خلیفہ کے اخراجات ہجری تاریخ کا آغاز اور امیر المؤمنین کا لقب
علی محمد الصلابیخلافت ایک شرعی اور نیکی کا کام ہے جس سے اللہ کی رضامندی مقصود ہوتی ہے۔ جو اس منصب پر فائز ہوتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے اسے چلاتا ہے، اس کے لیے ثواب کی امید کرتا ہے کہ اللہ کے پاس اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا، کیونکہ وہ احسان کرنے والوں کو ان کے احسان کا اور برائی کرنے والوں کو ان کی برائی کا بدلہ دیتا ہے۔
(شہید المحراب: عمر التلمسانی: صفحہ 214)
اللہ کا ارشاد ہے:
فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡنَ ۞(سورۃ الأنبياء: آیت 94)
ترجمہ: ’’پس جو شخص کوئی نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقیناً ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔‘‘
یہ تو اس کا اخروی بدلہ ہے، البتہ دنیوی بدلہ، چونکہ خلیفہ امت کے بہترین مفاد میں اپنے منافع کو نہیں لیتا اور اس کے حق میں اپنی پوری ذمہ داری نبھاتا ہے، لہٰذا اسے بدلہ لینے کا پورا حق ہے، کیونکہ جب منافع روک دیا جائے تو وہ مقابل میں دو عوض کا مستحق ہوتا ہے اور یہ فقہی قاعدہ ہے کہ ’’ کُلُّ مَحْبُوْسٍ لِمَنْفَعَۃِ غَیْرِہٖ یَلْزِمُہُ نَفَقُتْہُ کَمُفْتٍ وَقَاضٍ وَوَالٍ۔‘'
ترجمہ: ’’جو دوسرے کی منفعت کی خاطر اپنے آپ کو وقف کر دے تو وہ اپنے اخراجات وصول کرنے کا حق دار ہے، جیسے کہ مفتی، قاضی اور حکمران وغیرہ۔‘‘
مناصب و ذمہ داریاں اٹھانے کے عوض تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن لوگوں کو گورنر بنایا ان کو تنخواہیں دیں۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب حضرت عمرؓ مسلمانوں کے خلیفہ بنائے گئے تو کافی دنوں تک آپؓ نے بیت المال سے کچھ نہ لیا، یہاں تک کہ آپؓ کو کافی تنگی کا سامنا کرنا پڑا، رعایا کے کاموں میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپؓ کی تجارت کی آمدنی بھی کم ہو گئی۔ اس وقت آپؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلوایا اور ان سے اس سلسلہ میں مشورہ لیا۔ آپؓ نے کہا: میں نے خود کو اس منصب خلافت کے لیے مشغول کر دیا ہے تو اس بیت المال سے مجھے کتنا لینا درست ہے؟ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: کھائیے اور کھلائیے۔ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہھما (المجتمع الاسلامی: دیکھیے محمد ابوعجوۃ: صفحہ 245) نے بھی یہی رائے پیش کی۔ پھر سیدنا عمرؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: دوپہر اور شام کا کھانا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی پر عمل کیا اور بیت المال سے اپنا حق لینے کے بارے میں کہا: میں نے اللہ کے مال کی حفاظت میں خود کو یتیم کے نگران کے قائم مقام بنا لیا ہے۔ اگر میں اس سے بے نیاز ہو گیا تو لینا چھوڑ دوں گا اور اگر اس کا ضرورت مند ہوا تو اس میں سے معروف طریقہ سے کھاؤں گا۔
(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 215)
اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمرؓ صحابہؓ کی ایک جماعت کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: تم مجھے اللہ کے مال سے کتنا لینے کی اجازت دیتے ہو؟ یا اللہ کے مال کے علاوہ کہا: اس مال سے کتنی اجازت دیتے ہو؟ صحابہؓ نے کہا: امیر المؤمنین اس سلسلہ میں ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو تم کو بتا دوں کہ اس میں سے کتنا اپنے لیے حلال سمجھتا ہوں؟ جتنے میں سواری خرید سکوں تاکہ اس پر سوار ہو کر حج و عمرہ کر سکوں اور موسم سرما میں سردی کا ایک جوڑا، اور موسم گرما میں گرمی کا ایک جوڑا اور میرے اہل و عیال کے لیے آسودگی بھر خوراک اور میرا حصہ مسلمانوں میں، کیونکہ میں مسلمانوں ہی کا ایک فرد ہوں۔‘‘ معمر کا بیان ہے کہ آپؓ جس سواری سے حج وعمرہ کرتے تھے وہ صرف ایک اونٹ تھا۔
