Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غیر مقلدین کے تمام جھوٹ بے نقاب نواب وحید الزّمان غیر مقلد تھا

  ڈاکٹر فیض احمد چشتی

غیر مقلدین کے تمام جھوٹ بے نقاب نواب وحید الزّمان غیر مقلد تھا

اب ان کا کوئی جھوٹ بھی اپنا اثر نہیں دکھا سکتا کوئی دجل بھی کار آمد نہیں کیوں کہ فرقہ غیر مقلد نام نہاد اہل حدیث کے دیگر موجودہ اور فوت شدہ اکابرین غیر مقلدیت نے وحید الزمان کی تعریفوں کے پل باندھے اور اس کی فرقہ جماعت غیر مقلدین کے لئے کی گئی خدمات کی کا اعتراف کیا ۔

دیکھئے​ : چالیس علمائے اہلِ حدیث نامی کتاب میں صفحہ نمبر سات پر وحید الزمان کو اکابرین اہلحدیث کی فہرست میں دسواں نمبر الاٹ کیا گیا ہے ۔ پھر صفحہ نمبر9 پر وحید الزمان کی کتابوں کی تعداد اعزازی انداز میں لکھی پڑی ہے ۔ صفحہ 102 پر تمہارے بہت بڑے مولوی صاحب جناب نزیر حسین دھلوی صاحب فرماتے ہیں : “میں اپنی تمام مرویات حیثہ کی یعنی صحاح ستہ وغیرہ کی روایت کی اجازت مولوی وحید الزمان کو دیتا ہوں جو بڑے زیرک ،نہایت روشن دماغ اور صائب الرائے آدمی ہیں۔(نذیر حسین دھلوی)

پھر اسی چالیس علمائے اہل حدیث نامی کتاب کے صفحہ نمبر 17 پر صاحب کتاب عبدالرشید عراقی نے مزید چند اشخاص کے نام پیش کئے کہ جنہوں نے مزکورہ کتاب “چالیس علمائے اہل حدیث ” کی تدوین میں مدد و معاونت کی اور اکابرین کی خدمات کی تحقیق فرمائی ۔ اور جن اکابرین کی شخصیات و خدمات کو بعد تحقیق اس کتاب کی زینت بنایا گیا ان میں دسویں نمبر پر وحید الزمان غیر مقلد کو دسویں نمبر پر رکھا گیا ۔ مقدمہ لکھا غیر مقلدوں کے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز صاحب نے اور صفحہ 21 پر مقدمہ کتاب میں ہی موصوف شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز صاحب وحید الزمان کی تعریف فرماتے ہیں :“مولانا وحید الزمان حیدرآبادی کی خدمات حدیث ناقابل فراموش ہیں ۔ جیسا کہ غیر مقلدین اکثر ڈھکوسلہ دیتے ہیں کہ وحید الزمان غیر مقلد نہیں تھا وغیرہ وغیرہ ۔لیکن اس مقدمہ کتاب کو لکھنے کی تاریخ درج ہے صفحہ 24 پر 11ستمبر2001۔موصوف شیخ الحدیث تو ہیں پر انہیں یہ بھی معلوم نہیں‌تھا 2001تک کہ وحید الزمان اہل حدیث نہیں تھا بلکہ شیعہ ہوکر مر گیا تھا؟

مزید ایک اور صاحب جن کا نام پروفیسر حافظ عبدالستار حامد ہے،نے کتاب کا تعارف پیش کیا ہے صفحہ 25 سے ۔ “پروفیسر حافظ عبدالستار حامد اسی صفحہ 25 پر لکھتے ہیں “ملک عبدالرشید عراقی نے اپنی اس کتاب “علمائے حدیث“ میں چالیس جلیل القدر علمائے کرام کے حالات زندگی اور ان کی علمی خدمات کا تزکرہ کیا ہے۔۔۔“(اور ان جلیل القدر علمائے کرام میں وحید الزمان بھی تو شامل ہے) کتاب کی تقریظ لکھی ہے پروفیسر حکیم راحت نسیم سوہدروی صاحب نے 22ستمبر 2001 اور اسی تقریظ میں فرماتے ہیں “عراقی صاحب کو شخصیات پر لکھنے کا ملکہ حاصل ہے۔ان کی یہ کتاب علمائے اہلحدیث علمی دنیا میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔۔۔۔“(صفحہ29)

