اہل کتاب یہودی و عیسائی عورتوں سے شادی کے بارے میں سیّدنا…

اہل کتاب یہودی و عیسائی عورتوں سے شادی کے بارے میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

کتابیہ عورت سے شادی کرنے کے لیے سیّدنا عمرؓ نے جن قیود و شرائط کو وضع کیا، بلاشبہ ملک کی عظیم مصلحتوں اور اسلامی معاشرے کے بلند ترین اہداف و مقاصد سے ان کا بہت گہرا تعلق ہے، غیر ملکی اور دوسرے مذاہب کی عورتوں سے اپنے لڑکوں کی شادی کرنے میں جو نقصانات ہیں اور اس کی وجہ سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ملک کو جو خطرات درپیش ہوتے ہیں، ان مفاسد کو بیدار قوموں نے اچھی طرح پہچان لیا اور ان سے حفاظت کی خاطر قوانین وضع کیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو مختلف میدانوں میں اپنے ملک کی نیابت کرتے ہیں۔ اس احتیاطی اقدام کے لیے جائز اور معتبر اسباب بھی ہیں، مثلاً یہ کہ بیوی اپنے شوہر کے تمام اسرار و رموز سے اگرچہ واقف نہ ہو سکے لیکن شوہر سے باہمی محبت و تعلق کے اعتبار سے اس کے بیشتر اسرار و احوال سے وہ واقف ہو ہی جاتی ہے۔

سیّدنا عمرؓ پیشِ نظر موضوع کے شدت اہتمام میں اپنے بعد آنے والے تمام حکمرانوں کے لیے ہر دور میں ایک تجربہ کار اور کامل استاد مانے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے میں بہت زیادہ مفاسد ہیں، ہم ان سے ناواقف ہیں، وہ ہر چیز میں ہماری شریعت میں مخالفت کرتی ہیں، ان میں سے اکثر اپنے دین پر باقی رہتی ہیں، وہ ایمان کی حلاوت اور اس میں شوہروں کے تئیں وفاداری اور عزت و احترام کی جو تعلیم ہے اس سے نابلد ہوتی ہیں۔ سیّدنا عمرؓ نے اپنی دینی بصیرت، لوگوں کی طبیعتوں سے اچھی واقفیت اور مسلمانوں کے نفع و نقصان کے بارے میں بہترین معرفت کے نتیجہ میں ان نقصانات کو بھانپ لیا اور اس سلسلہ میں فوراً اور سخت حکم نافذ کیا۔ 

(فقہ الأولویات: محمد الوکیلی: صفحہ 77 )

خلافتِ راشدہ کے عہد میں آزادی محفوظ و مضبوط تھی، اس کی حدود اور شرائط تھیں اسی لیے مسلم معاشرہ عروج پر رہا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔ پس آزادی فرد اور معاشرہ دونوں کا بنیادی حق ہے جس سے وہ اپنی شخصیت میں نکھار اور صلاحیتوں میں نمو پیدا کرتا ہے اور معاشرہ سے آزادی کو چھین لینا، اس کے اہم ترین عناصر کو چھین لینے کے مترادف ہے، بلکہ وہ موت سے زیادہ مشابہ ہے۔

اسلامی آزادی داخلی نور ہے جس نے انسانوں کو اللہ سے جوڑ کر ان کے دلوں کو منور کر دیا اور وہ اس تعلق الہٰی کی وجہ سے رفعت و بلندی کی منزلوں تک پہنچ گئے، وہ آسمانوں اور زمین کے ربّ کی رضامندی کے لیے نیک اعمال اور کارِ خیر میں سبقت کرنے کے عادی ہو گئے گویا آزادی اسلامی معاشرہ کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے، وہ خلفائے راشدینؓ کے دور میں نہایت خوش گوار و روشن شکل میں باقی رہے اور اس کی چمک دمک ہر دور کے چہرے پر دیکھی گئی۔ 

(شہید المحراب: عمر التلمسانی: ص 214)


صفحہ 2 از 2