لوگوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کرنا
علی محمد الصلابیحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے جب تک کہ میں دوسروں سے اس کا حق نہ دلا دوں اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔ ان شاء اللہ
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)
اسلامی حکومت کے اہداف میں سے اسلامی نظام کی ان بنیادوں کی حفاظت ہے، جو اسلامی معاشرہ کے قیام میں ممد و معاؤن ثابت ہوں اور ان بنیادوں میں سے اہم یہ ہیں شورائیت، عدل، مساوات اور آزادی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے امت سے اپنے خطاب میں ان اساسیات اور بنیادوں کو ثابت کیا۔ آپ کی بیعت و انتخاب اور مسجد میں خطاب عام سے شورائیت ثابت ہوتی ہے اور آپؓ کے خطاب کے نصوص سے عدالت اجاگر ہوتی ہے اور بلاشبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے میں عدل سے مقصود اسلامی عدل ہے جو اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت کے قیام میں اساسی ستون ہے۔ جس معاشرہ میں ظلم کا دور دورہ ہو اور عدل کا نام و نشان نہ ہو وہاں اسلام کا عملی اور اجتماعی وجود نہیں ہوتا۔
لوگوں کے درمیان باعتبار فرد و جماعت اور حکومت، عدل کو قائم کرنا نفلی امور میں سے نہیں ہے کہ حاکم یا امیر کے مزاج و خواہش پر چھوڑ دیا جائے بلکہ دین اسلام میں لوگوں کے درمیان عدل کو قائم کرنا مقدس ترین اور اہم ترین واجبات میں سے ہے اور عدل کے وجوب پر امت کا اجماع ہے۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ، 455)
امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس پر اجماع ہے کہ حاکم پر واجب ہے کہ وہ عدل کے ساتھ حکومت کرے۔
(تفسیر الرازی: جلد، 10 صفحہ، 141)
اس حکم کی تائید کتاب و سنت کے نصوص سے ہوتی ہے۔ اسلامی سلطنت کے اہداف میں ہے کہ ایسا اسلامی معاشرہ قائم کرنا جس کے اندر عدل و مساوات عام ہو اور ظلم کے تمام انواع و اقسام کے خلاف اعلانِ جنگ ہو اور ہر انسان کے سامنے اپنے حقوق کے مطالبہ کی راہ ہموار کی جائے کہ وہ بلا کسی مشقت اور مال خرچ کیے آسان اور جلد اپنا حق حاصل کر سکے اور اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام وسائل و اسباب کو ختم کرے جو حقوق کے حصول میں رکاوٹ ثابت ہوں۔ اسلام نے حکام پر لازم کیا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں۔ زبان، قبائل اور معاشرتی احوال کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے۔ حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل و حق کے ساتھ فیصلہ کرے، اس کی پروا نہ کرے کہ محکوم دوست ہے یا دشمن، مالدار ہے یا فقیر، مزدور ہے یا تاجر۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ، 459)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞
(سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 8)
ترجمہ: اے ایمان والو کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو عدل کرو یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقوٰی سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عدل میں قدوہ تھے، دلوں کو ایسے اسیر کرتے کہ عقلیں دنگ رہ جاتیں۔ آپؓ کی نگاہ میں عدل، اسلام کی عملی دعوت تھی، اس کی وجہ سے لوگوں کے دل ایمان کے لیے کھلتے۔ لوگوں کے درمیان عطیات میں عدل کرتے۔ لوگوں سے مطالبہ کرتے کہ وہ اس عدل میں ان سے تعاؤن کریں۔ ایک دفعہ اپنے آپؓ کو بدلہ کے لیے پیش کیا جو عدل اور خوف الٰہی پر بین واضح ہے۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام فی عہد الخلفاء: صفحہ، 410)
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک جمعہ کو اعلان کیا کہ کل ہم زکوٰۃ کے اونٹ تقسیم کریں گے، آپ لوگ آجائیں، لیکن بلا اجازت کوئی اندر داخل نہ ہو۔
ایک خاتون نے اپنے شوہر کو نکیل دی اور کہا، اس کو لے جاؤ، امید ہے اللہ ہمیں اونٹ عطا کر دے۔
یہ شخص پہنچا، دیکھا سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اونٹوں کی باڑ میں داخل ہو رہے ہیں، یہ بھی پیچھے سے داخل ہو گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مڑ کر دیکھا، فرمایا، تم کیسے آگئے؟
