فدک کے متعلق شیعہ علماء کا دوسرا مؤقف - ردِ رافضیت | دفاع…

فدک کے متعلق شیعہ علماء کا دوسرا مؤقف

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

شیعہ علماء کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کو فدک ہبہ کرنے والی روایت کے راوی حضرت ابو سعید خدریؓ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت صحابی رسولﷺ حضرت ابو سعید خدریؓ کی نہیں ہے ابو سعید کلبی کی ہے ابو سعید کے ساتھ کلبی کے بجائے خدری کا لفظ صرف فریب دینے کے لئے لگا دیا گیا ہے۔ اور یہ حرکت ابو سعید کے شاگرد کوفہ کے عطیہ عوفی کی ہے اس کا شیخ محمد بن سائب کلبی ہے جو کبھی ابو سعید کے نام سے سامنے آتا ہے اور کبھی ابو ہشام اور کبھی ابو نصر کے نام سے اپنا تعارف کراتا ہے۔ اور عطیہ عوفی ابو سعید کہہ کر یہ تاثر دیتا ہے کہ روایت حضورﷺ کے صحابی ابو سعید خدریؓ کی ہے مگر حقیقت میں وہ ابو سعید کلبی کی ہوتی ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ صرف دھوکہ دینے کے لئے۔

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) حضرت امام احمد رحمہ اللہ (241ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ

قال أحمد بلغنى أن عطية كان ياتى الكلبی فياخذ عنه التفسير كان يكنيه بأبی سعيد فيقول قال أبو سعيد قلت يوهم أنه الخدری

(ميزان الاعتدال جلد 5 صفحہ 101)

مجھے خبر ملی ہے کہ عطیہ ابو سعید کلبی کے پاس آتا اور اس سے تفسیر پڑھتا تھا اور اس کی کنیت ابو سعید بیان کرتا وہ کہتا کہ ابو سعید نے کہا میں کہتا ہوں کہ وہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ لوگوں کو وہم میں ڈال دے کہ یہ بات ابو سعید خدریؓ نے بتائی ہے۔ (حالانکہ یہ بات ابو سعید کلبی کی ہوتی ہے)

عطیہ کوفی کا شیعی ہونا بہت واضح ہے اور وہ شیعی نہیں بلکہ مدلس بھی ہے۔۔۔۔۔۔ يخطئى كثيرا وکان شيعيا مدلسا قال أبوبكر البزاز كان يعده في التشيع ... وقال الساجی ليس بحجة

(تهذيب 226 تقریب جلد 2 صفحہ 24)

شیعہ علماء نے فدک کے ہبہ کرنے پر جن روایات سے استدلال کیا ہے آپ کو ان سب میں یہ عطیہ عوفی نظر آئے گا سو فدک کے ہبہ کرنے کی بات اس عطیہ عوفی اور اس کے شیخ ابو سعید کلبی نے کہی ہے حضرت ابو سعید خدریؓ نے نہیں۔

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) اس روایت ہبہ پر لکھتے ہیں

قلت هذا باطل ولو كان وقع ذلك لما جائت فاطمة تطلب شيئا هو في حرزها وملكها ومنه غير على من الضعفاء

( ميزان الاعتدال جلد 5 صفحہ 165)

میں کہتا ہوں کہ یہ روایت باطل ہے اگر حضور ﷺ نے واقعی فدک دے دیا ہوتا تو حضرت فاطمہؓ اس چیز کو مانگنے کیسے آتیں جو ان کے قبضہ اور ملکیت میں پہلے سے ہی موجود تھی اس روایت میں علی بن عباس کے سوا اور بھی کئی راوی ضعیف ہیں۔

مسند الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ (1239ھ) شیعہ علماء کے فریب کے ضمن میں لکھتے ہیں:

شیعہ علماء کی ایک جماعت بڑی چالاکی سے اہل سنت کی تفاسیر اور سیرت کی ان کتابوں میں جو علماء اور طلباء میں زیادہ معروف نہ ہوں یا نادر الوجود ہوں ایسی جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں جو شیعہ مذہب کی تائید اور اہل سنت کے مذہب کی تردید کرتی ہوں چنانچہ فدک کے ہبہ کا قصہ باز تفسیروں میں شامل کر دیا اور اس طرح بیان کیا کہ جب آیت ﴿ وات ذی القربیٰ حقه﴾ نازل ہوئی تو حضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو بلایا اور فدک ان کو دے دیا مگر اس کا کیا کریں کہ ان کو جھوٹ بولنا بھی نہ آیا اور انہیں یہ تک یاد نہ رہا کہ یہ آیت تو مکی ہے اس وقت فدک ملا ہی کہاں تھا پھر اس آیت میں مساکین اور مسافروں کو بھی دینے کا حکم دیا گیا تھا اس کو اس عطا سے کیوں محروم رکھا آیت کے حکم کے مطابق تو ان کو بھی حصہ ملنا چاہیے تھا تاکہ پوری آیت پر عمل ہو اس کے علاوہ ﴿اعطاھا فدک﴾ سے ہبہ و تملیک ثابت نہیں ہوتی اس لیے ان کو وھبھا کا لفظ گھڑنا چاہیے تھا۔

(تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 102 مترجم)

حضرت علامہ خالد محمود رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:

یہ امر صحیح نہیں کہ حضورﷺ نے اپنی زندگی میں باغ فدک حضرت سیدہؓ کو ہبہ کر دیا تھا ہبہ کی تمام روایات اسنادا صحیح نہیں اور بیشتر وضاع و کذاب قسم کے راویوں پر مشتمل ہیں

(عبقات من باب الاستفسارات جلد 1صفحہ 189)

ملحوظ رہے کہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے هدية الشیعہ میں، مشہور محقق مناظر حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ نے تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین میں، سابق شیعہ عالم محسن الملک مہدی رحمتہ اللہ نے آیاتِ بینات میں، امام پاکستان مولانا سید احمد شاہ بخاری رحمۃ اللہ تحقیق فدک کتب میں فدک پر تفصیلی بحث موجود ہے اور شیعہ علماء کی ہر دلیل کا بڑا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔


صفحہ 2 از 2