آمدورفت اور صبح و شام چلنے پھرنے کی آزادی
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس آزادی کے شدید خواہش مند تھے، البتہ آپؓ نے بعض استثنائی حالات میں ضرورت کے پیشِ نظر اس کے ساتھ کچھ شرائط مقرر کر دیں تاہم وہ استثنائی حالات بھی بہت کم ہیں۔ ہم مثال کے طور پر یہاں صرف دو حالتوں کا تذکرہ ان کی اہمیت کے پیشِ نظر بیان کر رہے ہیں:
سیّدنا عمرؓ نے کبار صحابہؓ کو مدینہ سے باہر مفتوحہ علاقوں کا سفر کرنے سے روک دیا، مگر یہ کہ آپ سے اجازت لے لیں، یا کوئی سرکاری ذمہ داری دے کر انہیں بھیجا جائے، جیسا کہ کسی کو گورنر یا فوجی کمانڈر وغیرہ بنانا ہو۔ آپؓ نے یہ قدم اس لیے اٹھایا تھا تاکہ ان سے مشورہ لیا جاسکے اور حکومتی سطح پر مشکل حالات میں ان کی طرف رجوع کیا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ دوسرے شہروں میں ان کے سفر کرنے اور اقامت گزیں ہونے کے باعث ممکنہ فتنوں اور مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا ہونے سے بچا جا سکے۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 117)
یہ آپؓ کی سیاسی حکمت و بصیرت اور لوگوں کی طبیعتوں اور نفسیات سے بخوبی واقفیت کا نتیجہ تھا کہ آپؓ نے کبار صحابہؓ کو مدینہ میں روک لیا اور کہا: مجھے اس امت کے بارے میں سب سے زیادہ خوف آپؓ لوگوں کی دوسرے شہروں میں منتقلی سے ہے۔
(الاموال: أبوعبید: صفحہ 57 أحکام أہل الذمۃ: ابن القیم: جلد 1 صفحہ 38)
آپؓ کو یقین تھا کہ اگر اس سلسلہ میں کوتاہی ہوئی تو مفتوحہ علاقوں میں فتنہ پھیل جائے گا اور لوگ ممتاز شخصیات کے اردگرد حلقہ بنا لیں گے، پھر ان کے بارے میں شکوک و شبہات ابھرنے لگیں گے، جھنڈے اور قیادتیں مختلف ہو جائیں گی، پھر یہ چیز ہنگامہ آرائی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب بن جائے گی۔
(نصب الرایۃ: الزیلعی: جلد 7 صفحہ 453)
سیّدنا عمرؓ ایک ہی اسلامی ملک میں متعدد سیاسی اور دینی طاقتوں کے متعدد مراکز کے وجود سے ڈر رہے تھے کہ کہیں کسی شخص کے بارے میں یہ کہہ کر کہ یہ فلاں بزرگ صحابی ہیں، وہ فلاں جلیل القدر صحابی ہیں، اس کی رائے کی اہمیت و اجلال کا قلادہ گلے میں نہ ڈال لیا جائے اور پھر اس کی رائے حکومت سے صادر ہونے والی قرار داد کے درجہ تک پہنچ جائے۔ آپؓ نے متعدد طاقتوں کے متعدد مراکز، اور حکومتی گرفت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچانے کے پیشِ نظر کبار صحابہ کو مدینہ کے اندر باقی رکھنے میں بھلائی سمجھی، تاکہ قرار دادوں کے نفاذ میں وہ لوگ بھی آپؓ کے شریک مشیر بن سکیں اور انفرادی اجتہاد کی ہنگامہ آرائی سے محفوظ رہیں اگر یہ شرعی دلیل سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے نہ ہوتی تو آپؓ کی جانب سے صادر ہونے والا حکم نامہ قابلِ احترام اور قابلِ عمل نہ ہوتا۔
حضرت عمرؓ کو شرعی سند اس لیے ملی تھی کہ رعایا پر کوئی تصرف کرنا اس کی مصلحت سے مربوط ہے۔
دوسری استثنائی حالت اس وقت پیش آئی جب کہ عمرؓ نے نجران کے نصاریٰ اور خیبر کے یہودیوں کو عرب ممالک سے عراق اور شام کی طرف جلا وطنی کا حکم دے دیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ خیبر کے یہودی اور نجران کے نصاریٰ نے اپنے ان عہد و پیمان اور شرائط کا التزام نہیں کیا تھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کی تھیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کی تجدید کی تھی خیبر کے یہودی اور نجران کے نصاریٰ کی مجلسیں مکر و فریب کا ٹھکانا تھیں اس لیے ان شیطانی قلعوں کو ڈھانا اور ان کی قوتوں کو توڑنا بہت ضروری تھا البتہ دوسرے مقامات کے یہود و نصاریٰ مدنی معاشرہ میں عام رعایا کی طرح زندگی گزار رہے تھے اور اپنے سارے حقوق سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ امام بیہقیؒ نے اپنی سنن میں اور عبدالرزاق بن ہمام صنعانیؒ نے اپنی کتاب ’’مصنف‘‘ میں، ابن مسیبؒ اور ابن شہابؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا یَجْتَمِعُ دِیْنَانِ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔
ترجمہ: ’’جزیرۂ عرب میں دو دین اکٹھے نہیں ہو سکتے۔‘‘
امام مالکؒ کا بیان ہے کہ ابنِ شہابؒ نے کہا کہ اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے خوب چھان بین کی، یہاں تک کہ آپ کو رسول اللہﷺ کے اس فرمان کے بارے میں اطمینان و یقین ہو گیا کہ آپ نے فرمایا ہے:
لَا یَجْتَمِعُ دِیْنَانِ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔
