حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے بصرہ کا سفر کیا حجاب کے حکم کی خلاف ورزی کر کے خدا و رسول خداﷺ کی ہتک کی، سولہ ہزار افراد کی جماعت کی معیت میں سفر کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒسیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر شیعہ کا اعتراض
حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے بصرہ کا سفر کیا حجاب کے حکم کی خلاف ورزی کر کے خدا و رسول خداﷺ کی ہتک کی، سولہ ہزار افراد کی جماعت کی معیت میں سفر کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ ( الاحزاب 33)
ترجمہ:
"تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جاہلیت اولی کی طرح تزیین نہ کرو"
جواب اہلسنّت
اس آیت سے سفر کرنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ہے، اس لئے کہ قرن یا تو وقریقر وقارا سے، اسے مشتق ہے، اور یا قار یقار سے جس کا معنی اجتماع کا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے، قریقر قراراً سے ہو، احتمال کی وجہ سے استدلال تام نہیں. اگر استقرار کے معنی میں بھی ہو تو بھی ظاہر یہ ھے کہ اس سے مراد تستر اور پردہ کرنا ہے، جس کی تاکید تبرّج کی نہی سے کی جا رہی ہے، تو اس میں سفر کرنے کی نہی ہے، اس لئے کہ پردہ رکھتے ہوئے بھی سفر ہو سکتا ہے۔ دیکھئے ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی معیت میں حج کے موقعہ پر اور غزوات کے متعدد مواقع پر آپ کے ساتھ جاتی تھیں، اگر آیت میں مطلق خروج سے منع ہوتی تو آپ نہ لے جاتے. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بصرہ جانا کسی فساد کے لئے نہ تھا، بلکہ آپس کی اصلاح کے طور پر تھا، جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت جو کہ حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں ہے
مسلم شریف میں ہے،
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم حرار پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر،عمر،عثمان،طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک چٹان متحرک ہوئ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سکون کر تجھ پہ نبی صدیق یا شہید ہے
(صحیح مسلم جلد 2 ص282)
یہ حدیث اس پہ دلائل کرتی ہے اس لئے کہ یہ دونوں بزرگ اس جنگ میں قتل ہو ئے، اگر باغی ہوتے تو حدیث بالا میں ان پر شہید کا اطلاق نہ ھوتا.