مذہبی عقیدہ کی آزادی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مذہبی عقیدہ کی آزادی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

فقہاء کا اتفاق ہے کہ اسلامی حکومت میں ذمیوں کو اپنے مذہبی شعائر کی ادائیگی کا پورا حق ہے اور جب تک وہ ان شعائر کو علانیہ نہ کریں انہیں منع نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ ان شعائر کو علی الاعلان بجا لانا چاہتے ہیں، مثلاً صلیب کا جلوس باہر نکالیں تو فقہاء کی نگاہ میں انہیں صرف مسلم آبادی کے علاقوں میں اس سے منع کیا جائے گا، ان کے شہروں اور گاؤں میں نہیں منع کیا جائے گا۔

محمد غزالی نے آزادی عقیدہ کے باب میں اسلام کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’دنیا والوں کے لیے جس مذہبی آزادی کا اسلام ضامن ہے، سات براعظموں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مستقل طور پر کسی دین کی عالمی گرفت رہی ہو اور اپنے مذہبی مخالفین کو ترقی و بقا کے وہ اسباب مہیا کیے ہوں، جنہیں اسلام نے پیش کیا۔‘‘

حضرت عمر فاروقؓ معاشرہ میں مذہبی عقیدہ کی مکمل آزادی دیکھنا چاہتے تھے چنانچہ آپؓ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں اپنی سیاست کو نہایت مختصر و جامع انداز میں اس طرح بیان کیا:

’’ہم نے ان سے اس شرط پر معاہدہ کیا ہے کہ ان کے اور ان کے کنیسوں کے درمیان ہم کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے، ان کی جو مرضی ہو گی وہ اس میں پڑھیں گے وہ جس چیز کی طاقت نہیں رکھتے ہم انہیں اس کے لیے مکلف نہیں کریں گے، اگر ان کے دشمن ان کو تکلیف دینا چاہیں تو ہم ان سے لڑائی کریں گے، مزید ہمارا یہ عہد ہے کہ ان کے اور ان کے فیصلوں کے درمیان ہم حائل نہ ہوں گے مگر یہ کہ وہ خوشی خوشی ہمارے فیصلے کو ماننے کے لیے آگے آئیں تو ہم ان کا فیصلہ کریں گے اور اگر وہ ہم سے دور رہے تو ہم ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے۔‘‘ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 158)

سیّدنا عمرؓ ذمیوں کی غلطیوں سے بہت درگزر کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر وہ کبھی جزیہ دینے سے عاجز رہتے تو آپؓ انہیں معاف کر دیتے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا عمرؓ ایک مرتبہ ایک گھر کے دروازے سے گزرے اس پر ایک بھکاری آواز لگا رہا تھا: ’’بہت بوڑھا ہوں، اندھا ہوں، دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ آپؓ نے پیچھے سے اس کے بازو پر مارا اور کہا تم یہودی ہو یا نصرانی؟ اس نے کہا: یہودی، آپؓ نے پوچھا: میں جو دیکھ رہا ہوں اس کام پر تم کو کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے کہا: میں جزیہ کی ادائیگی، ضرورت کی تکمیل اور بڑھاپے کی وجہ سے مانگ رہا ہوں۔ آپؓ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور گھر سے کچھ دیا، پھر اسے بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا اور کہا: اسے اور اس طرح کے جو دوسرے لوگ ہوں ان کا خیال رکھو، اللہ کی قسم یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم اس کی جوانی کو کھا لیں، پھر بڑھاپے میں اسے رسوا کریں۔ اس کے بعد آپؓ نے اس سے اور اس طرح کے دوسرے لوگوں سے جزیہ معاف کر دیا۔ ( البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 98)اور پھر اپنے تمام گورنروں کے نام اس معاملے میں یہی فرمان جاری کیا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: دیکھیے محمد الدہلوی: جلد 2 صفحہ 725)

یہ تمام واقعات اسلامی انصاف پسندی پر دلالت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ اس بات کے ہمیشہ حریص رہے کہ آپؓ کی حکومت عدل و انصاف اور رعایا کے ساتھ نرمی کی بنیادوں پر قائم رہے، اگرچہ رعایا غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح خلافتِ راشدہ کی مدت میں مذہبی آزادی واضح شکلوں میں موجود رہی، ملکی سطح پر اس کی نگرانی ہوتی رہی اور شریعتِ ربانی کے ساتھ محفوظ رہی۔


صفحہ 2 از 2