Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے راز ظاہر کر دیا۔

  علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے راز ظاہر کر دیا۔

قرآن پاک میں ہے:-

فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ ۖ

ترجمہ:

جب اس نے اس کی خبر دی، اور اللہ تعالیٰ نے اس پر ظاہر کر دیا، بعض بات بتا دی، اور کچھ سے اعراض کیا۔

(التحریم 3)

جوابِ اہلسنّت

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے راز فاش نہیں کیا۔

مفسرین کا متفقہ بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے فراش پر ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صحبت فرمائی، حفصہ رضی اللہ عنھا اس وقت حاضر نہ تھیں، حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا آئیں، تو یہ بات ان پر شاق گزری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ رضی اللہ تعالی عنہاکو خود پر حرام کر دیا، اور فرمایا یہ بات کسی کو نہ کہنا، حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سمجھا قصہ صحبت کے اظہار سے منع فرما رہے ہیں، نہ کہ اظہار تحریم سے ۔اس اجتہادی غلطی کی وجہ سے تحریم والی بات عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ظاہر کر دی، تو یہ آیات نازل ہوئیں، اس سے معلوم ہوا یہ اعتراض عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر کسی طرح وارد نہیں ہوتا، حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی اجتہادی خطا کی وجہ سے معذور ہیں، یہ بات بھی ہےکہ اہل سنت و الجماعت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو معصوم نہیں کہتے ہیں، کہ اہل سنت کے مذہب پر کوئی قدح لازم آئے.