عام بیعت اور داخلی امور کا انتظام وانصرام
علی محمد الصلابیعام بیعت:
جب سقیفہ بنو ساعدہ کے اجتماع میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب منصب خلافت کے لیے ہو گیا اور بیعت خاص ہو گئی تو دوسرے دن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد نبوی میں عام بیعت کے لیے جمع ہوئے۔
(عصر الخلفاء الراشدین: د/ فتحیۃ النبراوی: صفحہ، 30)
اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تائید میں اہم کردار ادا کیا۔
چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں، جب سقیفہ میں سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت ہو گئی تو دوسرے دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے، آپؓ سے پہلے سیدنا عمر فاروقؓ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا،
لوگو! میں نے کل ایک بات آپ لوگوں سے کہی تھی وہ کتاب اللہ میں مجھے نہیں ملی اور نہ رسول اللہﷺ نے اس کا عہد مجھ کو دیا تھا لیکن میرا خیال تھا کہ رسول اللہﷺ ہمارے امور کی تدبیر کرتے رہیں گے اور ہم میں سب سے آخر میں رخصت ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر اپنی کتاب باقی رکھی ہے جس سے رسول اللہﷺ کو ہدایت ملی، اگر تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو اللہ تمہیں بھی اس کی ہدایت دے گا جس کی ہدایت اللہ نے آپﷺ کو دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسے شخص پر جمع کر دیا ہے جو تم میں سب سے افضل، رسول اللہﷺ کے ساتھی، ثانی اثنین اور یار غار ہیں۔ اٹھو اور ان سے بیعت کرو۔
پھر لوگوں نے سقیفہ کی بیعت کے بعد عام بیعت کی۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا،
لوگو! میں تم پر والی مقرر کیا گیا ہوں لیکن تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میرے ساتھ تعاؤن کرو اور اگر کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے، جھوٹ خیانت ہے۔ تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں دوسروں سے اس کا حق نہ دلا دوں، اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔ ان شاء اللہ۔ یاد رکھو جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے اللہ اس کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے اگر میں اللہ و رسولﷺ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر میں اللہ و رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں، اللہ تم سب پر رحم فرمائے۔ نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305/306)
اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، منبر پر تشریف لائیں۔ حضرت عمرؓ برابر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ آپؓ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں نے آپؓ سے بیعت کی۔
(البخاری: الاحکام صفحہ، 7219)
خطبہ اپنے اختصار و ایجاز کے باوجود اہم ترین اسلامی خطبوں میں سے ہے۔ اس کے اندر سیدنا صدیق اکبرؓ نے حاکم و رعایا کے مابین تعامل کے سلسلہ میں عدل ورحمت کے قواعد مقرر کیے۔ اس بات پر ترکیز کی کہ اولی الامر کی اطاعت اللہ و رسول کی اطاعت پر مترتب ہوتی ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی کیونکہ امت کے عزوشان کے لیے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اور فواحش سے اجتناب پر زور دیا کیونکہ معاشرہ کو گراوٹ و فساد سے بچانے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد، 9 صفحہ، 28)
خطبہ اور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں بحث و تحقیق کرنے والے خلافتِ راشدہ کے آغاز میں نظام حکومت کے بعض خصائص کا استنباط کر سکتے ہیں، جن میں اہم ترین یہ ہیں،
بیعت کا مفہوم:
علماء نے بیعت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ علامہ ابن خلدون بیعت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
اولی الامر کی اطاعت کا عہد و پیمان۔
