سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آؤ چلیں سیدہ ام ایمنؓ کی زیارت کریں جیسا کہ رسول اللہﷺ ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ جب یہ دونوں سیدہ ام ایمنؓ کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ پوچھا کیوں رو رہی ہیں۔ اللہ کے پاس جو ہے وہ رسول اللہﷺ کے لیے اس دارفانی سے بہتر ہے۔ فرمانے لگیں کہ میں اس لیے نہیں روتی ہوں کہ میں جانتی ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ رسول اللہﷺ کے لیے بہتر ہے بلکہ میں اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی کے آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ یہ سن کر وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔

(مسلم: فضائل الصحابۃ صفحہ، 2454)

اس خاتون کو نصیحت فرمانا جس نے یہ نذر مان رکھی تھی کہ کسی سے بات نہ کرے گی:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جاہلیت کے اعمال اور دین میں بدعت ایجاد کرنے سے لوگوں کو روکتے اور اسلامی احکامات وتمسک بالسنۃ کی دعوت دیتے۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ حیاۃ الصدیق، مجدی فتحی السید: صفحہ، 140)

قیس بن ابی حازمؒ سے روایت ہے: دین میں غلو کرنے والوں میں سے ایک زینب نامی خاتون کے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ حیاۃ الصدیق ، مجدی فتحی السید: صفحہ، 140)

 اس کو دیکھا، بات نہیں کرتی ہے۔

آپؓ نے فرمایا: اس کو کیا ہو گیا ہے؟ بات کیوں نہیں کرتی؟

لوگوں نے بتلایا کہ اس نے خاموش رہ کر حج کرنے کی نیت کی ہے۔

آپؓ نے اس سے کہا: بات کرو ایسا کرنا (ترک کلام) حلال نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کا عمل ہے۔

پھر اس خاتون نے بات کی اور پوچھا: آپؓ کون ہیں؟

فرمایا: میں مہاجرین کا ایک فرد ہوں۔

اس نے پوچھا: کون سے مہاجرین؟

آپؓ نے فرمایا: قریش۔

اس نے کہا: آپؓ قریش کی کس شاخ سے ہیں؟

آپؓ نے فرمایا: تم بڑی سوال کرنے والی ہو، میں حضرت ابوبکرؓ ہوں۔

اس نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! اس دین پر ہم کب تک باقی رہیں گے جو اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعد لایا ہے؟

آپؓ نے فرمایا: تم اس وقت تک اس پر قائم رہو گی جب تک تمہارے ائمہ اس پر قائم رہیں گے۔

اس نے کہا: ائمہ سے کون لوگ مراد ہیں؟

آپؓ نے فرمایا: کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف نہیں ہوا کرتے تھے جو لوگوں کو حکم دیتے تھے اور لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے؟

اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور۔

آپؓ نے فرمایا: وہی لوگ لوگوں کے ائمہ ہیں۔

(البخاری: صفحہ، 3834)

امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خاموش رہنا جاہلیت کی عبادتوں میں سے ہے۔ وہ رات اور دن کا اعتکاف کرتے اور خاموش رہتے تھے۔ اس سے اسلام میں منع کیا گیا اور اچھی گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اِستدلال کرتے ہوئے لوگوں نے یہ کہا ہے کہ جو قسم کھا لے کہ وہ بات نہیں کرے گا، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ بات کرے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے کیونکہ اس خاتون کو حضرت ابوبکرؓ نے کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اور جس نے بات نہ کرنے کی نذر مانی اس کی نذر صحیح نہ ہو گی کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطلقاً فرمایا ہے کہ یہ حلال نہیں ہے اور جاہلیت کا کام ہے، اسلام نے اس کو ختم کر دیا ہے۔ اور آپؓ ایسی بات اسی وقت کر سکتے ہیں جب کہ رسول اللہﷺ سے اس بارے میں سنا ہو اور ایسی صورت میں یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 150)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ خاموشی کی فضیلت میں وارد شدہ احادیث کے معارض نہیں، کیونکہ مقاصد و اہداف کا اختلاف ہے۔ جس خاموشی کی طرف رغبت دلائی گئی ہے وہ باطل کلام کا ترک کرنا ہے اور اسی طرح اس مباح کلام کو ترک کرنا ہے جو باطل کی طرف لے جائے، اور جس خاموشی سے منع کیا گیا ہے وہ یہ کہ حق بات کو استطاعت کے باوجود نہ کہا جائے اور اسی طرح وہ مباح کلام جس کے دونوں پہلو برابر ہوں۔ واللہ اعلم

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 151)


صفحہ 2 از 2