آزاد رائے
علی محمد الصلابیاسلام ہر فرد کو اظہار رائے کی آزادی کا مکمل حق دیتا ہے، خلفائے راشدینؓ کے دور میں یہ آزادی محفوظ تھی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں کو موقع دیتے تھے کہ اپنی بہترین آراء بیان کریں اور ما فی الضمیر کے اظہار سے انہیں روکتے نہ تھے۔
(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 189 )
جن مسائل میں کوئی شرعی نص نہ ہوتی ان میں اجتہاد کا موقع دیتے سیّدنا عمرؓ سے روایت ہے کہ آپؓ کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی، اس سے آپؓ نے پوچھا: تمہارے معاملے کا کیا بنا؟ اس نے کہا: علی اور زید رضی اللہ عنہما نے یہ فیصلہ کیا ہے آپ نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو اس طرح فیصلہ کرتا۔ اس نے کہا: خلافت آپؓ کی ہے، رکاوٹ کس بات کی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: اگر میں تمہیں کتابِ الہٰی اور سنتِ نبویﷺ پر قائل کرتا تو اب تک کر گزرتا، لیکن اس سلسلہ میں میرے پاس کتاب و سنت کی نص نہیں ہے، صرف میری رائے ہے اور سب آراء برابر ہیں خواہ میری رائے ہو یا علی و زید کی اس لیے میں ایسا نہیں کر سکتا۔ اس طرح سیدنا عمر فاروقؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اجتہادی مسائل میں اظہار رائے کی آزادی دے رکھی تھی اور انہیں کبھی اجتہاد سے نہیں روکا، نہ کسی مخصوص رائے کے اظہار پر مجبور کیا۔
(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 190 )
عہد فاروقیؓ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں حاکم وقت پر تنقید اور اسے نصیحت کرنے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا حضرت عمرؓ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! تم میں کوئی بھی شخص اگر مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے تو اسے سیدھا کر دے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اگر ہم آپؓ میں ٹیڑھا پن دیکھیں گے تو اسے اپنی تلواروں سے سیدھا کریں گے، حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں ایسا بھی آدمی پیدا کیا ہے جو عمر کے ٹیڑھے پن کو اپنی تلوار سے سیدھا کرے گا۔
(المغنی: جلد 5 صفحہ 579، نظام الارض: محمد أبویحیٰی: صفحہ 207 )
اور خطبہ خلافت میں آپؓ نے فرمایا تھا: ’’مجھے بھلائی کا حکم دے کر، برائی سے روک کر اور مجھے نصیحت کر کے میری مدد کرو۔‘‘
سیّدنا عمرؓ نے آزاد تعمیری سیاست کی سرگرمی یعنی نصیحت و خیر خواہی کو رعایا پر ایک واجبی ذمہ داری قرار دے دیا تھا اور حاکمِ وقت کا یہ حق ہے کہ رعایا سے نصیحت کا مطالبہ کرے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’اے ہماری رعایا کے لوگو! تم پر ہمارا یہ حق ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں خیر خواہ رہو اور خیر پر ہماری مدد کرو۔‘‘
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: حمد الصمد: صفحہ 192)
آپؓ کی نگاہ میں امتِ مسلمہ کے ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آپؓ کی نگرانی کرتا رہے اور اگر آپؓ سیدھے راستہ سے ہٹتے ہیں تو ٹیڑھے پن کو درست کرے خواہ تلوار ہی کے ذریعہ سے ہو، آپؓ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تم میں جو شخص مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے وہ اسے درست کر دے۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 65 )
آپؓ کہا کرتے تھے: ’’میرے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے جو میرے عیوب سے مجھے آگاہ کرے۔‘‘
(السلطۃ التنفیذیۃ: دہلوی: جلد 2 صفحہ 738 )
اور آپؓ کا قول ہے: ’’مجھے خوف ہے کہ میں غلطی کروں اور میرے ڈر سے کوئی مجھے سیدھا راستہ نہ دکھائے۔‘‘
(خبار عمر: صفحہ 331، 332 بحوالہ: الریاض النضرۃ)
ایک دن ایک آدمی آپؓ کے پاس آیا اور مجمع عام کے سامنے کہا: اے عمرؓ! اللہ سے ڈرو، بعض لوگ اس کی بات سن کر غصہ ہو گئے اور اسے خاموش کرنا چاہا، تو حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا: تم میں کوئی خیر نہیں اگر تم عیب کو نہ بتاؤ اور ہم میں کوئی خیر نہیں اگر ہم اس کو نہ سنیں۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 197 )
ایک دن آپؓ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے، آپؓ نے اتنا ہی کہا تھا: ’’اے لوگو! سنو اور اطاعت کرو‘‘ کہ ایک آدمی نے بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’اے عمرؓ! نہ ہم سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے‘‘ حضرت عمرؓ نے اس سے نرمی سے پوچھا: اللہ کے بندے کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ بیت المال سے جو کپڑا سب میں تقسیم کیا گیا اس سے لوگ صرف قمیص بنوا سکے، جوڑا مکمل نہیں ہوا اور آپؓ کو بھی اتنا ہی کپڑا ملا ہو گا، پھر آپؓ کا جوڑا کیسے تیار ہو گیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، اور پھر اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا، عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو اپنے حصے کا کپڑا دیا ہے تاکہ ان کا لباس مکمل ہو جائے۔ یہ سن کر صحابہؓ مطمئن ہو گئے اور اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! اب سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔
ایک موقع پر آپؓ نے خطبہ دیا اور فرمایا: 40 اوقیہ سے زیادہ عورتوں کا مہر مقرر نہ کرو، اگرچہ وہ ذی القصہ یعنی یزید بن حصین ہی کی بیٹی کیوں نہ ہو، جس نے اس سے زیادہ متعین کیا تو جو زائد ہو گا، وہ بیت المال کے حوالے کر دیا جائے گا، ایک صحابیہؓ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: آپؓ کو یہ حق نہیں پہنچتا۔
آپؓ نے پوچھا: کیوں؟
اس نے کہا: اس لیے کہ فرمانِ الہٰی ہے:
وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡــئًا اَتَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا ۞(سورۃ النساء: آیت 20)
ترجمہ: ’’اور ان (بیویوں) میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے۔‘‘
سیّدنا عمرؓ نے فرمایا: عورت نے صحیح کہا اور مرد نے غلطی کی۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 197)
اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے کہا: اے اللہ مجھے بخش دے، ہر انسان مجھ عمر سے زیادہ سمجھ دار ہے۔ پھر آپؓ لوٹ گئے اور منبر پر چڑھے اور کہا: اے لوگو! میں نے عورتوں کا مہر چار سو 400 درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے تم کو منع کیا تھا، لیکن جو اپنے مال سے خوشی خوشی جتنا بھی دینا چاہے دے سکتا ہے۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 197)
شریعتِ اسلامی میں آزادی رائے کا مطلب مطلق العنانی نہیں ہے کہ جس طرح جو چاہے کہے، بلکہ یہ آزادی اس بات کے ساتھ مقید و مشروط ہے کہ اس سے دوسروں کی ایذا رسانی مقصود نہ ہو، وہ ایذا رسانی عام ہو یا خاص ہو، آزادی رائے کے بارے میں جن چیزوں پر آپؓ نے پابندی لگائی اور ان کی ہلاکت خیزیوں سے ہمیشہ آگاہ کرتے رہے۔ ان میں سے دو بہت اہم ہیں: