓ نے ایلیا (بیت المقدس) والوں کی جان، مال، صلیب اور کنیسوں کو تحریری امان دی تھی۔ 

(معاملۃ غیر المسلمین فی المجتمع الإسلامی: إدوار غالی: صفحہ 41)

اسی طرح مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاصؓ نے مصر والوں کے لیے جو معاہدہ لکھا تھا اس میں تحریر تھا: 

  بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’حضرت عمرو بن عاصؓ کی طرف سے مصر والوں کے لیے یہ عہد نامہ ہے کہ انہیں ان کی جان، مذہب، مال، کنیسے اور صلیب میں نیز خشکی و سمندر میں امان دی جا رہی ہے۔‘‘

اور آپؓ نے مزید یہ کہتے ہوئے اپنے عہد نامہ کو پختہ کیا:

’’میرے اوپر یہ عہد نامہ یعنی اللہ کا عہد، اس کے رسول، امیر المؤمنین اور مسلمانوں کے ذمہ نافذ ہوگا۔‘‘ 

(نظام الحکم فی الشریعۃ الإسلامیۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 58 )

فقہاء کا اتفاق ہے کہ اسلامی حکومت میں ذمیوں کو اپنے مذہبی شعائر کی ادائیگی کا پورا حق ہے اور جب تک وہ ان شعائر کو علانیہ نہ کریں انہیں منع نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ ان شعائر کو علی الاعلان بجا لانا چاہتے ہیں، مثلاً صلیب کا جلوس باہر نکالیں تو فقہاء کی نگاہ میں انہیں صرف مسلم آبادی کے علاقوں میں اس سے منع کیا جائے گا، ان کے شہروں اور گاؤں میں نہیں منع کیا جائے گا۔

محمد غزالی نے آزادی عقیدہ کے باب میں اسلام کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’دنیا والوں کے لیے جس مذہبی آزادی کا اسلام ضامن ہے، سات براعظموں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مستقل طور پر کسی دین کی عالمی گرفت رہی ہو اور اپنے مذہبی مخالفین کو ترقی و بقا کے وہ اسباب مہیا کیے ہوں، جنہیں اسلام نے پیش کیا۔‘‘

حضرت عمر فاروقؓ معاشرہ میں مذہبی عقیدہ کی مکمل آزادی دیکھنا چاہتے تھے چنانچہ آپؓ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں اپنی سیاست کو نہایت مختصر و جامع انداز میں اس طرح بیان کیا:

’’ہم نے ان سے اس شرط پر معاہدہ کیا ہے کہ ان کے اور ان کے کنیسوں کے درمیان ہم کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے، ان کی جو مرضی ہو گی وہ اس میں پڑھیں گے وہ جس چیز کی طاقت نہیں رکھتے ہم انہیں اس کے لیے مکلف نہیں کریں گے، اگر ان کے دشمن ان کو تکلیف دینا چاہیں تو ہم ان سے لڑائی کریں گے، مزید ہمارا یہ عہد ہے کہ ان کے اور ان کے فیصلوں کے درمیان ہم حائل نہ ہوں گے مگر یہ کہ وہ خوشی خوشی ہمارے فیصلے کو ماننے کے لیے آگے آئیں تو ہم ان کا فیصلہ کریں گے اور اگر وہ ہم سے دور رہے تو ہم ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے۔‘‘ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 158)

سیّدنا عمرؓ ذمیوں کی غلطیوں سے بہت درگزر کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر وہ کبھی جزیہ دینے سے عاجز رہتے تو آپؓ انہیں معاف کر دیتے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا عمرؓ ایک مرتبہ ایک گھر کے دروازے سے گزرے اس پر ایک بھکاری آواز لگا رہا تھا: ’’بہت بوڑھا ہوں، اندھا ہوں، دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ آپؓ نے پیچھے سے اس کے بازو پر مارا اور کہا تم یہودی ہو یا نصرانی؟ اس نے کہا: یہودی، آپؓ نے پوچھا: میں جو دیکھ رہا ہوں اس کام پر تم کو کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے کہا: میں جزیہ کی ادائیگی، ضرورت کی تکمیل اور بڑھاپے کی وجہ سے مانگ رہا ہوں۔ آپؓ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور گھر سے کچھ دیا، پھر اسے بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا اور کہا: اسے اور اس طرح کے جو دوسرے لوگ ہوں ان کا خیال رکھو، اللہ کی قسم یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم اس کی جوانی کو کھا لیں، پھر بڑھاپے میں اسے رسوا کریں۔ اس کے بعد آپؓ نے اس سے اور اس طرح کے دوسرے لوگوں سے جزیہ معاف کر دیا۔ ( البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 98)اور پھر اپنے تمام گورنروں کے نام اس معاملے میں یہی فرمان جاری کیا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: دیکھیے محمد الدہلوی: جلد 2 صفحہ 725)

یہ تمام واقعات اسلامی انصاف پسندی پر دلالت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ اس بات کے ہمیشہ حریص رہے کہ آپؓ کی حکومت عدل و انصاف اور رعایا کے ساتھ نرمی کی بنیادوں پر قائم رہے، اگرچہ رعایا غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح خلافتِ راشدہ کی مدت میں مذہبی آزادی واضح شکلوں میں موجود رہی، ملکی سطح پر اس کی نگرانی ہوتی رہی اور شریعتِ ربانی کے ساتھ محفوظ رہی۔