سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی زندگی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا احترام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اوصافِ حمیدہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف کو صیقل کرنے میں ایمان باللہ اور فکر آخرت کی اصل تاثیر تھی اور ایمان ہی نے آپؓ کی شخصیت کو متوازی، با رعب اور پرکشش بنا دیا تھا۔ اسی ایمانی قوت کا نتیجہ تھا کہ آپؓ کی قوت آپؓ کی عدالت پر، سطوت آپؓ کی رحمت پر اور مالداری آپؓ کی تواضع پر غالب نہ آ سکی، اور آپؓ اللہ کی تائید و نصرت کے مستحق ہوئے، آپؓ نے کلمہ توحید کی تمام شرطوں یعنی علم، یقین، قبول ، انقیاد، اخلاص اور محبت کو عملاً پورا کیا، آپؓ کو ایمان اور کلمہ توحید کی حقیقی معرفت حاصل تھی چنانچہ آپؓ کے پختہ ایمان کے اثرات آپؓ کی زندگی میں موقع بموقع سامنے آتے رہے، اس کی چند اہم مثالیں یہاں پیش کی جا رہی ہیں:

خشیت الہٰی اور محاسبۂ نفس:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ’’جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس کی گرمی سخت ہے، اس کی گہرائی بہت طویل ہے، اس کا ٹھکانا بہت سخت ہے۔‘‘ 

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 81، 82 امام ذہبی نے اس روایت کی تصحیح کی ہے۔)

ایک دن ایک بدوی آپؒ کے پاس آیا اور کھڑا ہو گیا، پھر یہ اشعار پڑھنے لگا:

یا عمر الخیر جزیت الجنۃ

جہز بنیّاتی وأمہنّہ

’’اے خیر وبھلائی کے جامع عمر! تم بدلہ میں جنت دئیے جاؤ، میری بچیوں اور ان کی ماں کے لیے ساز و سامان مہیا کر دو۔‘‘

اقسم باللہ لتفعلنّہ۔

’’میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، آپ اسے ضرور بالضرور کریں۔‘‘

آپؓ نے فرمایا: اے اعرابی! اگر میں اسے پورا نہ کر سکوں تو کیا ہو گا؟ اس نے کہا:

أقسم إنی سوف أمضینہ ۔

’’میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تب میں چلا جاؤں گا۔‘‘

آپؓ نے کہا: اگر تم چلے جاؤ گے تو کیا ہوگا اے اعرابی! اس نے کہا:

واللہ عن حالی لتَسْأَلنَّہٗ

یوم تکون الأعطیات منّہ

’’اللہ کی قسم! تم سے میری حالت سے متعلق پوچھا جائے گا، پھر وہاں اور بھی بہت سے سوالات ہوں گے۔‘‘

والواقف المسؤل بینہنہ

إما إلی نار و إما جنۃ

’’ذمہ دار کھڑا ہو کر ان سوالوں کا جواب دے گا، پھر ٹھکانا یا تو جہنم ہو گا یا جنت۔‘‘

یہ سن کر سیدنا عمرؓ رو پڑے یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپؓ کی داڑھی بھیگ گئی۔ پھر خادم کو مخاطب کر کے فرمایا: اے غلام! اس دن (یعنی روزِ آخرت) کے محاسبہ سے بچنے کے لیے (نہ کہ اس کے شعر پڑھنے کی وجہ سے) اسے میری قمیض دے دو۔ واللہ میرے پاس اس کے علاوہ دوسری قمیض نہیں ہے۔ 

(فرائد الکلام للخلفاء الکرام: صفحہ 155)

اس طرح حضرت عمر بن خطابؓ بدوی کے شعر سے متاثر ہو کر خوب روئے کیونکہ اس میں اس نے آپؓ کو قیامت کے دن حساب و کتاب کا حوالہ دیا تھا، باوجود یہ کہ آپؓ کو نہیں یاد تھا کہ آپؓ نے کسی پر ظلم بھی کیا ہے۔ پھر بھی آپ پر خشیت الہٰی کا ایسا غلبہ تھا کہ ہر کس و ناکس کی زبان سے روز قیامت کا ذکر سن کر آپؓ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔

خوفِ الہٰی کا ہی نتیجہ تھا کہ آپؓ اپنے نفس کا بہت سختی سے محاسبہ کرتے تھے، اگر آپؓ کو احساس ہو جاتا کہ آپؓ نے کسی کی حق تلفی کی ہے تو اسے فوراً بلواتے اور اسے بدلہ لینے کا حکم دیتے، آپؓ لوگوں سے انفرادی ملاقات کرتے، ان کی ضرورتوں کو معلوم کرتے، جب وہ اپنا مطالبہ لے کر آپؓ کے پاس جاتے تو آپؓ اسے پورا کرتے۔ اسی طرح جب آپؓ خود کو کسی عوامی کام کے لیے فارغ کرتے تو مخصوص شکایات پیش کرنے سے لوگوں کو منع کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؓ رعایا کے بعض کاموں میں مشغول تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے ساتھ چلیں اور فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے اس پر میری مدد کریں۔ سیدنا عمرؓ نے درّہ اٹھایا اور اس آدمی کے سر پر اتنے زور سے مارا کہ اس کا سر چکرا گیا۔ پھر آپؓ نے فرمایا: اس وقت تم عمر سے شکایت نہیں کرتے جب وہ تمہارے پاس آتا ہے اور جب مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو جاتا ہے تب تم اس کے پاس آتے ہو۔ وہ آدمی اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے واپس جانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ جب دوبارہ وہ آپ کے سامنے حاضر کیا گیا تو آپؓ نے درّہ اس کے سامنے پھینک دیا اور کہا: درّہ ہاتھ میں لے لو اور میرے سر پر اتنے ہی زور سے مارو جتنا زور سے میں نے تم کو مارا تھا۔ اس نے کہا: ایسا نہیں ہوسکتا، اے امیر المؤمنین! میں اللہ کے لیے اور آپؓ کی عظمت کی وجہ سے اسے درگزر کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس طرح نہیں، یا تو اسے اللہ کی رضا کے لیے اور اس سے ثواب کی خاطر معاف کرو یا مجھ سے بدلہ لو۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین میں اللہ کے لیے اسے معاف کرتا ہوں۔ پھر وہ واپس چلا گیا۔ اور حضرت عمرؓ پیدل چل کر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ 

(تاریخ بغداد: جلد 4 صفحہ 312) دوسرے لوگ بھی آپؓ کے ساتھ تھے، ان میں احنف بن قیسؓ بھی تھے جنہوں نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ پھر آپؓ نے نماز شروع کی اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد بیٹھ گئے، پھر خود کو مخاطب کر کے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تو بے وقعت تھا، اللہ نے تجھے اونچا مقام دیا، تو گمراہ تھا اللہ نے تجھے ہدایت دی، تو ذلیل تھا اللہ نے تجھے عزت عطا کی، پھر تجھے مسلمانوں کا ذمہ دار بنایا، تیرے پاس ایک آدمی مدد کا طالب بن کر آیا اور تو نے اسے مارا، کل جب تو اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو گا تو اسے کیا جواب دے گا؟ اس طرح آپؓ نے خود کو بہت ملامت کی، میں نے اس وقت یقین کر لیا کہ آپؓ روئے زمین پر اس وقت سب سے نیک آدمی ہیں۔

صفحہ 1 از 3