“فتاوٰی نزیریہ صفحہ 772 پر امرتسری صاحب نے وحید الزمان کو غیر مقلد (نام نہاد اہل حدیث) لکھا ہے ۔

حیات نذیر نامی کتاب میں وحید الزمان کو “جلیل القدر عالم اور محدث۔۔۔ قوی حافظہ والا۔۔۔مطالعہ کتب کا شوقین۔۔۔ذہین و عالی ذکاوت والا کہا گیا۔ اور وحید الزمان کی کتاب “وحید اللغات “ کو مشہور کتاب کہا اور اس کی تعریف کی گئی ۔

غیر مقلدین کا مستند رسالہ ” محدث ” جس کا غیر مقلدین بڑا چرچا کرتے ہیں

اس کے مئی 1986 کے شمارے میں وحید الزمان کی فرقہ جماعت اہل حدیث کے لئے خدمات کا اعتراف ہے اور ظاھر ہے اسے اہل حدیث مانتے ہیں تو ” محدث” میں اسے جگہ دی گئی ۔ مولانا وحید الزمان حیدر آبادی،م 1338ھ آپ کا سن ولادت 1850ء؍1267ھ ہے ۔

ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مسیح الزمان(م1295ھ) او ربرادر بزرگ مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) سے حاصل کی۔ 15 سال کی عمر میں درس نظامی سے لے کر انتہائی عربی علوم و معقول میں تکمیل کرکے فارغ التحصیل ہوگئے۔1

اساتذہ فنون : مولانا مفتی عنایت احمد(مصنف علم الصیغہ) مولانا سلامت اللہ کانپوری تلمیذ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا محمد بشیر الدین قنوجی(م1273ھ)مولانا عبدالحئ لکھنوی(م1304ھ) مولانا عبدالحق بنارسی (م1278ھ)مولانا لطف اللہ علی گڑھی رحمہم اللہ تعالیٰ)

اساتذہ حدیث : حضرت شیخ الکل مولانا سیدمحمد نذیر حسین محدث دہلوی(م1320ھ) علامہ شیخ حسین بن محسن الانصاری الیمانی(م1327ھ) مولانا محمد بشیر الدین قنوجی(م1273ھ) شیخ احمد عیسٰی الشرقی الحنبلی، مولانا حافظ عبدالعزیز لکھنوی، مولانا شیخ بدر الدین المدنی، مولانا شاہ فضل رحمان گنج مراد آبادی (م1313ھ) رحمہم اللہ تعالیٰ!

1283ھ؍1886ء میں اپنے والد کے ارشاد پر حیدر آباد دکن چلے گئے او روہاں ریاست کی ملازمت اختیار کی۔ ملازمت میں آپ نے 34 سال گزارے او رریاستی دستور کے مطابق ‘ّوقار نواز جنگ بہادر” کے سرکاری خطاب سے نوازے گئے۔

مسلک : ابتداء میں مقلد تھے او رتقلید شخصی کے قائل تھے۔ اس دور میں اہلحدیث کے مسائل پر تنقید بھی کرتے تھے، بعد میں اپنے بڑے بھائی مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) ، جو مسلک اہلحدیث میں بڑے متشدد تھے، سے متاثر ہوکر تقلید شخصی ترک کردی۔

مولانا سید عبدالحئ (م1341ھ) لکھتے ہیں : ”کان شدیدا فی التقلید فی بدایة امرہ ثم رفضہ و تحررواختار مذھب اھل الحدیث مع شذوذ عنھم فی بعض المسائل”2

یعنی”ابتداًء تقلید میں متشدد تھے ۔ پھر تقلید سےآزاد ہوگئے او رمذہب اہلحدیث اختیار کرلیا۔ تاہم بعض مسائل میں اہلحدیث سے تفرو شذوذ بھی رکھتے تھے۔”3

تصانیف : آپ کی مجموعی تصانیف کی تعداد 32 ہے۔ تفصیل یہ ہے:

