یوم عاشوراء کو عید کے طور پر منانے والے - دفاعِ اہلِ سنت |…

یوم عاشوراء کو عید کے طور پر منانے والے

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 2

الف: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ ماہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس دن کا روزہ رسول اللہﷺ نے بھی رکھا اور مسلمانوں نے بھی، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض قرار دے دئیے گئے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’عاشوراء اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو کوئی چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے ترک کر دے۔‘‘ (مسلم: رقم الحدیث 1124)

ب: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: یہ نیک دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ چنانچہ آپﷺ نے اس دن کا خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا۔ انہی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یوم عاشوراء کے روزے کا حکم دیا۔ ( مسلم: رقم الحدیث 1134)

ج: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ جب حضرت محمدﷺ نے یوم عاشوراء کا حکم دیا اور اس کے روزے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہﷺ! یہ وہ دن ہے جس کی یہود و نصاریٰ تعظیم کیا کرتے ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ آئندہ سال نو تاریخ کا روزہ بھی رکھیں گے۔‘‘ مگر رسول اللہﷺ آئندہ سال سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ دوسری روایت میں ہے: ’’اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔‘‘ (ایضاً)

انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کرو اور اس بارے میں یہود کی مخالفت کرو، ایک دن اس سے پہلے اور ایک دن اس کے بعد روزہ رکھا کرو۔‘‘ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب الصیام: جلد، 4 صفحہ 287)

علماء بتاتے ہیں کہ یوم عاشوراء کے روزے کے تین مراتب ہیں:

(1) نو، دس اور گیارہ کا روزہ۔ اس لیے کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’ایک دن اس سے قبل اور ایک دن اس کے بعد روزہ رکھا کرو۔‘‘

(2) نو اور دس کا روزہ۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم ان شاء اللہ آئندہ سال نو تاریخ کا روزہ بھی رکھیں گے۔‘‘

(3) صرف یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا۔ یہ ان احادیث کی بنا پر ہے جن میں اس دن کے روزے کی تاکید کی گئی ہے۔ (زاد المعاد: جلد، 2 صفحہ 76 فتح الباری: جلد، 4 صفحہ 246)

یہ ہیں یوم عاشوراء کے بارے میں حضرت محمدﷺ کی تعلیمات اور اسی سے اہلِ السنۃ و الجماعۃ کی میانہ روی عیاں ہوتی ہے، ان کے مذہب میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط، اہل سنت کا مذہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات سے وابستگی اور آپ کے احکامات کی تعمیل سے عبارت ہے جس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔


صفحہ 2 از 2