صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں غلط خیال رکھنے والے کی امامت کا حکم
سوال: ہماری مسجد کے خطیب، یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اسلامی کے پروفیسر ہیں، کبھی کبھی جمعہ کی تقریر میں تاریخی بات چیت کرتے ہیں۔ جناب نے گزشتہ جمعہ میں جنگ جمل اور صفین کے واقعات بیان کئے ہیں اور تقریر کے آخر میں یہ بات کہی ہے کہ
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اندھی تقلید کرنا ایک قسم کی غلطی ہے، چونکہ یہ لوگ بھی انسان تھے ان کے اندر بھی اچھے بُرے تھے، جیسے جنگ جمل اور صفین کے واقعات میں سب حالات مذکور ہیں، لیکن بعض علماء ان واقعات کی فاسد تاویلیں کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پس ہماری رائے یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیارِ حق نہیں ہیں، یعنی جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فسق و فجور ظاہر ہوا ہے وہ لوگ قابلِ اقتداء نہیں ہیں جیسے سیدنا امیر معاویہؓ وغیرہ۔ (العیاذ باللّٰه)
اب ہمیں ان کے بیان سے متعلق دریافت طلب امر یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں غلط خیالات رکھنے والے علماء یا کسی آدمی کو امام خطیب بنانا کیسا ہے؟
جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں غلط خیالات رکھنے والے عالم یا کسی بھی شخص کو مسجد میں امام خطیب اور مؤذن مقرر کرنا جائز نہیں، ان کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہو گی۔
فلہٰذا صورتِ مسںٔولہ میں کمیٹی اور نمازی لوگوں پر واجب ہے کہ مذکورہ خطیب کو سبکدوش کرکے ایک دیندار متقی و متبع سنت عالم دین کو خطیب مقرر کریں، ورنہ قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے سامنے جواب دہی کرنی ہو گی۔ کون ہو گا کہ ان کے سوال کا جواب دے سکے گا؟ بلکہ جس سے سوال ہو گا ذلیل و خوار ہو گا۔
(جواھر الفتاویٰ: جلد، 4 صفحہ، 215)