Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اپنے گھر کو حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) اور حضرت عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لئے مقبرہ بنا دیا، حالانکہ یہ مکان ان کی ملکیت نہ تھا.

  علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام 

اپنے گھر کو حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) اور حضرت عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لئے مقبرہ بنا دیا، حالانکہ یہ مکان ان کی ملکیت نہ تھا.

جواب اہلسنّت

یہ باطل ہے، قرآن پاک کی آیت وَقَرْنَ فِی بیُوْتِکُنَّ*میں بیوت کی ازواج رضی اللہ تعالی عنھن کی طرف اضافت ان کی ملکیت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھروں کا مالک بنا دیا تھا. ان کی ملکیت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات سے پہلے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اجازت طلب فرمائی، اس وقت تمام صحابہ حاضر و موجود تھے، کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا.

حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے  بھی حجرۃ میں دفن ہونے کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اجازت چاہی تھی، مگر مروان نے جو کہ اس وقت مدینہ کا والی تھا، دفن نہ ہونے دیا۔جیسا کہ فصول المہمۃ فی معرفۃ الائمہ وغیرہ کتب امامیہ میں مذکور ہے.

(یہ بات بھی کسی صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے)

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو پیشگی اطلاع دی تھی، جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حجرہ میں دفن ہونے کی اجازت چاہی تھی، آپ نے فرمایا:-

”انی لک مافیہ الامرضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و قبر عیسیٰ ابن مریم“

”تیرے لئے اس میں کہاں جگہ ہے، اس میں میری ابوبکر اور عمر اور عیسیٰ بن مریم کی قبروں کی ہی جگہ ہے“.