غیروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت
غیروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ جب تک میت کو قبر میں اتار نہ دیا جاتا آنحضرتﷺ قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے، بیٹھتے نہ تھے۔ ایک مرتبہ ایک یہودی نے دیکھ کر کہا ہم بھی اپنے مردوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺ فوراً بیٹھ گئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ: خالفوهم (ان کی مخالفت کرو یعنی بیٹھ جاؤ، کھڑے رہنے میں ان سے مشابہت لازم آتی ہے)
آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص ہمارے طریقے کے علاؤہ دوسروں کے طریقہ پر چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپﷺ کا فرمان ہے: من تشبه بقوم فهو منهم جو کوئی کسی اور قوم کی مشابہت اختیار کرے انہیں میں سے ہے (وہ انہیں کا ہو گا)
سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ ایسے بہت کم لوگ ہیں کہ جنہوں نے کسی قوم سے مشابہت کی اور ان سے نہ مل گئے ہوں۔ عبرت کے لئے ایک سچا واقعہ عرض ہے۔
عبرت ناک واقعه: کانپور میں کوئی نصرانی جو کسی اعلیٰ عہدہ پر تھا، مسلمان ہو گیا تھا، مگر مصلحتاً اسلام کو چھپائے ہوئے تھا، اتفاق سے اس کا تبادلہ کسی دوسری جگہ ہو گیا، اس نے اُن مولوی صاحب کو جن سے اسلام کی باتیں سیکھی تھیں، اپنے تبادلہ سے مطلع کیا اور فرمائش کی کہ کسی دیندار شخص کو مجھے دیں، جس سے علم دین حاصل کرتا رہوں، چنانچہ مولوی صاحب نے ایک شاگرد کو اس کے ساتھ کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد جب یہ نصرانی بیمار ہوا تو اس مولوی صاحب کے شاگرد کو کچھ روپے دیئے اور کہا کہ جب میں مر جاؤں اور عیسائی مجھے اپنے قبرستان میں دفن کر آئیں تو تم رات کو جا کر مجھے قبر سے نکالنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب مولوی صاحب کے شاگرد نے حسبِ وصیت رات کو ان کی قبر کھولی تو دیکھا کہ اس قبر میں وہ نصرانی تو نہیں ہے، بلکہ مولوی صاحب پڑے ہیں، وہ سخت پریشان ہوا کہ یہ کیا ماجرہ ہے میرے استاد یہاں کیسے؟ آخر دریافت سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب نصرانیوں کے طور طریق کو پسند کرتے اور اچھا جانتے تھے۔ وہ نو مسلم نصرانی مولوی صاحب کی قبر میں منتقل ہوا ہو گا۔ ایسے واقعات سینکڑوں کی تعداد میں کتابوں میں مل سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ ایسی حالت سے ہماری حفاظت فرمائے ۔
(فتاویٰ رحیمیه جلد 7، صفحہ 116)