فواحش کے خلاف اعلان جنگ
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)
سیدنا ابوبکرؓ یہاں امت کو رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد یاد دلا رہے ہیں،
لم تظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یُعلنوا بہا الا فشا فیہم الطاعون والأوجاع التی لم تکن مضت فی اسلافہم الذین مضوا۔
ترجمہ: جب بھی کسی قوم میں بدکاری عام ہو جائے تو اس قوم میں طاعون اور دوسری ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں پائی گئی تھیں۔
(ابن ماجہ: صفحہ، 4091 الصحیحۃ للالبانی: صفحہ، 106)
زنا و بدکاری معاشرہ کی لا علاج بیماری ہے، آوارگی اور ضعف کا راستہ ہے، جہاں کسی چیز کو تقدس حاصل نہیں، بدکار معاشرہ سے غیرت ختم ہو جاتی ہے، رذالت کا دور دورہ ہوتا ہے اور وہاں اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ کمزوری و بے حیائی، امراض و اسقام کا معاشرہ ہوتا ہے۔ لوگوں کے حالات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ امت کے قیام و اخلاق کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 66)
اور اپنی سیاست میں امت کی طہارت و پاکی کا اور ظاہری و باطنی فواحش سے اس کو دور رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ آپؓ اس طرح ایسی قوی امت دیکھنا چاہتے تھے جو شہوتوں کی پرستار نہ ہو، شیطان اس کو ضلالتوں میں گرفتار نہ کر سکے، بلکہ ایسی امت بن کر زندگی گزارے جو تمام لوگوں کے لیے خیر و شر کو پیش کرے۔
حکومتوں کے قیام اور تہذیب و تمدن کے ظہور سے اخلاق کا انتہائی گہرا تعلق ہے۔ اگر اخلاق میں بگاڑ آ جائے تو ممالک تباہ اور امتیں ضائع ہو جاتی ہیں، اور فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے انارکی پھیلتی ہے۔ گزشتہ اقوام و ملل اور تہذیبوں کا بصیرت کی نگاہ سے جس نے مطالعہ کیا ہے اس پر یہ حقیقت آشکارا ہے کہ کس طرح تہذیب و تمدن کا قیام دین صحیح اور اخلاق کریمہ پر ہوا ہے جیسے داؤد و سلیمان علیہما السلام کے دور میں قائم ہونے والی تہذیب اور ذوالقرنین کے دور کی تہذیب۔ اور اکثر اقوام عالم جنہوں نے اخلاق و قیم کا التزام کیا وہ قوی اور طاقت ور ہو کر ابھریں اور اس وقت تک قائم رہیں جب تک اخلاق کی حفاظت کرتی رہیں اور جب فواحش و منکرات کے جراثیم ان میں داخل ہوئے تو شیطان کے پنجے میں آگئیں اور کفر کر کے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا اور ہلاکت و تباہی کا شکار ہو گئیں۔ پھر تو ان کی شان و شوکت ختم ہو گئی اور تہذیب و تمدن کا جنازہ نکل گیا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 252)
حضرت ابوبکرؓ نے اقوام و ممالک کے عروج و زوال میں سنن الٰہی کا استیعاب کر رکھا تھا، وہ جانتے تھے کہ ممالک و اقوام فواحش و منکرات اور عیاشی و فساد کی وجہ سے زوال پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا۔
(سورۃ بنی اسرائیل: صفحہ، 16)
ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوش حال لوگوں کو (کچھ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب) کی بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔
یعنی ہم ان کو بعض اطاعتوں کے بجا لانے اور معصیت کے ترک کرنے کا شرعی حکم دیتے ہیں اور جب وہ ان احکام کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان کی نافرمانی اور فسق کی وجہ سے ہلاکت و عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔
اور ایک قراءت میں أَمَّرْنَا میم کی تشدید کے ساتھ وارد ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: جلد، 5 صفحہ، 58)
یعنی ہم ان کو امراء بنا دیتے ہیں۔ کثرت مال اور سلطان و قوت اگرچہ عیش پرستی اور بغاوت کے اسباب میں سے ہیں لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو منہج الٰہی پر استقامت کے منافی ہے اور ہر مالداری عیش پرستی و بغاوت کا سبب نہیں ہوا کرتی۔
