مصیبت کے وقت نعمت کا مشاہدہ کرنا
ابو شاہینمصیبت کے بعد اسلامی ادب کا تقاضا یہ ہے کہ بندۂ مسلم اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا مشاہدہ کرے، اگر قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عظیم سانحہ اور بہت بڑا شر ہے۔ تو یہ ان کے لیے باعث خیر و اکرام بھی ہے۔ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن ظالم اور باغی گروہ کے ہاتھوں مقتول ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح عزت سے نوازا جس طرح اس نے ان کے اہلِ بیت کو نوازا اور ان کے ساتھ حمزہ، جعفر اور ان کے والد گرامی علی رضی اللہ عنہم کو نوازا، تو اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کی وجہ سے ان کے مقام و مرتبہ کو بہت بلند فرما دیا۔ آپ اور آپ کے بھائی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ اعلیٰ مقامات ابتلاء و آزمائش کے بغیر میسر نہیں آیا کرتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انبیاء کی، پھر صالحین کی، پھر درجہ بدرجہ آدمی کو اس کی دین داری کے حساب سے آزمایا جاتا ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو گی تو اس کی آزمائش میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو گی تو اس سے تخفیف کر دی جائے گی، اور بندۂ مومن کو مسلسل آزمایا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (ترمذی: رقم الحدیث 2398 حسن صحیح)
سیدنا حسنین کریمین رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلند تر مقام و مرتبہ پر فائز کیا گیا، مگر انہیں اس آزمائش سے دوچار نہیں کیا گیا، جس سے ان کے پاک اسلاف کو کیا گیا تھا۔ ان دونوں نے اسلام کی آغوش میں آنکھ کھولی، عزت و کرامت میں نشوونما پائی اور مسلمان ان کی تعظیم و توقیر اور ان کا اکرام کیا کرتے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رحلت فرمائی، تو اس وقت تک انہوں نے سن تمیز مکمل نہیں کیا تھا، یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان تھا کہ اس نے ان کی آزمائش کر کے انہیں ان کے اہل بیت کے ساتھ ملا دیا، قبل ازیں ان سے بھی افضل لوگوں کی آزمائش کی جا چکی تھی، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان دونوں سے افضل تھے اور انہیں بھی شہادت سے مشرف کیا گیا تھا۔ (الفتاوی: جلد، 25 صفحہ 162)
قضا و قدر کو یاد کرنا
جب بندۂ مسلم کو یہ یقین ہو جائے کہ مجھ پر جو بھی مصیبتیں آئیں، یہ میرے مقدر میں تھیں اور اللہ نے میرے مقدر میں جو کچھ لکھ دیا، وہ بہر صورت ہو کر ہی رہنا تھا اور اس سے بچ پانا ممکن نہیں تھا اور یہ کہ ان مصائب میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہے، جب انسان ان امور کو یاد کرے گا تو پھر اس کے لیے یہ مصیبتیں ہلکی ہو جائیں گی۔ (موسوعۃ الآداب الاسلامیۃ: جلد، 2 صفحہ 790)
ارشاد باری ہے:
مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اِِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَہَا اِِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌo لِکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا آتَاکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍo (الحدید: 22ـ23)
’’زمین میں کوئی مصیبت نہیں آتی اور نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اِترا جاؤ، اور اللہ تعالیٰ اِترانے والے اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