Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امت کو حاکم کی نگرانی اور احتساب کا حق

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر میں اچھا کروں تو مجھ سے تعاؤن کرو اور اگر کجی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)

یہاں حضرت ابوبکرؓ اپنے اعمال کی نگرانی اور احتساب میں امت اور افراد امت کے حق کو ثابت کرتے ہیں بلکہ ہر منکر سے جس کا وہ ارتکاب کریں روکنے اور جسے وہ صحیح اور شریعت کے مطابق سمجھتے ہوں، اس پر مجبور کرنے کا ان کو حق دیتے ہیں۔

(فقہ الشوری و الاستشارۃ: صفحہ، 441)

اور آپؓ نے اپنے خطبہ کے آغاز میں اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ ہر حاکم سے غلطی کا صدور ہو سکتا ہے اور اس کا احتساب کیا جا سکتا ہے اور یہ منصب اس کو کسی شخصی امتیاز سے حاصل نہیں، جس کی وجہ سے دوسروں پر اس کو افضلیت حاصل ہو۔ کیونکہ عصمت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کا خاصہ ہے اور ان کا دور ختم ہو چکا ہے اور آخری رسول جن پر وحی نازل ہوتی تھی، وہ اپنے رب کے جوار رحمت میں منتقل ہو چکے ہیں۔ نبوت و عصمت کے نتیجہ میں دینی پاور اور اتھارٹی حاصل تھی، اور رسول ہونے کی وجہ سے آسمانی تعلیمات و رہنمائی حاصل ہوتی تھی لیکن آپﷺ کی وفات سے یہ عصمت ختم ہو گئی اور آپﷺ کی وفات کے بعد حکومت و سلطنت، عقد بیعت اور امت کی تفویض سے حاصل ہوتی ہے۔

(فقہ الشوری و الاستشارۃ: صفحہ، 441)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے میں امت ایک ذندہ سمجھدار ادارہ ہے جس کو نصرت و نصیحت، احتساب اور اصلاح کی قدرت حاصل ہے اور رعایا پر واجب ہے کہ وہ دین و جہاد کے امور میں مسلم حاکم کی نصرت و معاونت اور تائید کریں اور حاکم کی نصرت میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی تذلیل و توہین نہ کی جائے اور اس کی معاونت میں یہ شامل ہے کہ اس کا احترام کیا جائے اور اس کی تعظیم و تکریم کی جائے۔ کیونکہ امت پر اس کی حاکمیت اور امت کی قیادت، اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہے، جو اس کی تعظیم کو واجب قرار دیتی ہے اور اس کی تعظیم و تکریم حقیقت میں اللہ کی اس شریعت کی تعظیم و تکریم ہے جس کی طرف سے وہ دفاع کرتا ہے۔

رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

ان من إجلال اللہ تعالی، اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القرآن غیر المغالی فیہ والجافی عنہ، واکرام ذی السلطان المقسط۔

ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ کے اجلال و اکرام میں بوڑھے مسلمان اور افراط و تفریط سے عاری حاملِ قرآن اور انصاف پسند حاکم کا اکرام داخل ہے۔

(صحیح سنن ابی داوٗد: صفحہ، 3504)

اور امت پر واجب ہے کہ وہ حکام کی خیر خواہ ہو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا، الدین النصیحۃ۔

 ترجمہ: دین خیر خواہی کا نام ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا، کس کے لیے؟ فرمایا، 

للہ ولکتابہ ولرسولہ ولائمّۃ المسلمین وعامتہم۔

ترجمہ: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلم حکام اور عام مسلمانوں کے لیے۔

(مسلم: الایمان ، باب أن الدین نصیحۃ: صفحہ، 55)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذہن میں یہ بات بس گئی تھی کہ امت کی استقامت حکام کی استقامت کی مرہون منت ہے، اسی لیے رعایا کے واجبات میں سے حکام کی خیر خواہی و نصیحت اور اصلاح داخل ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس تابناک سیاست کو ماڈرن حکومتوں نے اختیار کیا ہے۔ مختلف تخصیصی کمیٹیاں اور شورائی مجلسیں تشکیل دی ہیں جو حاکم کو منصوبے اور پروگرام پیش کرتی اور معلومات فراہم کرتی ہیں اور قابلِ قرارداد اشیاء کا مشورہ دیتی ہیں۔ اور باعث افسوس یہ چیز ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک اس حکیمانہ نظام سے اعراض کرتے ہیں جس کی وجہ سے حکام کے جبر و تسلط سے امت کی مصیبت بڑھ گئی ہے اور اکثر مسلم ممالک میں تخلف کا جو ہم مشاہدہ کر رہے ہیں وہ اسی ملعون ڈکٹیٹر شپ کا نتیجہ ہے، جس نے امت کے اندر تناصح اور شجاعت کی روح کو مردہ کر دیا ہے۔ ان کے اندر بزدلی اور خوف کے بیج بو دیے ہیں۔ جو امت حاکم کی نگرانی اور مناصحت میں اپنا کردار ادا کرتی ہے اس کو زمین میں قوت و غلبے کے اسباب حاصل ہوتے ہیں اور پھر وہ چار دانگ عالم میں اللہ کی دعوت کو لے کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 249)