(المقدمۃ لابن خلدون: صفحہ، 209)
اور بعض لوگوں نے اس کی تعریف یوں کی ہے، اسلام پر قائم رہنے کا معاہدہ کرنا۔
(جامع الاصول فی احادیث الرسول: جلد، 1 صفحہ، 252)
اور ان الفاظ میں بھی اس کی تعریف کی گئی ہے، کتاب و سنت نے جس کو جاری کیا ہے اس کو جاری رکھنے اور جس کو قائم کیا ہے اس کو قائم رکھنے کا عہد و پیمان کرنا۔
(نظام الحکم فی الاسلام: عارف ابو عید، صفحہ، 248)
مسلمان جب امیر سے بیعت کرتے تو عہد و پیمان کی تاکید کے لیے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتے، جس کی بائع و مشتری کے فعل سے مشابہت ہوتی تھی اس کی وجہ سے اس فعل کو بیعت کہا گیا ہے۔
(نظام الحکم فی الاسلام: عارف ابو عید صفحہ، 250)
بیعتِ صدیقی سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اسلامی حکومت میں اہلِ حل و عقد کی بیعت کے ذریعہ سے حاکم کو حکومت ملنے اور شروط معتبرہ کے پائے جانے کے بعد امت نے اس سے بیعت کر لی ہے تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس سے بیعت کریں اور اس پر متحد ہو جائیں اور دشمنوں کے خلاف جب وہ اٹھے تو اس کی نصرت و تائید کریں تا کہ امت کی و حدت اور داخل و خارج میں دشمنوں کے سامنے امت کی قوت برقرار رہے۔
(نظام الحکم فی الاسلام: عارف ابو عید صفحہ، 250)
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ۔
ترجمہ: جو اس حال میں مرے کہ اس کی گردن میں حاکم کی بیعت نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
(مسلم: الامارۃ صفحہ، 1851)
اس حدیث کے اندر بیعت کرنے کے وجوب پر ابھارا گیا ہے اور اس کے ترک پر وعید سنائی گئی ہے اور جو حاکم وقت کے ہاتھوں پر بیعت نہ کرے اس کی زندگی گمراہی میں گزرتی ہے اور اس کی موت گمراہی کی موت ہوتی ہے۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 25)
اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ومن بایع اماما فاعطاہ صفقۃ یدہ وثمرۃ قلبہ فَلْیُطِعْہ ما استطاع فان جاء آخر ینازعہ فاضربوا عنق الآخر۔
ترجمہ: جس نے امام وقت سے بیعت کر لی اور اپنا ہاتھ اور دل اس کو دے دئیے وہ حتیٰ الوسع اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا اس سے حکومت چھیننا چاہے تو اس دوسرے کی گردن مار دے۔
(مسلم: الامارۃ صفحہ، 1852)
یہاں رسول اللہﷺ نے امام وقت کے خلاف خروج کرنے والے کے قتل کا حکم فرمایا ہے جو اس فعل کی حرمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ پہلی بیعت کے مقابلہ میں جو مسلمانوں پر واجب ہے وہ دوسری بیعت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 253)
دارالسلطنت میں بیعت خلیفہ لے گا اور دیگر صوبوں اور مقامات میں بیعت یا براہِ راست امام لے گا یا پھر اس کے نائبین لیں گے جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں ہوا، اہلِ مکہ اور طائف سے خلیفہ کے نائبین نے بیعت لی۔ جن کی بیعت واجب ہے وہ اصحاب حل و عقد، علماء اور قائدین امت، اہلِ شوریٰ اور مختلف علاقوں کے امراء ہیں اور باقی عام لوگوں کے لیے ان حضرات کی بیعت میں داخل ہونا کافی ہے لیکن اہلِ حل و عقد کی بیعت کے بعد عام لوگ بھی بیعت کر سکتے ہیں۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 253)
اور کچھ علماء کا یہ خیال ہے کہ عام لوگوں کی بیعت ضروری ہے کیونکہ حضرت ابوبکرؓ نے زمام حکومت اس وقت تک نہیں سنبھالا، جب تک عام لوگوں سے بیعت نہ لے لی۔
(فقہ الشوری: د۔ الشاوی صفحہ، 439 عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 30)
یہ بیعت اس خاص معنیٰ میں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے امت نے کی اسلامی حکومت میں امام اعظم کا حق ہے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں، چاہے اسلامی حکومت قائم ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ اس بیعت پر بہت سے احکام مترتب ہوتے ہیں۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 254)
