حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہا) کے قتل کرانے میں کوشاں رہیں، وہ کہتی تھیں کہ عثمان فاجر ہے، جب عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) قتل ہو گئے، تو اتنا ہی عداوت کی وجہ سے علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ لڑائی اختیار کر لی.
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام
حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہا) کے قتل کرانے میں کوشاں رہیں، وہ کہتی تھیں کہ عثمان فاجر ہے، جب عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) قتل ہو گئے، تو اتنا ہی عداوت کی وجہ سے علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ لڑائی اختیار کر لی.
جوابِ اہلسنّت
یہ سب جھوٹ اور افتراء ہے، نہ وہ قتل عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر حریص تھیں اور نہ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی دشمنی رکھتی تھیں. اس کے برعکس عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو امام حق سمجھتی رہیں۔محبتِ علی رضی اللہ عنہ کو عبادت جانتی تھیں۔
جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں ہے!
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ھیں:-
”عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعثمان` یا عثمان!! لعل اللہ یقمصک قمیصا فان ارادوک علی خلعہ فلا تخلعہ لھم و فی روایۃ لا تخلعہ ثلاثا“
ترجمہ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے عثمانؓ !امید ھے تجھے اللہ تعالیٰ ایک قمیص پہنائے گا لوگ اگر اسے اتروانا چاہیں، تو ان کے لئے اتارنا نہیں. ایک روایت میں ھے تین بار فرمایا.
(جامع ترمزی ج 2 ص 234)
دیلمی میں ہے:
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حب علی عبادۃ۔
ترجمہ:
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-علی کی محبت عبادت ہے۔
(جمع الفوائدمن جامع الاصول و مجمع الزراوئد ج 2 ص 367)