پھر اس سے نکیل لے لی اور اس کو مارا پھر جب اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو اس شخص کو بلایا اور اونٹ کی نکیل اس کے ہاتھ میں پکڑائی اور کہا، تم اپنا بدلہ لے لو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، واللہ وہ بدلہ نہیں لے سکتا، آپ اس کو سنت نہ بنائیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا، قیامت کے دن مجھے اللہ سے کون بچائے گا؟
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ اس کو خوش کر دیجیے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے غلام کو حکم فرمایا، اس کو ایک اونٹنی کجاوہ کے ساتھ، ایک چادر اور پانچ دینار دے دو۔ یہ سب اس کو دے کر خوش کیا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام فی عہد الخلفاء: صفحہ، 411)
اصول مساوات جسے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے امت سے اپنے خطاب میں ثابت کیا تھا یہ اسلام کے عام اصول و مبادی میں سے ہے جو اسلامی معاشرہ کی تشکیل و بناء میں ممد و معاؤن ہیں اور اس سلسلہ میں اسلام نے عصر حاضر کے دیگر قوانین و تشریعات سے سبقت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت نمبر، 13)
ترجمہ: اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار۔
اسلام کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں، حاکم ہوں یا محکوم، مرد ہوں یا عورت، عرب ہوں یا عجم، گورے ہوں یا کالے۔ اسلام نے جنس، رنگ، نسب اور طبقات کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان امتیازات کو ختم کر دیا ہے۔ حاکم ہوں یا محکوم، اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ، 460/461)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس اصول پر کاربند ہونا اس کی واضح مثال ہے۔
چنانچہ فرماتے ہیں، میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں، لیکن تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر اچھا کروں تو مجھ سے تعاؤن کرو اور اگر میں کجی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو، تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے، جب تک کہ میں دوسروں سے اس کا حق اس کو نہ دلا دوں، اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)
آپ بیت المال سے لوگوں پر خرچ کرتے تو اس میں جو کچھ ہوتا لوگوں کو برابر برابر دیتے۔
ابن سعد رحمۃ اللہ وغیرہ کی روایت ہے، مقام سنح میں آپؓ کا بیت المال معروف تھا، وہاں کوئی پہرے دار نہیں ہوتا تھا۔
آپؓ سے لوگوں نے عرض کیا، بیت المال پر پہرے دار مقرر کر لیں۔
آپؓ نے فرمایا، کوئی خوف نہیں لوگوں نے کہا، کیوں؟
فرمایا، اس پر تالا لگا رہتا ہے۔
اور آپؓ جو کچھ اس میں ہوتا لوگوں میں تقسیم کر دیتے اور جب آپؓ وہاں سے مدینہ منتقل ہوئے تو بیت المال کو بھی منتقل کر لیا اور اسے اپنے گھر میں قائم کیا۔ جہینہ کی کان سے مال آیا جو بہت زیادہ تھا۔ اور آپؓ کی خلافت میں بنو سلیم کی کان کھودی گئی وہاں سے زکوٰۃ آئی۔ ان سب کو آپؓ بیت المال میں رکھتے اور لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرتے، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹا بڑا سب کو برابر دیتے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پہلے سال آپؓ نے آزاد، غلام، عورت، لونڈی سب کو دس دس دینار دیے اور دوسرے سال سب کو بیس بیس دینار دیے۔ پھر کچھ مسلمان آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا،
اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ نے مال سب میں برابر تقسیم کیا ہے حالانکہ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جن کو فضیلت اور اسلام میں سبقت حاصل ہے۔ کاش! آپؓ فضیلت و سبقت رکھنے والوں کو زیادہ دیتے۔
فرمایا، آپؓ لوگوں نے جو فضیلت و سبقت اسلام کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا کرنے والا ہے اور یہ وظیفہ ہے اس میں مساوات و برابری ترجیح سے بہتر ہے۔
(ابوبکر الصدیق: الطنطاوی صفحہ، 187/188ابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 193)
آپؓ کے دورِ خلافت میں عطیات کی تقسیم برابری سے ہوتی تھی۔
