سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسلمانوں کے درمیان بحیثیت خلیفہ رسولﷺ ذندگی گزاری، لوگوں کی تعلیم، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے، آپؓ کا یہ مؤقف رعایا پر ہدایت و ایمان اور اخلاق کی چھاپ چھوڑتا۔

بکریوں کا دودھ نکالنا، اندھی بڑھیا اور ام ایمن کی زیارت:

خلافت ملنے سے قبل آپؓ محلے والوں کی بکریوں کا دودھ نکال دیا کرتے تھے، جب خلیفہ بنا دیے گئے تو محلے کی ایک خاتون نے کہا:

اب تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہماری بکریوں کا دودھ نہیں دوہیں گے؟

آپؓ نے اس کی یہ بات سن لی، فرمایا:

میں ضرور دودھ دوہیا کروں گا اور میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ نئی ذمہ داری گزشتہ عادت و اخلاق سے نہیں روکے گی۔

پھر آپؓ حسبِ سابق دودھ نکال دیا کرتے تھے۔ جب خواتین بکریاں لے کر آتیں تو آپؓ فرماتے:

دور سے دودھ نکالوں یا قریب سے؟

جب وہ کہتیں دور سے تو دودھ کا برتن تھن سے دور کر کے دودھ نکالتے، جس کی وجہ سے جھاگ زیادہ ہوتا، اور اگر وہ کہتیں قریب سے، تو آپؓ برتن کو تھن سے قریب کر کے دودھ نکالتے، جس کی وجہ سے جھاگ نہیں بنتی۔ آپؓ ایسا ہی چھ ماہ تک کرتے رہے، یہاں تک کہ مقام سنح سے مدینہ منتقل ہو گئے۔

(ابن سعد فی الطبقات: جلد، 3 صفحہ، 186 ولہ شواہد، فاسنادہ حسن لغیرہ)

اس خبر کے اندر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے چند اخلاق بیان کیے گئے ہیں یہ انتہائی درجہ کی تواضع ہے اور پھر ایسے شخص کی طرف سے جو عمر میں بھی بڑا ہے اور شرف و جاہ میں بھی۔ کیونکہ آپؓ مسلمانوں کے خلیفہ ہیں، آپؓ اس بات کے انتہائی حریص تھے کہ خلافت کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ ان کے تعامل میں فرق نہ آنے پائے، اگرچہ اس میں وقت لگے۔ اور اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نیکی و احسان کے اعمال کا کس قدر اہتمام تھا اگرچہ یہ وقت اور محنت کا متقاضی ہو۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 8 صفحہ، 19)

یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے عزم صادق اور استقامت نادر کے ذریعہ سے جزیرہ عرب پر غلبہ حاصل کیا اور اسے اللہ کے دین کے تابع کر دیا، پھر ان کی افواج تیار کر کے روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کی طرف روانہ کیں، جنہوں نے اسلام کے پرچم تلے ان سے قتال کر کے ان پر غلبہ حاصل کیا، سیدنا ابوبکرؓ محلے والوں کی بکریوں کا دودھ دوہ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: مجھے امید ہے کہ مجھے جو منصب و ذمہ داری ملی ہے، اس سے میرے اس معمول میں فرق نہیں آئے گا۔ اور آپؓ کی ذمہ داری کچھ معمولی نہ تھی بلکہ یہ ذمہ داری رسول اللہﷺ کی خلافت اور عرب کی سیادت اور فوج کی قیادت تھی، جو زمین سے فارسی جبروت اور رومی عظمت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کی جگہ عدل، علم اور تہذیب و تمدن کا قصر تعمیر کرنے میں لگ گئی، پھر بھی آپؓ امید کرتے ہیں کہ یہ عظیم ذمہ داری محلے والوں کی بکریوں کا دودھ دوہنے میں حائل نہ ہو گی۔

(ابوبکر الصدیق: الطنطاوی صفحہ، 186)

ایمان باللہ کے ثمرات میں سے اخلاق حمیدہ ہے جس میں سے تواضع و فروتنی بھی ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں نمایاں تھی۔ مذکورہ مؤقف سے یہ بالکل واضح ہے۔ آپؓ کی کیفیت یہ تھی کہ اگر اونٹنی کی نکیل گر جاتی تو سواری سے اتر کر خود اٹھاتے اور جب آپؓ سے لوگ عرض کرتے: آپؓ یہ تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں، ہمیں کہیں ہم اٹھا دیا کریں گے، تو فرماتے: ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ ہم کسی سے کوئی چیز نہ مانگیں۔

(التاریخ الاسلامی: محمود شاکر صفحہ، 8)

آپؓ نے ہمارے لیے تواضع کو سمجھنے اور عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں زندہ مثال پیش کی ہے، جو اللہ و رسولﷺ کے ارشادات میں بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ.

(سورۃ القصص: آیت نمبر، 40)

ترجمہ: بالآخر ہم نے اسے (فرعون کو) اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا برد کر دیا، اب دیکھ لیں ان ظالموں کا انجام، کیسا کچھ ہوا۔

تواضع کے سلسلہ میں یہاں آیت زیادہ موزوں تھی:

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا۔

(سورۃ الفرقان: آیت نمبر، 63)

ترجمہ: رحمن کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین میں فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے) (مترجم)

اور رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

ما نقصت صدقۃ من مال وما زاد اللہ عبدا بعفو الا عزا وما تواضع احدٌ للہ الا رفعہ اللہ۔

ترجمہ: صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، عفو و درگزر سے اللہ بندے کی عزت بڑھاتا ہے اور اللہ کے لیے جو تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے۔

(مسلم: البروالصلۃ صفحہ، 2588)

اس تواضع نے آپؓ کو مسلمانوں، خاص کر حاجت مند اور کمزوروں کی خدمت پر ابھارا۔ ابو صالح غفاریؒ کی روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ کے ایک کنارے ایک اندھی بوڑھی عورت کے پاس رات کے وقت اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور دیگر ضروریات کو پوری کرنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ جب وہاں پہنچتے تو پتہ چلتا کہ ان سے پہلے کوئی یہ سب کام کر گیا ہے، کئی بار اس نیت سے آئے کہ کوئی سبقت نہ کرنے پائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھات میں لگے کہ دیکھیں وہ کون ہے جو ان سے پہلے بڑھیا کا کام کر جاتا ہے۔ دیکھا تو وہ حضرت ابوبکرؓ تھے، حالانکہ وہ اس وقت خلیفہ تھے۔

(ابوبکر الصدیق: الطنطاوی صفحہ، 29)

صفحہ 1 از 2