ایک لڑکی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تیار کی اور کہا :
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شیعہ کا الزام
ایک لڑکی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تیار کی اور کہا :
”لعلنا نصید بھا بعض شبان قریش“
”ہم اس کے ذریعہ کسی نوجوان قریشی کا شکار کریں گے“
جواب اہلِسنت
اس اثر کے اول سے آخر تک سب رواۃ(راوی) مجہول ہیں، ایک مجہول راوی بھی روایت کو ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے، چہ جائیکہ سارا سلسلہ ہی مجہول ہو.
لہذا یہ روایت قابل احتجاج نہیں ہے، برتقدیر صحت روایت جواب یہ ہے کہ یہ کوئی طعن کی بات نہیں کیونکہ ایک شریف لڑکی کے لئے مناسب کفو تلاش
کرنا کوئی عیب کی بات نہیں لڑکے والوں کی عورتوں کے سامنے لڑکی کے حسن و جمال اور اس کی خوبیوں کا تذکرہ مندوب ہے، کسی بھی مہذب معاشرہ میں یہ بات قابل طعن وعیب نہیں ہے.
اگر کوئی یہ سمجھتا ہےشکار کرنے سے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مراد اپنے لئے ہے، نصِ قطعی سے ایسا شخص خبیث ہے، مؤمن نہیں ہے.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْم۔یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوا لمثْلہٖ اَبَدًا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْن۔
ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں یہ بہت بڑا بہتان ہے، اللہ تمہیں نصحيت کرتا کہ آئندہ ایسی بات نہ کہنا، اگر تم ایمان رکھتے ہو.
(النور 16.17)
نیز حق تعالیٰ نے فرمایا:-
خبیث عورتیں، خبیث مردوں کے لئے، اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں.
(النور 26)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان نازل ہو جانے کے بعد جو شخص بھی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر اس قسم کی بہتان تراشی کرے گا، وہ مؤمن نہیں ہے، منطقی قضایا کی رو سے یہ نتیجہ واضح ہے.
ان کنتم مومنین لا تعودوا لکنھم عادوا المثلہ فماھم بمومنین
اگر تم ایمان دار ھو ایسی بات پھر نہ کہنا. لیکن انہوں نے ایسی بات کہی. نتیجہ پس یہ مؤمن نہیں ہیں.
ایسا شخص خبیث ہے کہ ایسا کلمہ خبیثہ اس کے ساتھ مختص ہے.