Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کو ان کے حجرے بطور میراث ملے تھے؟

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

کیا ازواج مطہراتؓ کو انؓ کے حجرے بطورِ میراث ملے تھے؟

حضور اکرمﷺ کی ازواج مطہراتؓ جن حجرات میں قیام پذیر تھیں شیعہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد انہیں ان حجرات کو چھوڑ دینا چاہئے تھا کہ یہ اب امت کا مال تھا نہ کہ ان کا۔ جب ازواجؓ کو حجرات بطور میراث مل سکتے ہیں تو اولادؓ کو فدک کیوں نہیں مل سکتا ؟

الجواب

حضورﷺ کی ازواج مطہراتؓ جن حجرات میں مقیم تھیں وہ انہیں بطورِ میراث نہیں ملے تھے حضورﷺ نے خود اپنی حیات مبارکہ میں ہی انہیں ان کا مالک بنا دیا تھا اور یہ گھر اب ان کے تھے جیسے حضورﷺ نے حضرت سیدہ فاطمہؓ اور حضرت اسامہؓ کو مکان بنا کر دیے ہوئے تھے قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہراتؓ کے یہ حجرات ان کی اپنی ملکیت تھے اللہ نے ان حجرات کی نسبت ان ازواج مطہراتؓ کی طرف کر کے انہیں مخاطب کیا ہے۔

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ

ترجمہ: تم اپنے گھروں میں رہو۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گھر ان کے اپنے تھے اس لیے ان حجرات کی وراثت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں کسی بھی روایت سے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ حضرت فاطمہؓ نے بقول شیعہ جس شدت کے ساتھ فدک پر دعویٰ دائر کیا تھا آپؓ نے کبھی ان حجرات کو بھی زیر بحث بنایا ہو اور اس کے بارے میں آپ نے طویل خطبات دیے ہوں اور ازواج مطہراتؓ کو ان کے گھروں سے اٹھانے کی تحریکیں چلائی ہوں یا حضرت علیؓ نے اپنے دور خلافت میں ان پر قبضہ کرلیا ہو اور حضرت عائشہ صدیقہؓ سمیت دیگر ازواجؓ کو ان گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا ہو اور اس کے لئے گھر گھر دہائی دینے نکلے ہوں اب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو اسلام اجازت دیتا ہے کہ وہ اس کے گھر میں اپنی عدت گزارے یہ اس کا حق ہے کیونکہ اس مدت میں اسے کسی اور سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

یہاں ایک اور بات پر غور فرمائیے کہ حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کی عدت کیا اس ضابطے میں آتی ہے کیا عدت گزارنے کے بعد انہیں کسی دوسری جگہ گھر بسانے کی اجازت ہے ؟ یا وہ سب ازواج مطہراتؓ اب قیامت تک حضورﷺ کی ہی ازواجؓ کہی جائیں گی اور انؓ کے ساتھ کسی کو شادی کی اجازت نہیں ہوگی اور انؓ کی عدت کے ایام بھی اس وقت تک دراز رہیں گے جب تک کہ وہ حیات ہیں تو پھر انہیںؓ اس کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ اسی گھر میں رہیں یہ جواب ہم نے اس صورت میں دیا ہے اگر کوئی ان حجرات کو میراث سمجھتا ہے تو اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ کے حقوق غصب کئے تھے یا حضرت سیدہ فاطمہؓ انؓ سے آخر تک ناراض رہیں اور کوئی سلام و کلام نہ کیا۔ سچ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہمیشہ قرابت نبویﷺ کا لحاظ و خیال رکھا تھا اور سب لوگوں کو خاص طور پر حکم دیا تھا کہ تم لوگ حضورﷺ کی قرابت داری میں کوئی کوتاہی اور غفلت نہ برتنا

ارقبوا محمداﷺ في أهل بيته

(صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 530)

اے لوگو حضور ﷺ کے گھر والوں کا خاص خیال رکھنا۔ حضرت سیدہ فاطمہؓ آپؓ سے خوش تھیں حضرت علی المرتضیٰؓ آپؓ کے ہمیشہ رفیق و معاون رہے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اہلیہ حضرت اسماءؓ آخر وقت تک سیدہ فاطمہؓ کے قریب رہیں اور آپؓ کی نمازِ جنازہ حضرت علیؓ کی خواہش پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پڑھائی۔