فدک کے بارے میں شیعہ علماء کا تیسرا مؤقف - ردِ رافضیت |…

فدک کے بارے میں شیعہ علماء کا تیسرا مؤقف

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

(2) اللّٰہ تعالٰی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حکم بھیجا کہ فدک کی زمین حضرت خدیجہؓ اور ہندہ کی ہے اس کی وارث حضرت فاطمہؓ ہیں لہٰذا انہیں یہ میراث دے دی جائے۔

(3) حضورﷺ نے حضرت خدیجہؓ کے مہر کے بدلے فدک کی زمین حضرت فاطمہؓ کو دی۔

(4) حضرت خدیجہؓ نے اپنا مہر خود اپنے ذمے لیا جس کا اعلان نکاح کے وقت کیا۔

(5) مہر کی مقدار 12 اوقیہ سونا مقرر ہوئی۔

(6) مہر 400 اشرفی مقرر ہوا۔

اس قدر تضاد بیانات کااااااش کوئی دانشور اس معمہ کو حل کر دے

شیعہ علماء کی ایک اور من گھڑت کہانی

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا تمہاری قرابت دار فاطمہؓ ہیں اور تمام فدک ان کا حق ہے یہ سن کر جناب رسول خدا ﷺ نے جناب فاطمہؓ کو بلایا اور ہبہ نامہ (کاغذ پر) لکھ کر فدک جناب فاطمہؓ کی ملکیت میں دے دیا۔

(حیات القلوب جلد 2 صفحہ 666 مترجم)

ہم علمائے و ذاکرین شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے فدک کے معاملہ پر پیغام بھیج کر بات کی تو کیا انہوں نے حضورﷺ کے ہاتھ کی لکھی وہ تحریر دکھائی تھی جس کا اس روایت میں دعویٰ کیا گیا ہے اگر حضرت فاطمہؓ کے پاس وہ نبوی تحریر موجود تھی جس میں حضورﷺ کی جانب سے ان کو ہبہ کرنے کی تصدیق تھی تو حضرت فاطمہؓ نے آپؓ کو وہ کیوں نہیں دکھائی؟ اور نہ حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے پوری زندگی اس تحریر کا کہیں ذکر کیا تھا۔

ہمارے پاس ان بعض شیعہ جاہلوں کے اس جھوٹ کا بھی کوئی علاج نہیں کہ حضورﷺ کی یہ تحریر حضرت فاطمہؓ کے گھر کے دروازے پر لٹکی ہوئی موجود تھی جب عمرؓ نے ان کے دروازے کو آگ لگا دی تو وہ تحریر جل کر راکھ ہوگئی تھی اس لیے آپؓ اسے نہ دکھا سکیں اور سارا ثبوت جل گیا۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

غلام نجفی ہماری نہیں مانتا کم از کم وہ اپنے گھر کی شہادت تو تسلیم کر لے اور حضرت باقر رحمہ اللّٰہ سے فیصلہ کروالے کہ یہ آیت مکی ہے یا مدنی؟

اوپر شروع میں حضرت محمد باقر رحمہ اللّٰہ کی روایت نقل کی ہے إن الله عز وجل أنزل في سورة بني إسرائيل بمكة

اس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ قرآن کی اس آیت کا فدک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس جھوٹ کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں کہ حضورﷺ نے قرآنی ہدایت کی رو سے فدک حضرت فاطمہؓ کو دے دیا تھا۔

شیعہ علماء اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قرابت داروں کو ان کا حق دینے کا حکم فرمایا ہے تو سوال یہ ہے کہ فدک صرف حضرت فاطمہؓ کا حق تھا جسے اللہ تعالی نے دینے کا حکم دیا؟ اگر واقعی فدک سیدہ فاطمہؓ ہی کا حق تھا تو پھر میراث اور ہبہ کی تمام روایتیں باطل ٹھہرتی ہیں اور اگر ہبہ اور میراث کی روایتیں درست مانی جائیں تو شیعہ علماء کا اس آیت سے استدلال غلط ہوتا ہے۔



صفحہ 2 از 2