(المبسوط: جلد 15 صفحہ 147، 166 المغنی: جلد 5 صفحہ 445 )
خلیفۂ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی رعایا کی امانت کی ادائیگی کی زندہ و تابناک مثالیں چھوڑی ہیں۔
مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مال فے کا ذکر کیا اور کہا: اس مال فے کا میں تم سے زیادہ مستحق نہیں ہوں، بلکہ اس مال کا کوئی بھی کسی سے زیادہ مستحق نہیں ہے، مگر ہم کتاب اللہ اور تقسیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق اپنے اپنے مراتب پر ہیں۔ پس آدمی کو حصہ ملے گا اور اس کے سبقت اسلام کی رعایت ہو گی اور آدمی کو حصہ ملے گا اور اس کی مجاہدانہ کاوشوں کی رعایت ہو گی اور آدمی کو حصہ ملے گا اور اس کے کثرت اہل و عیال کی رعایت ہو گی اور آدمی کو حصہ ملے گا اور اس کی ضرورت کی رعایت ہو گی۔
(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 215)
ربیع بن زیاد حارثی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمرؓ کے پاس آئے، آپؓ کی بدحالی اور تنگی دیکھ کر تعجب میں پڑ گئے اور کہنے لگے: ’’اے امیر المؤمنین! آپؓ اچھے کھانے، بہترین سواری اور نرم کپڑے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ اس وقت آپؓ موٹی خوراک تناول فرما رہے تھے۔ یہ سن کر آپؓ نے اپنے پاس رکھا ہوا ایک ڈنڈا اٹھایا اور ان کے سر پر دے مارا، پھر کہا: ’’تم نے اللہ کی رضامندی کے لیے نہیں بلکہ میری قربت چاہنے کے لیے یہ بات کہی ہے۔ اگرچہ میرا گمان ہے کہ تم میں بھلائی ہے، تمہارا برا ہو، کیا تم میری اور ان لوگوں رعایا کی مثال جانتے ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا: کیا مثال ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ’’اس قوم کی مثال ہے جس نے سفر شروع کیا اور اپنا زادِ راہ اپنے میں سے کسی ایک آدمی کو بطورِ امانت دے دیا اور کہہ دیا کہ ہمارے اوپر حسبِ ضرورت خرچ کرو۔ ایسی صورت میں کیا اس کے لیے حلال ہے کہ اس میں سے کسی چیز کے بارے میں خود کو دوسروں پر ترجیح دے؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں اے امیر المؤمنین! آپؓ نے فرمایا: ’’بس میری اور ان کی یہی مثال ہے۔‘‘
(آپ سعید بن زید العدوی صحابی ہیں ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں)
فقہائے شریعت نے خلیفہ کے اخراجات کے بارے میں سنتِ نبویﷺ اور خلافت راشدہ کے واقعات سے کئی شرعی احکام مستنبط کیے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
الف: خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کے عوض تنخواہ لے سکتا ہے۔ نووی (الخلافۃ الراشدۃ: دیکھئے یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 270 اس کی سند صحیح ہے۔)
ابن العربی (مصنف عبدالرزاق: حدیث: 20046۔ نقلاً عن السلطۃ التنفیذیۃ۔)
بہوتی (سنن ابی داؤد: حدیث 2950 اور ابن مفلح وغیرہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔
ب: دونوں خلیفہ راشد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے پر اپنا خرچ لیا۔
ج: یہ خرچ مسلمانوں کے معاملات میں مشغولیت کی وجہ سے لیا گیا، جیسے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خود بیان کیا۔
د: خلیفہ کے لیے مطلق طور پر ذاتی خرچ لینا جائز ہے، خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور ابنِ منیر کی رائے ہے کہ اسے خرچ لینا ہی بہتر ہے کیونکہ نہ لینے کی بہ نسبت لینا اس کے کام کے لیے زیادہ معاون ثابت ہو گا اور ایسی صورت میں اسے یہ احساس رہے گا کہ خرچ لینے کے عوض اس پر کام کرنا واجب ہے۔