خلاصہ کلام یہ کہ بیعت کا خاص مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ ولاء اور سمع و اطاعت کا وعدہ کیا جائے بمقابل اس کے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حکومت کرے گا، حقیقت میں یہ طرفین سے عہد و پیمان ہے اس میں امام طرفِ اوّل اور امت طرفِ ثانی ہے۔ امام کتاب و سنت کے مطابق حکومت کرنے اور اسلامی شریعت کی مکمل فرماں برداری کا عہد کرتا ہے اور امت حدود شریعت کے اندر امام کی اطاعت اور فرماں برداری کا عہد کرتی ہے۔
بیعت اسلامی نظام حکومت کے خصائص میں سے ہے۔ ماضی و حال میں پائے جانے والے تمام نظام حکومت میں صرف یہ اسلامی نظام حکومت کے اندر پایا جاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ حاکم و محکوم سب اسلامی قوانین کے پابند ہیں۔ حاکم ہو یا محکوم کسی کو شرعی قانون سے خروج یا کتاب و سنت سے متصادم قانون سازی کا حق نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی حکومت کے عام نظام کی مخالفت اور اعلان جنگ ہے اور اس سے بڑھ کر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے ایسے لوگوں سے ایمان کی نفی کی ہے۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 152/153)
ارشاد الٰہی ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورۃ النساء: آیت نمبر، 65)
ترجمہ: سو قسم ہے تیرے پروردگار کی، یہ مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپﷺ کو حکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپﷺ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔
عہد صدیقی کی روشنی میں بیعت کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے۔
خلافتِ صدیقی میں مصادر تشریع:
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب تک میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کروں تم بھی میری اطاعت کرو اور جب میں اللہ و رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 306)
قرآن کریم:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا۔
(سورۃ النساء: آیت نمبر، 105)
ترجمہ: یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔
تشریغ کا یہ پہلا مصدر ہے جو زندگی سے متعلق تمام احکام شرعیہ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق اساسی مبادی و احکام پر مشتمل ہے۔ نیز قرآن پاک نے مسلمانوں کے لیے حکومت و سلطنت کے اصول و مبادی بھی بیان کیے ہیں جن کی ان کو ضرورت پڑنے والی تھی۔
حدیث پاک:
حدیث پاک دوسرا مصدر ہے جس سے اسلامی دستور اپنے اصول حاصل کرتا ہے، اور حدیث کی روشنی میں ہی احکام قرآن کی تنفیذی اور تطبیقی تفصیلات کی معرفت ممکن ہے۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم للصَّلابی: صفحہ، 432)
خلافتِ صدیقی شریعت مطہرہ کے تابع تھی اور ہر تشریع و قانون پر شریعتِ اسلامیہ کو بالا دستی حاصل تھی اور خلافتِ صدیقی نے اسلامی حکومت کے شرعی حکومت ہونے کی واضح اور روشن تصویر پیش کی ہے، جو اپنے تمام اداروں اور شعبوں میں شرعی قوانین کی پابند ہوتی ہے اور اس حکومت میں حاکم شرعی قوانین کا پابند ہوتا ہے، ان قوانین سے انحراف یا آگے پیچھے ہٹنے کی ذرا بھی گنجائش اس کے لیے نہیں ہوتی۔
(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 227)
خلافتِ صدیقی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاشرہ میں شریعت کو سب پر بالا دستی حاصل تھی، حاکم و محکوم سب اس کے تابع تھے، اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت سے جس اطاعت کا مطالبہ کیا اسے اللہ و رسولﷺ کی اطاعت سے مقید کیا کیونکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے،
لا طاعۃ فی المعصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف۔
ترجمہ: معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت تو بھلائی کے کاموں میں ہے۔
(حدیث متفق علیہ ہے۔ البخاری: الآحاد: صفحہ، 7257 مسلم: الامارۃ: صفحہ، 1840) (مترجم)