مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار -…

مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 3 از 3

پہلی تاویل ایک ایسا معمہ ہے کہ اسے کھولنے بیٹھو تو اور پیچ پڑتے چلے جائیں گے، مثلاً:

(١)  حضرت علیؓ ما کان و ما یکون  تھے، دوسری مرتبہ حضرت فاطمہؓ کو بھیجتے ہوۓ علم تھا کہ ان کی توہین و تذلیل ہوگی لہٰذا مصلحت یہی ہے کہ خود نہ جاؤ اپنی عزت بچاؤ، دخترِ رسول ﷺ کی بے عزتی ہوتی ہے تو ہونے دو۔

(2)  اسی طرح ان کو علم تھا کہ مہاجرین و انصار کوئی مدد نہیں کریں گے پھر بیوی کو مسلسل 40 روز تک دربدر پھراتے رہنے میں کیا مصلحت تھی؟

(3)  مہاجرین و انصار کے اعمال قبیحہ کا اظہار مقصود تھا تو گھر کی چار دیواری میں یہ الفاظ کہنے سے اظہار کیسے ہوا کس کے سامنے ہوا۔ اگر صرف حضرت علیؓ کے سامنے اظہار مقصود تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ خود حضرت علیؓ درست اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت  نہیں رکھتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے یہ کمی پوری کی۔ اور اگر اظہار ہی مقصود تھا تو وہ غرض بھی پوری نہ ہوئی کیونکہ یہ بات توگھر میں کی گئی تھی حضرت فاطمہؓ نے سرِبازار تھوڑا ہی کہا تھا۔

(4) یہ کیسے معلوم ہوا کہ حضرت  فاطمہؓ اس معاملے میں حضرت علیؓ کے رویہ سے راضی تھیں ؟ کس کو بتایا ؟ کب بتایا؟ یہ راز کی بات اگر کسی کو بتائی نہیں تو صاحب ناسخ التواریخ نے یہ اجتہاد کس بنا پر کر لیا کہ دراصل وہ راضی تھیں یہ طعنے اور گالیاں محض بناوٹ تھی۔ بہرحال بڑی تلاش کے باوجود حضرت فاطمہؓ کے اس اندازِ گفتگو میں کوئی مصلحت نظر نہیں آتی۔ البتہ ایک پہلو قابلِ غور ہے، اگر اس اندازِ گفتگو سے یہ نہ سمجھا جاۓ کہ حضرت فاطمہؓ حضرت علیؓ سے ناراض تھیں بلکہ یہ تاویل کی جاۓ کہ یہ محض دکھاوا تھا اصل میں دل سے راضی تھیں تو”غضبت فاطمةؓ “ کی یہ تاویل کیوں نہیں کی گئی کہ حضرت فاطمہؓ کا حضرت ابو بکر صدیق سے یہ رویہ محض ظاہری بات تھی اصل میں وہ دل سے راضی تھیں پھر ان دونوں حالتوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔”غضبت فاطمہؓ“ راوی کا قیاس ہے اور حضرت علیؓ کے حق میں ناموزوں الفاظ اور ناراضگی کا اظہار خود حضرت فاطمہؓ کی زبانی ہو رہا ہے۔ راوی نے اپنی راۓ کا اظہار کیا تو آپ نے فوراً مان لیا اور حضرت فاطمہؓ خود اپنی زبان سے پکار پکار کر کہہ رہی ہیں تو آپ مانتے نہیں یہ رویہ نظر ثانی کا محتاج ہے۔

میراث کے معاملہ کو طویل اور پہلو دار بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس میں ایک عجیب الجھن نظر آتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شیعہ مذہب میں ایک اصول بیان ہوا ہے جس سے کسی کے کامل الایمان یا ناقص الایمان ہونے کی شناخت ہو سکتی ہے ۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ علامت مٶمن اور فاسق میں فرق کرتی ہے۔ (اصول کافی:جلد 1، صفحہ 67/ احتجاج طبرسی صفحہ 186/ انوار النعمانیہ صفحہ 270 جلد1)

عن عمر بن حنظلة قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن رجلين من أصحابنا بينهما منازعة في دين أو ميراث فتحاكما إلى السلطان وإلى القضاة أيحل ذلك؟ قال: من تحاكم إليهم في حق أو باطل فإنما تحاكم إلى الطاغوت، وما يحكم له فإنما يأخذ سحتا، وإن كان حقا ثابتا له، لأنه أخذه بحكم الطاغوت، وقد أمر الله أن يكفر به قال الله تعالى: " يريدون أن يتحاكموا إلى الطاغوت وقد أمروا أن يكفروا به "

عمر بن حنظلہ کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے پوچھا کہ دو شیعہ مردوں میں قرض یا میراث کے معاملہ میں جھگڑا ہوجاۓ وہ اپنا دعویٰ بادشاہ یا قاضی کے پاس لے جائیں، کیا یہ جائز ہے؟ امام نے کہا جو شخص حاکم یا قاضی (غیر شیعہ) کے پاس فیصلہ کی غرض سے جاۓ خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر اس کا جانا ایسا ہے جیسے بت یا شیطان کے پاس جانا اس کی ممانعت ہے۔ اور اگر اس فیصلہ کے مطابق وہ شیعہ کوٸی چیز لے گا تو وہ حرام لے گا خواہ وہ اس کا حق ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس نے شیطان کے حکم سے لیا۔ اور خدا کا حکم ہے کہ ان کی نافرمانی کرو۔

یعنی قانون یہ ہے کہ غیر شیعہ حاکم کے پاس اپنا مقدمہ لے جانا ایسا ہے جیسا شیطان کے پاس لے جانا۔ ایسا حاکم اگر اس کے حق میں فیصلہ کر دے تو اس مال سے نفع اٹھانا حرام ہے اور ظاہر ہے کہ جب ایسے حاکم کے پاس مقدمہ لے جانا حرام ہے تو ایسے مال سے نفع اُٹھانا لازماً حرام ہوا اور حرام کا مرتکب فاسق ہے۔

اس اصول کے ماتحت دیکھنا یہ ہے کہ اگر حضرت ابوبکرؓ حاکم  برحق نہیں (بقول شیعہ) تو حضرت فاطمہؓ کا ان کے سامنے اپنا مقدمہ لے جانا اور حضرت علیؓ کے مشورہ سے لے جانا ان دونوں کو کس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے؟ اس قانون کے تحت ایک نے فعلِ حرام کا ارتکاب کیا اور دوسرے نے ایسے کرنے کا مشورہ دیا اور فعلِ حرام کا مرتکب فاسق ہوتا ہے (نعوذ باللہ من ذلک). اب شیعہ اصول کے تحت ان دونوں حضرات کی حیثیت متعین کیجئے۔

اس اُلجھن سے نکلنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔

1) اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفۂ برحق تسلیم کرو تو حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کامل الایمان قرار پاتے ہیں۔

2) اور حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ برحق تسلیم نہیں کرتے تو ان دونوں حضراتؓ کو فسق کا نشانہ بننے سے بچا نہیں سکتے کیونکہ اصول خود شیعہ ہی نے مقرر کیا ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ ائمہ کی عصمت کے دعویٰ سے سفر کا آغاز کیا اور چند قدم ہی چلے تھے کہ ائمہ کو فسق و فجور کا مرتکب قرار دے دیا۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کج بینی اور کج رائی سے محفوظ رکھے،  آمین!


صفحہ 3 از 3