(منہج کتاب التاریخ الاسلامی محمد صامل: صفحہ، 65)
فواحش و منکرات کے خلاف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیاست مسلم حکمرانوں کے لیے قابل اقتداء ہے۔ متقی، ہوشیار اور عادل حکمران ہی اپنی قوم کی تربیت بلند اخلاق پر کرتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں وہ ایسی قوم کا قائد ہو گا جس نے آدمیت کی چاشنی محسوس کی ہو گی اور اس کی رگوں میں انسانیت کا خون گردش کر رہا ہو گا۔ اور اگر حاکم اپنی ذکاوت سلب کر کے بے وقوفوں میں سے ہو جائے ۔۔۔ تو قوم میں فواحش و منکرات پھیلائے گا اور طاقت و قانون کے ذریعہ سے اس کی حمایت کرے گا، اخلاق قیم کے خلاف جنگ برپا کر دے گا اور اپنی قوم کو رذائل کے گڑھے میں دھکیل دے گا۔ ان کی مثال بھٹکے ہوئے جانوروں اور حیران و پریشان گلے کی سی ہو گی، ان کے پیش نظر لذت اندوزی اور گمراہ کن زیبائش کے سوا کچھ نہیں، جس کی وجہ سے وہ رجولت و مردانگی اور بہادری کو چھوڑ کر کمینوں کی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 253)
ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے:
وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ۔
(سورۃ النحل: صفحہ، 112)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن و اطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس فراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی، پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے امت سے خطاب پر یہ بعض تعلیقات ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے، جس کے اندر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کی سیاست کا خاکہ پیش فرمایا ہے، حاکم کی ذمہ داری اور حاکم و محکوم کے تعلقات کی تحدید فرمائی ہے اور حکومت و سلطنت کے قیام اور قوم کی تربیت سے متعلق اہم قواعد و اصول کو بیان کیا ہے۔ اس طرح اسلامی خلافت قائم ہوئی اور حکمرانی کے مفہوم کی عملی طور پر تحدید کی گئی، امت میں منصب خلافت اور خلیفہ کے انتخاب کا شوق وںجذبہ اس طرح تھا اور پھر اس کی پسندیدگی کی طرف لوگوں کا جلدی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کیے ہوئے تھے کہ جس نظام کو نبی کریمﷺ نے برپا کیا تھا اس کی بقاء واجب ہے۔ نبی کریمﷺ اگرچہ وفات پا گئے لیکن آپ نے جو دین و قرآن چھوڑا ہے، وہ آپ کے طریقہ پر گامزن رہیں گے۔ لوگوں کا اس دن راضی ہونا ان کے اس ارادے کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس نظام پر برقرار رہیں گے جسے رسول اللہﷺ نے برپا کیا ہے۔
(دراسات فی الحضارۃ الاسلامیۃ، احمد ابراہیم الشریف: صفحہ، 209/210)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حکومت سے مسلمانوں نے کچھ ہی مدت استفادہ کیا، آپؓ نے اس خطبہ کے ذریعہ سے ماضی و حاضر میں پائے جانے والے نظام ہائے حکومت کے معیار پر اختیارات کی حد بندی کی، آپؓ کی حکومت شورائی حکومت تھی، ہر دور میں حریت و عدل کے متلاشی، اقوام و امم کی سیاست کے لیے اس سے بہتر حکومت نہیں پا سکتے.
(اشہر مشاہیر الاسلام فی الحرب و السیاسۃ: صفحہ، 120)
جس کی قیادت محمد مصطفیٰﷺ کے شاگرد رشید، نجابت و شرافت، ذکاوت و علم اور ایمان عظیم کے پیکر حضرت ابوبکرؓ نے کی تھی۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شرط کے بغیر کوئی بھی کبھی امام (حاکم) نہیں بن سکتا۔
(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 92)
اس سے آپؒ کا مقصود یہ ہے کہ وہ عظیم معانی اور مضامین جنہیں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے سیاسی خطاب میں بیان فرمایا ہے، حاکم کے لیے ان کو اختیار کرنا ضروری ہے۔