سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی زندگی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا احترام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ایاس بن سلمہؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں بازار میں تھا کہ ادھر سے حضرت عمر فاروقؓ کا گزر ہوا، آپؓ کسی ضرورت سے جا رہے تھے آپؓ کے ہاتھ میں درّہ تھا، آپؓ نے انہیں دھکیلتے ہوئے کہا: اے سلمہ! اس طرح راستے سے ہٹ کر چلو اور آپؓ نے مجھے ایک کوڑا رسید کیا، اتفاق سے وہ میرے کپڑے کے کنارے لگا، میں راستہ سے ہٹ گیا، آپؓ نے پھر کچھ نہ کہا۔ یہاں تک کہ دوسرے سال جب آپؓ بازار میں مجھ سے ملے تو کہا: اے سلمہ کیا اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! اے امیر المؤمنین، آپؓ نے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ لیا اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے آپؓ مجھے لے کر اپنے گھر گئے اور 600 درہم کی بھری ہوئی ایک تھیلی نکالی اور کہا: اے سلمہ اسے لے جاؤ اور اس سے اپنا کام چلاؤ، اور جان لو کہ یہ عنایت گزشتہ سال کے دھکیلنے کے بدلہ میں ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین، اگر آپؓ یاد نہ دلاتے تو مجھے وہ یاد ہی نہ تھا۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم، میں اسے اب تک نہ بھولا تھا۔

(الفاروق: الشرقاوی: صفحہ 222)

محاسبۂ نفس کے بارے میں کہا کرتے تھے: ’’اپنے نفس کا خود محاسبہ کیا کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور اپنی قدر و قیمت کو تول لو اس سے پہلے کہ تم تولے جاؤ۔ اور بڑی پیشی یعنی روز جزا کے لیے تیار رہو:القرآن يَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ (سورۃالحاقة: آیت 18) 

(الفاروق: الشرقاوی: صفحہ 222)

ترجمہ: '’اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے اور تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔‘‘

خشیت الہٰی اور محاسبہ نفس کا یہ عالم تھا کہ آپؓ فرماتے: ’’اگر دریائے فرات کے ساحل پر بکری کا ایک بچہ بھی مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ عمر سے محاسبہ کرے گا۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 503)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر بہت تیزی سے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ کہاں جا رہے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا ہے اسی کی تلاش میں جا رہا ہوں۔ میں نے کہا: آپؓ نے اپنے بعد کے خلفاء کو ذلیل کر دیا؟ آپؓ نے فرمایا: ’’اے ابوالحسن مجھے ملامت نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس نے محمدﷺ کو نبوت سے سرفراز کر کے بھیجا، اگر دریائے فرات کے ساحل پر بکری کا ایک بچہ بھی مر گیا تو بروزِ قیامت عمر سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 244 اس کی سند ضعیف ہے۔)

حضرت ابوسلامہؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا، دیکھا تو آپؓ حرم میں اس حوض پر جہاں لوگ وضو کر رہے تھے، مردوں اور عورتوں کو مار کر بھگا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپؓ نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ کر دیا۔ پھر کہا: اے فلاں! میں نے کہا: حاضر ہوں، آپؓ نے فرمایا: تمہاری حاضری کا کوئی فائدہ نہیں، کیا میں نے تم کو حکم نہیں دیا تھا کہ مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ وضو خانہ بناؤ۔ پھر آپؓ پیچھے ہٹ گئے، اور حضرت علیؓ سے آپؓ کی ملاقات ہو گئی، آپؓ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ برباد نہ ہو جاؤں۔ انہوں نے کہا: کون سی چیز آپؓ کو برباد کرنے والی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: میں نے حرم مکہ کے اندر مردوں اور عورتوں کو مار بھگایا ہے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ بھی حکام میں سے ایک حاکم ہیں۔ اگر آپؓ نے خیر خواہی اور اصلاح کی خاطر ایسا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ آپؓ کو ہرگز سزا نہ دے گا اور اگر کسی کینہ و کدورت کی بنا پر ان کو مارا ہے تو آپؓ یقیناً ظالم ہیں۔ حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے، آپؓ نے ایک جگہ اس آیت کی تلاوت سنی: 

وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ۞(سورۃ الأحزاب: آیت 58)

ترجمہ:’’جو لوگ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں۔‘‘

آپؓ ابی بن کعبؓ کے پاس ان کے گھر تشریف لے گئے وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ابیؓ نے تکیہ اپنے نیچے سے نکال کر امیر المؤمنین کو پیش کیا اور کہا: اس پر ٹیک لگا لیجیے حضرت عمرؓ نے اپنے پاؤں سے اسے دھکیل دیا اور پھر بیٹھ گئے پھر مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی اور کہا: مجھے خوف ہے کہیں میں ہی اس آیت کا مصداق نہ ٹھہروں کہ مومنوں کو تکلیف دیتا ہوں حضرت ابیؓ نے کہا: آپؓ رعایا کی دیکھ بھال کریں، انہیں بھلائیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا، واللہ اعلم ۔ 

(مختصر منہاج القاصدین: صفحہ 372، فرائد الکلام: صفحہ 143 )

سیّدنا عمرؓ کبھی کبھار آگ جلاتے اور اس میں اپنا ہاتھ ڈالتے، پھر خود کو مخاطب کرکے کہتے: اے خطاب کے بیٹے! کیا تجھے اس پر صبر کرنے کی طاقت ہے۔

(مناقب عمر: صفحہ 160، 161 )

صفحہ 2 از 3