موضوع : تعداد تصانیف

قرآن مجید : 5

حدیث : 11

فقہ : 4

عقائد : 4

متفرق : 8

32 4

حدیث سے متعلق آپ کی خدمات : حدیث سے متعلقآپ کی گرانقدر علمی خدمات ہیں، جو تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے صحاح ستہ اور مؤطا امام مالک کا اردو میں ترجمہ و تشریح کی ہے۔ یہ سب کی سب کتابیں مطبوع ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ تیسیر الباری ترجمہ و تشریح صحیح البخاری (اُردو)
2۔ تسہیل القاری ترجمہ و تشریح صحیح البخاری 5 (اُردو)
3۔ العلم ترجمہ صحیح مسلم مع مختصر شرح (اُردو)
4۔ جائزة الشعوذی ترجمہ جامع الترمذی (اُردو)6
5۔ روض الربیٰ ترجمہ و شرح سنن نسائی (اردو)
6۔ الہدی المحمود ترجمہ و شرح سنن ابی داؤد (اُردو)
7۔ رفع العجاجہ ترجمہ و شرح سنن ابن ماجہ (اُردو)
8۔ کشف الغطاء ترجمہ و شرح موطا امام مالک (اردو)
9۔ اشراق الابصار فی تخریج حدیث نور الانوار (اردو)
10۔ احسن الفواید فی تخریج احادیث شرح العقائد(اردو)
11۔ انوار اللغة و اسرار للغة (المعروف و حید اللغات) 28 جلدوں میں(شیعہ سنی کتابوں میں وارد احادیث کی لغات غریبہ کی اردو تشریحات7
12۔ تصحیح کنز العمال۔ حدیث کی ایک ضخیم کتاب کی تصحیح8 (عربی)

وفات : 25 شعبان 1338ھ(مطابق 15 مئی 1920ء)بنگلور میں وفات پائی ۔

حوالہ جات

1. الاعتصام 13۔اگست 1974ء صفحہ 5

2. نزہة الخواطر، جلد8 صفحہ515

3. کیونکہ اہلحدیث میں سے امام احمد حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کی شرح میں جابجا ان فتاویٰ کو ”ہمارا مذہب” سے تعبیر کرتے ہیں۔(ادارہ)

4. ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات

5. یہ صحیح البخاری کی اردو میں مبسوط شرح ہے اس کا مطبوعہ اور مکمل نسخہ(غالباً) سلفیہ لائبریری لاہور میں موجود ہے۔ (ادارہ)

6. ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات۔ اُردو ترجمہ ترمذیآپ اور آپ کے بھائی مولانا بدیع الزمان حیدر آبادی (م1312ھ) نے بھی کیا۔ جو مطبوع ہے۔

7. ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات

اور تو اور غیر مقلدین کی جماعت کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی وحید الزمان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے بقلم بدیع الدین راشدی کے۔

فرقہ جماعت اہل حدیث یعنی غیر مقلدین کی ترجمان ویب سائٹ پر رسالہ محدث کا عکس وحید الزمان کے حق میں ۔ اور اسی محدث میگزین کے شمارہ 2003 میں اک مضمون بعنوان“مولانا وحید الزماں کا عقیدہ ومسلک“ شایع ہوا ۔ مرحوم کے مسلک کے بارے میں ہمیں انہی کے معاصر مولانا حکیم سید عبدالحی(والد سید ابو الحسن ندوی) کی رائے ہی سے اتفاق ہے جسے وہ اپنی کتاب ‘نزہۃ الخواطر’ میں ان الفاظ کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں کہ : ”کان شدیدا في التقلید في بدایۃ أمرہ ثم رفضہ وتحرر واختار مذھب أھل الحدیث مع شذوذ عنھم في بعض المسائل” (ص۵۱۵، ج۸)”موصوف ابتدائی دور میں تقلید کے پرزور حامی تھے، پھر تقلید سے تائب ہوکر ‘اہل حدیث’ہوگئے لیکن اس کے باوجود بعض مسائل میں یہ ‘اہلحدیث’ سے بھی جداگانہ نکتہ نظر رکھتے تھے۔” (2003 شمارہ ۔ )۔




(پیشکش ڈاکٹر فیض احمد چشتی)