جہاد پر قائم رہنے کا اعلان اور امت کو اس کے لیے تیار کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جہاد کی تربیت اپنے قائد عظیم رسول اللہﷺ سے براہِ راست حاصل کی تھی۔ توحید و شرک، ایمان و کفر ، ہدایت و ضلالت، خیر و شر کے درمیان معرکہ آرائی کے میدان میں تربیت حاصل کی، اس سے قبل غزوات میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مؤقف کو ہم بیان کر چکے ہیں۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
اذا تبایعتم بالعینۃ واخذتم أذناب البقر ورضیتم بالزَّرع وترکتم الجہاد سلط اللہ علیکم ذُ لًّا لا ینزعہ حتی ترجعوا الی دینکم۔
ترجمہ: جب تم عینہ کے طریقہ پر بیع و شراء کرنے لگو، گائے کی دم تھام لو، کھیتی باڑی میں مست ہو جاؤ اور جہاد کو چھوڑ بیٹھو تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا اور اس وقت تک اسے دور نہ کرے گا جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ۔
(سنن ابوداود: صفحہ، 3462 امام البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، بیع عینہ جس سے اس حدیث میں روکا گیا ہے اس کی شکل یہ ہے کہ آپ کسی سے اپنا کوئی سامان ادھار بیچ دیں اور پھر اس سے وہ سامان نقداً کم قیمت میں خرید لیں چونکہ یہ سود کھانے کی حیلہ سازی ہے اس لیے اس سے روکا گیا ہے) (مترجم)
اس حدیث پاک کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اچھی طرح سمجھا تھا کہ امت جب جہاد چھوڑ دے گی تو اس پر ذلت مسلط ہو کر رہے گی۔ اسی لیے آپؓ نے اپنی حکومت کے بنیادی حقائق میں سے جہاد کو شمار کیا.
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 73)
اور جہاد کے لیے امت کی تمام طاقتوں کو اکٹھا کیا تا کہ مظلوموں سے ظلم کو دور کریں، مغلوبین کی آنکھوں سے پردہ اٹھائیں، محروموں کے لیے آزادی واپس لائیں، اللہ کی دعوت کو لے کر پوری روئے زمین میں اٹھ کھڑے ہوں اور اس راستہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کریں۔