اس سلسلہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپؓ سے گفتگو کی اور فرمایا، کیا آپؓ، جنہوں نے دونوں ہجرتیں کیں اور دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، ان میں اور ان لوگوں کے درمیان جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے برابری کر رہے ہیں؟
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا، یہ سب انہوں نے اللہ کے لیے کیا ہے، اس کا اجر و ثواب ان کو اللہ تعالیٰ دے گا، اور بلا شبہ دنیا مسافر کی زادِ راہ ہے۔
اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں تقسیم کا طریقہ تبدیل کر دیا، سابق الاسلام اور جہاد والوں کو زیادہ دیتے تھے لیکن اپنے عہدِ خلافت کے اخیر میں فرمایا، اگر میں پہلے سے جانتا تو حضرت ابوبکرؓ کے طریقہ تقسیم کو اختیار کرتا اور لوگوں کو برابر دیتا۔
(الاحکام السلطانیۃ للماوردی: صفحہ، 201)
آپؓ اونٹ، گھوڑے اور اسلحہ خریدتے اور مجاہدین کے حوالے کر دیتے۔ ایک سال دیہات سے چادریں خریدیں اور مدینہ کی بیواؤں کے درمیان موسم سرما میں تقسیم کر دیں۔ آپؓ کے دور خلافت میں آپؓ کو جو مال ملا وہ دو لاکھ دینار تھا ان سب کو خیر کے کاموں میں تقسیم کر دیا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 258)
عدل و مساوات کو قائم کرنے میں آپؓ نے ربانی منہج کی پیروی کی اور کمزوروں کے حقوق کی نگہداشت کی، آپؓ نے یہی مناسب سمجھا کہ اپنے آپؓ کو انھی لوگوں کی صف میں رکھیں، پھر آپؓ پورے ہوش و حواس کے ساتھ ان کے ساتھ رہے، دنیاوی قوتوں کے عوامل و اسباب آپؓ کو پھسلا نہ سکے ... یہ اسلام کی تصویر تھی اس شخص کی نگاہ میں جس نے ظلم وجور کو کچل کے رکھ دیا، عدل و انصاف کے ذریعہ سے لوگوں کے سر کو بلند کیا، جس پر اس کی سلطنت کا ایمان تھا اور جس کے ذریعہ امت و ملت کی حفاظت ہوئی۔
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 46)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اوّل دن سے ان بلند پایہ مبادی اور اصولوں کو نافذ کرنے میں لگ گئے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عدل میں حاکم و محکوم کی عزت ہے، اسی لیے آپؓ نے اپنی اس سیاست کو نافذ العمل قرار دیا اور رب العالمین کا یہ ارشاد برابر دہراتے رہے،
إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ.
(سورۃ النحل: آیت نمبر، 90)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ مسلمان دین پر مطمئن ہو جائیں اور اس کی طرف دعوت کی آزادی ملے۔ اور مسلمانوں کو اطمینان اس وقت حاصل ہو گا جب ان کا حاکم خواہشات نفسانی سے خالی ہو کر محض عدل کی بنیاد پر حکومت کرے۔
اس اساس و بنیاد پر حکومت کا تقاضا ہے کہ حاکم ہر شخصی اور ذاتی امتیازات سے بالاتر ہو اور اس کے اندر عدل و رحمت دونوں جمع ہوں۔
امور سلطنت پر فائز ہونے سے متعلق حضرت ابوبکرؓ کا نظریہ، انکارِ ذات اور اللہ کے لیے مطلق اخلاص و تجرد پر قائم تھا، جس کی وجہ سے آپؓ کمزوروں کی کمزوری اور معاشرہ کی ضرورت کا بھرپور احساس رکھتے تھے اور اپنے عدل کے ذریعہ سے خواہشِ نفس پر برتری حاصل کر لی تھی پھر سلطنت کے تمام مسائل کا، بڑے ہوں یا چھوٹے، پوری بیدار مغزی اور احتیاط کے ساتھ جائزہ لیتے تھے۔
(الصدیق لہیکل باشا: صفحہ، 224)
بنا بریں عدل کا پرچم لہرا رہا تھا، کمزور کو اپنے حق پر اطمینان تھا، اس کو مکمل یقین تھا کہ جب عدل کے ساتھ فیصلہ ہو گا اس کا ضعف جاتا رہے گا، عدل کی وجہ سے وہ قوی ہے اس کا حق نہ مارا جائے گا اور نہ ضائع ہو گا۔ قوی جس وقت ظلم کرتا حق اس کو روک دیتا، اس سے مظلوم کو بدلہ دلاتا۔ جاہ و سلطنت، قرابت اور مقام و مرتبہ اس کو نہیں بچا سکتا، یہی روئے زمین میں عزت و تمکین اور غلبہ کامل ہے۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 246)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے کتنی اچھی بات کہی ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ عدل پر قائم حکومت کی مدد کرتا ہے اگرچہ کافر ہو اور ظلم پر قائم حکومت کی مدد نہیں کرتا اگرچہ مسلم ہو … عدل کے ذریعہ سے لوگ صالح و نیک بنتے ہیں اور مال میں بڑھوتری ہوتی ہے۔
(لسیاسۃ الشرعیۃ: صفحہ، 10)