سچائی حاکم و محکوم کے درمیان تعامل کی اساس و بنیاد ہے
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)
حضرت ابوبکرؓ نے امت کی قیادت کے لیے اپنے بنیادی اصول کا اعلان فرمایا کہ سچائی حاکم و امت کے درمیان تعامل کی اساس ہے، اس حکیمانہ سیاسی اصول کا امت کی قوت میں بڑا اہم اثر ہوتا ہے۔ اس سے حاکم و عوام کے مابین اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ یہ سیاسی خصلت اسلام کی دعوت صدق سے پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (سوری التوبۃ: آیت نمبر، 119)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقین کے ساتھ رہو۔
اور رسول اللہﷺ نے فرمایا،
ثلاثۃ لا یکلمہم اللہ یوم القیامۃ ولا یزکیہم ولا ینظر الیہم ولہم عذاب الیم: سیخ زان وملک کذاب و عائل متکبر۔
ترجمہ: تین طرح کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر اٹھائے گا، بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔
(مسلم: الایمان: صفحہ، 172)
سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے، یہ کلمات معانی سے پر تھے، گویا کہ ان کلمات میں روح کار فرما تھی جو لوگوں کے درمیان صبح و شام گردش کرتی تھی اور جذبہ بیدار کرتی اور امید دلاتی تھی اور اس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پوری توجہ معانی پر تھی، الفاظ کے اسیر نہ تھے، چیزوں کو ان کا صحیح مقام دیتے تھے۔ جھوٹا حاکم، خائن وکیل کی مانند ہے جو امت کی روٹی کھا کر اس کو دھوکہ دیتا ہے۔ وہ حاکم کتنا بدتر اور ہلاک ہونے والا ہے جو جھوٹ کو اپنی عادت بنا لے، جھوٹ کو سچ کہے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے اس کو خیانت سے متصف قرار دیا ہے، وہ اپنی رعایا کا پہلا دشمن ہے، اور کیا خیانت سے بڑھ کر بھی کوئی عداوت ہو گی؟ حقیقت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ برابر اپنے اس مؤقف کی وجہ سے دنیا پر سایہ فگن رہے۔ کچھ اقوام کو بلند اور کچھ کو پست کرتے رہے ۔۔۔ افراد سازی حکومت کے فنون میں سے اہم و بلند ترین فن رہا کیونکہ افراد ہی امت کا سرمایہ ہیں، جن کے ذریعہ سے وہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں سے اپنا دفاع کرتی ہے۔
بلاشبہ جو بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کلمات میں غور و فکر سے کام لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ آپؓ اس فن کے قائد تھے اور آپؓ نبی کریمﷺ کے منہج پر عمل پیرا تھے۔
(ابوبکر رجل الدولۃ مجدی حمدی: صفحہ، 36/37)
اقوام عالم کو آج حاکم و محکوم کے درمیان تعامل کے سلسلہ میں اس ربانی منہج کی شدید ضرورت ہے تا کہ انتخابات میں تزویر و دھاندلی، اتہام بازی اور حکام کے معارضین و ناقدین کے خلاف اتہامات کی ترویج و اشاعت کے لیے وسائل اعلام کے استعمال کا مقابلہ کیا جا سکے اور یہ ضروری ہے کہ امت ایسے مختلف اداروں کے ذریعہ سے حکام کے صدق و امانت کے التزام کی نگرانی کرے جو حکام کا جب وہ انحراف کا شکار ہوں محاسبہ کر سکیں۔
(فقہ الشوری و الاستشارہ: صفحہ، 442)
اور اپنی آزادی رائے، عزت و شرف اور ملکیت پر ڈاکہ زنی سے انہیں روک سکیں۔ پھر اس طرح امت کے ارادہ و شرف اور حریف و مال کی چوری سے حکام کو روکا جا سکے۔