سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی زندگی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا احترام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

فتح قادسیہ کے موقع پر جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے سیدنا عمرؓ کے پاس کسریٰ کی چادر، تلوار، کمر بند، پائجامے، قمیص، تاج زرنگار، اور دونوں موزے بھیجے تو آپؓ نے لوگوں پر ایک نگاہ دوڑائی، ان میں سراقہ بن جعثم المدلجی قد و قامت کے اعتبار سے سب سے زیادہ موزوں تھے آپؓ نے کہا: اے سراقہ! اٹھو، اور یہ لباس پہنو، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور اسے پہن لیا، اور اسے مل جانے کی امید باندھ لی حضرت عمرؓ نے کہا: پیچھے مڑو! وہ پیچھے مڑ گئے پھر کہا: سامنے آؤ، وہ سامنے آئے پھر کہا کیا خوب کیا خوب، بنو مدلج کے ایک بدوی کے جسم پر کسریٰ کی چادر، پائجامے، تلوار، اس کا ٹیکا، تاج زرنگار اور موزے۔ اے سراقہ بن مالک! کبھی کوئی دن آتا جب تیرے پاس کسریٰ کے ساز و سامان ہوتے وہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف و عزت کا باعث بنتا، لباس اتار دو سراقہ نے کپڑے اتار دیے، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے اللہ! تو نے اپنے رسول اور نبی کو یہ سازو و سامان نہیں دیا جب کہ وہ میرے مقابلہ میں تجھے زیادہ محبوب تھے اور میرے مقابلہ میں تیرے نزدیک زیادہ مکرّم تھے، اسی طرح ابوبکرؓ کو نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی میرے مقابلہ میں تجھے زیادہ محبوب تھے اور میرے مقابلہ میں تیرے نزدیک زیادہ مکرّم تھے پھر تو نے اسے مجھے دیا، میں تیری پناہ چاہتا ہوں، کہیں کسی آزمائش کے لیے تو تو نے مجھے یہ نہیں دیا؟ پھر آپؓ رونے لگے یہاں تک کہ جو لوگ آپؓ کے پاس تھے انہیں آپؓ پر رحم آ گیا، پھر آپؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے کہا: تمہیں قسم دلاتا ہوں، شام ہونے سے قبل اسے بیچ کر لوگوں میں تقسیم کر دو۔ اس موضوع پر آپؓ کے بہت سے واقعات ہیں۔

(مناقب عمر: صفحہ 161)


صفحہ 3 از 3