چنانچہ آپؓ نے خیبر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا۔ امام مالکؒ کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے نجران اور فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 160)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر کامل یقین تھا، یہی وجہ تھی کہ یہود اور نجران کے نصاریٰ نے اسلام اور مسلمانوں کے تئیں اپنے سخت بغض و عداوت اور حسد کے باعث مسلمانوں کے ساتھ اپنے عہد و معاہدہ کا التزام نہ کیا۔ چنانچہ خیبر سے یہودیوں کی جلا وطنی کے بارے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خیبر والوں نے عبداللہ بن عمر کا ہاتھ پیر مروڑ ٹیڑھا کر دیا تو حضرت عمرؓ نے خطبہ دیا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے بٹائی کا معاملہ کیا تھا، اور فرمایا تھا:
نُقِرُّکُمْ مَا أَقَرَّکُمُ اللّٰہُ
’’جب تک اللہ تعالیٰ تم کو یہاں رکھے گا ہم بھی تم کو قائم رکھیں گے۔‘‘
اور عبداللہ بن عمرؓ اپنا مال وہاں لینے گئے، تو یہودیوں نے رات کو ان پر حملہ کر دیا اور ان کے ہاتھ پاؤں مروڑ ڈالے وہاں ان یہودیوں کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے، وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہی پر ہمارا گمان ہے۔ میں ان کو وہاں سے نکال دینا چاہتا ہوں۔ جب حضرت عمرؓ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو ابوحقیق کے لڑکوں میں سے ایک آپؓ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپؓ ہم کو نکال دیں گے؟ حالانکہ رسول اللہﷺ نے ہم کو ٹھہرایا تھا اور ہم سے بٹائی کا معاملہ کیا تھا اور شرط کر لی تھی کہ یہیں رہنا، حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا تو سمجھتا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کا فرمان بھول گیا ہوں، آپ نے فرمایا تھا:
’’کَیْفَ بِکَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَیْبَرَ تَعْدُوْ بِکَ قَلُوْصُکَ لَیْلَۃً بَعْدَ لَیْلَۃٍ۔‘‘
ترجمہ: ’’اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تو خیبر سے نکالا جائے گا، راتوں رات تیری اونٹنی تجھے لیے پھرے گی۔‘‘ اس نے کہا: یہ تو ابو القاسم نے مذاق سے کہا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے اور پھر آپؓ نے وہاں سے یہودیوں کو نکال دیا، اور پیداوار میں جو ان کا حصہ تھا اس کی قیمت ان کو دلوا دی کچھ نقد کچھ سامان دیا اونٹ، پالان، رسیاں وغیرہ۔
(المرتضٰی سیرۃ أمیر المومنین: أبوالحسن ندوی: صفحہ 109)
یہودیوں نے غداری کی تھی اور اپنے عہد و پیمان کو توڑا تھا، لہٰذا یہ ایک فطری تقاضا تھا کہ وصیتِ رسولﷺ کو نافذ کرتے ہوئے وہ جزیرۂ عرب سے باہر نکال دیے جائیں، حضرت عمرؓ نے ان کو ’’تیماء‘‘ اور ’’اریحا‘‘ بھیج دیا۔
رہے نجران کے نصاریٰ تو انہوں نے بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے اور دورِ صدیقیؓ میں اس کی تجدید کی تھی انہیں پورا نہ کیا، بعض شرائط کی خلاف ورزی کی، سود خور ہو گئے اور سودی کاروبار کرنے لگے، تو حضرت عمرؓ نے انہیں نجران سے عراق بھیج دیا اور وہاں کے حکام کو لکھا کہ: ’’شام اور عراق کے جن امراء کے پاس یہ جائیں وہ انہیں بنجر زمین دیں اور جس زمین کو وہ خود قابلِ زراعت بنا لیں گے تو ان کی زمینوں کے بدلے اور اللہ کی رضا کی خاطر انہیں وہ زمینیں دے دی جائیں۔‘‘ چنانچہ وہ عراق آئے اور کوفہ کے ایک گاؤں ’’نجرانیہ‘‘ کو اپنا مسکن بنایا۔
(السنن الکبرٰی: البیہقی: جلد 9 صفحہ 208، رقم الحدیث: 18751 مصنف عبد الرزاق: جلد 6 صفحہ 53، رقم الحدیث: 9884)
امام ابو یوسف کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ مسلمانوں کے بارے میں نصاریٰ سے ڈر رہے تھے۔
(صحیح البخاری: کتاب الشروط حدیث: 2730 )
یہود و نصاریٰ کے اخراج سے متعلق دیگر اسباب کے مہیا ہو جانے کے بعد اور رسول اللہﷺ کی وصیت کی تنفیذ کے پیشِ نظر حضرت عمرؓ نے ان کے بارے میں جو سیاست اپنائی اس کی صداقتیں آج بھی جھلک رہی ہیں، نیز بغیر کسی سختی، ظلم اور تعدی کے جب جزیرۂ عرب سے ان کے اخراج کے جائز اسباب آپؓ کو مہیا ہو گئے تو آپؓ نے نجران کے نصاریٰ اور خیبر کے یہودیوں کے مرکزی ٹھکانوں پر جو ٹھوس وار کیا اس میں بھی آپؓ کی فقہی بصیرت نمایاں ہے۔
ان واقعات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح آپؓ نے اسلام کے خلاف مکر و سازش کا ٹھکانا تیار ہونے سے پہلے ہی اسے ڈھا دیا، تاکہ زندہ اسلامی حکومت کے خاتمہ کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کا مخالفین کو موقع ہی نہ مل سکے۔