آزادی رائے کے بہانے لوگوں کی عزتوں پر حملہ کرنا
علی محمد الصلابیسیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حُطَیئہ (یہ واقعہ شام کے راستہ میں پڑنے والے شہر قسطنطین جاثلیق کا ہے۔) کو درج ذیل شعر کے ذریعہ سے زبرقان بن بدر (ہواء والفرق والبدع وموقف السلف منہا: دیکھئے ناصر العقل: صفحہ 223 ) کی ہجو کرنے کی وجہ سے قید کر دیا۔ اس نے کہا تھا:
دع المکارم لا ترحل لبغیتہا
واقعد فانک انت الطاعم الکاسی
’’بلند اخلاق کی تلاش چھوڑ دو، اس کے لیے سفر نہ کرو اور گھر میں بیٹھ جاؤ، تم تو صرف کھانے والے اور کپڑا پہننے والے ہو۔‘‘
اس شعر میں اس نے آپؓ کو عورتوں سے اس سلسلہ میں تشبیہ دی تھی کہ انہیں گھروں میں بٹھا کر کھلایا، پلایا اور کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ سیّدنا عمرؓ نے حطیئہ کو دھمکی دی کہ اگر اس نے مسلمانوں کی ہجو بند نہ کی اور ان کی عزتوں پر حملہ کیا تو اس کی زبان کاٹ دی جائے گی۔ حطیئہ نے پسِ دیوار زنداں قید کی حالت میں آپؓ سے نرمی کا مطالبہ کیا اور یہ اشعار پڑھے:
ما ذا أقول لا فراخ بذی مرخ
زغب الحواصل لا ماء ولا شجر
’’بے آب و گیاہ ذی مرخ کے نو نہالوں سے میں کیا کہوں جن کے ابھی بال و پر بھی نہیں اُگے۔‘‘
القیت کاسبہم فی قعر مظلمۃ
فاغفر علیک سلام اللہ یا عمر
’’ان کے ذمہ دار کو آپؓ نے تاریکی کے عمیق گڑھے میں ڈال دیا، اے عمرؓ! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو، مجھے بخش دیجیے۔‘‘
أنت الأمیر الذی من بعد صاحبہ
القی الیک مقالید النہی البشر
’’آپؓ ایسے امیر ہیں جسے اپنے (خلیفۂ اوّل) کے بعد لوگوں نے دانائی کی کنجیاں سونپ دی ہیں۔‘‘
یہ سن کر سیّدنا عمرؓ کا دل نرم پڑ گیا اور اسے رہائی دے دی اور یہ وعدہ لیا کہ کسی مسلمان کی ہجو نہ کرو گے۔
(اس کا نام صبیغ بن عسیل الحنظلی ہے۔ اس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قرآن کی متشابہ آیات کے بارے میں سوال کیا اور سیّدنا عمرؓ نے اسے خوارج کی رائے سے متہم قرار دیا۔)
روایات میں یہ بھی وارد ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے حطیئہ کو تین ہزار درہم دے کر مسلمانوں کی ہجو میں کہے گئے اشعار اس سے خرید لیے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا:
وأخذت أطراف الکلام فلم تدع
شتمًا یضر ولا مدیحًا ینفع
’’آپؓ نے میرے شاعرانہ کلام کی نوک پلک تک کو خرید لیا، آپؓ نے تکلیف پہنچانے والی کوئی گالی نہیں چھوڑی اور نہ کوئی مدح سرائی کہ جو کسی کو نفع پہنچائے۔‘‘
ومنعتی عرض البخیل فلم یخف
شتمی واصبح آمناً لا یفزع
(شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ: اللالکائی: جلد 30 صفحہ 634، 635)
حطیئہ کا نام جرول بن مالک بن جرول ہے۔ پست قامت ہونے کی وجہ سے اس کا حطیئہ لقب ہو گیا۔
’’آپؓ نے مجھے اس کلام کو بخیل پر پیش کرنے سے روک دیا، پس وہ میری ہجو سے نہیں ڈرتا، وہ بہت امن سے ہے، کچھ بھی نہیں گھبراتا۔‘‘