رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ إرشاد فرمایا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ جو کہ منبر سے مشرق کی جانب تھا اشارہ کر کے کہا، اس جگہ فتنہ ہے جہاں سورج طلوع ہوتا ہے، شیعہ کہتے ہیں کہ فتنہ سے مراد عائشہ ہے، جو کہ امیر المومنین کے ساتھ لڑنے کے لئے بصرہ گئیں، اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا باعث ہوئیں
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ إرشاد فرمایا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ جو کہ منبر سے مشرق کی جانب تھا اشارہ کر کے کہا، اس جگہ فتنہ ہے جہاں سورج طلوع ہوتا ہے، شیعہ کہتے ہیں کہ فتنہ سے مراد عائشہ ہے، جو کہ امیر المومنین کے ساتھ لڑنے کے لئے بصرہ گئیں، اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا باعث ہوئیں.
جواب اہلسنّت
یہ سب باطل اور زعمِ فاسد ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مشرقی جانب تھی، جیسا کہ الفاظ حدیث :
”من حیث تطلع قرن الشمس“
“جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے“
۔۔۔۔۔۔اس پر دلالت کرتے ہیں ک روافض کوفہ سے برآمد ہوئے، معتزلہ بصرہ سے قرامطہ سواد کوفہ سے اور خوارج نہروان سے ظاہر ہوئے، یہ سب مقامات مدینہ سے مشرق کی طرف واقع ہیں، دجال بھی مشرق کی طرف سے ظاہر ہو گا، اور ایران جو کہ روافض کا گڑھ ہے یہ بھی مشرق کی طرف واقع ہے، اگر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مراد ہوتی تو ان کے بارت میں قرآنی آیات کیوں اترتیں. پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بدلہ میں دوسری عورتیں لانے سے کیوں ممنوع ہوئے، اس سلسلہ میں اصل سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں جن کی وجہ سے یہ منع آئی دوسری ان کے تابع ہیں.
چونکہ روافض کا قرآن پر ایمان نہیں ہے، اس لئے یہ خرافات بکتے رہتے ہیں.