جب حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا لشکر مکہ سے نکلا تو مسلمانوں کے بیت المال کو تباہ کر دیا، علی رضی اللہ تعالی عنہ کے عاملوں کو قتل کیا، عثمان بن حنیف انصاری کو جو کہ حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے عامل تھے، نکال دیا.
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام
جب حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا لشکر مکہ سے نکلا تو مسلمانوں کے بیت المال کو تباہ کر دیا، علی رضی اللہ تعالی عنہ کے عاملوں کو قتل کیا، عثمان بن حنیف انصاری کو جو کہ حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے عامل تھے، نکال دیا.
جوابِ اہلسنّت
یہ روایات صحیح نہیں ہیں، محدثین کا فیصلہ ہے کہ واقعہ جمل کے متعلق جو بیان کیا جاتا ہے، وہ ابنِ سبا یہودی منافق کی افترا پردازیاں ہیں، یہ شخص یہودی تھا، روافض کی شکل میں نمودار ہوا، علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خدا کہتا. اس نے رفض کی بنیاد رکھی۔ مؤرخین نے اس کی بیان کردہ باتوں سے جو کہ تحقیق سے کوسوں دور تھیں، یہ واقعہ اخذ کیا ہے، ابن قیبتہ ابن اعشم کوفی اور سمساطی نے جو کچھ اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے، سب اسی قبیل سے ہے، یہ واقعات درجہ صحت کو نہیں پہنچتے. اس قسم کی خرافات اور یاوہ گویوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر طعن قائم کرنے کے لئے بنیاد بنانا اس انسان کا کام ہے، جو اللہ کے کلام قرآن پاک پر ایمان و ایقان (یقین)نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور آپ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان میں نازل فرمائی اور آخر میں فرمایا.
َالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
(النور26)
ترجمہ:
پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے، اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ بری ہیں، اس سے جو لوگ باتیں بناتے ہیں، ان کے لئے مغفرت اور باعزت روزی ہے.
(النور26)