Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق

  ابو شاہین

حضرت حسینؓ کے سر کی جگہ کے بارے میں اختلاف کا سبب وہ متعدد زیارت گاہیں ہیں، جو مسلمانوں کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو فکری اور اعتقادی انحطاط کے زمانوں میں قائم کی گئیں۔ یہ تمام زیارت گاہیں حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر کے وجود کی مدعی ہیں، پھر چونکہ ان کے سر کی جگہ کے بارے میں ناواقفیت ہے لہٰذا ہر گروہ اپنے ہاں رأس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کئی باتیں بناتا ہے۔ اگر ہم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کی جگہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیں، تو ہمیں اس کے لیے معرکہ کربلا کے اختتام سے ہی اس کی موجودگی کا کھوج لگانا ہو گا۔ (مواقف المعارصۃ: صفحہ 308)

 یہ بات تو ثابت ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک ابن زیاد کے سامنے لایا گیا تو اس نے اسے ایک تھال میں رکھا اور پھر اس چھڑی سے اسے ضربیں لگانے لگا، جو اس کے ہاتھ میں تھی، یہ منظر دیکھ کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور فرمایا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے بڑھ کر حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔ (سنن الترمذی: 6595 حسن صحیح غریب) اس کے بعد رأس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایات و آراء کا واضح اختلاف سامنے آتا ہے۔ لیکن ان روایات کے بعد جو یہ بتاتی ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید بن معاویہ کے پاس بھجوا دیا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض روایات بتاتی ہیں کہ جب ان کا سر یزید کے پاس پہنچایا گیا، تو وہ ان کے منہ پر چھڑیاں مارنے لگا، جب اس نے یہ حرکت کی تو ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اس کے اس فعل پر اعتراض کیا، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ (المجمع: جلد، 9 صفحہ 195 اس میں ضعف ہے) ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے اس روایت کے ضعف پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو لوگ اس واقعہ کے وقت وہاں موجود بتائے گئے ہیں، وہ شام میں نہیں بلکہ عراق میں موجود تھے۔ (السیر: جلد، 3 صفحہ 316 سمط النجوم العوالی: جلد، 3 صفحہ 86) جو بات اس روایت کے متن کے فساد پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ متن ان صحیح روایات کے مخالف ہے، جو آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید کے اچھے برتاؤ اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر اس کے اظہار افسوس اور رونے کی صراحت کرتی ہیں۔ 

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 313)

ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور جیسا کہ صحیح طور پر ثابت ہے اسی نے اسے چھڑیاں ماری تھیں۔ (ایضاً) جس روایت میں سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کو یزید کے پاس بھجوانے کا ذکر ہے تو وہ روایت باطل ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ (ایضاً: صفحہ 313 نور الابصار: صفحہ 121) دوسری طرف ابن کثیرؒ کا موقف ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس بھجوایا گیا تھا، فرماتے ہیں: علماء کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو یزید کے پاس بھجوایا تھا۔ اس بارے میں بہت سے آثار وارد ہیں۔ (تاریخ بغداد: جلد، 1 صفحہ 143-143 ترجمۃ الحسین: 276) و اللہ اعلم۔

امام ذہبی کی بھی یہی رائے ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 580)

تاریخی کتب میں مذکور ہے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر مبارک مندرجہ ذیل چھ شہروں میں مدفون ہے:

 (1) دمشق

بیہقی اپنی کتاب ’’المحاسن و المساوی‘‘ میں ذکر کرتے ہیں کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر دھونے کا حکم دیا، اسے ریشم کے کپڑے میں رکھا، اس پر خیمہ نصب کیا اور اس پر پچاس آدمیوں کو مقرر کیا۔ (المحاسن و المساوی: صفحہ 84) ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں یزید بن معاویہ کی دایا رِبّا سے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ تک اسلحہ خانہ میں موجود رہا، پھر اسے سلیمان کے پاس لایا گیا، اس وقت وہ ہڈیوں کی صورت میں ہی باقی رہ گیا تھا۔ اس نے اسے کفن دیا، خوشبو لگائی اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ پھر جب بنو عباس آئے، تو انہوں نے اسے قبر سے نکالا، پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ (تاریخ ابن عساکر، نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 311) ربّا خاتون کے اس بیان کو ابن عساکر نے جرح و تعدیل کے بغیر ذکر کیا ہے اور یہ روایت مجہول ہے، (مواقف المعارضۃ: صفحہ 33) ساقط الاعتبار ہے اور اس پر کسی بھی حالت میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ (ایضاً: صفحہ 313)

ذہبی نے اپنی سند کے ساتھ کریب سے نقل کیا ہے کہ میں باب توما سے نکلا، جب میں نے ٹوکری کو کھولا تو اس میں سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر پڑا تھا اور اس پر لکھا تھا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر ہے میں نے اس میں اپنی تلوار سے گڑھا کھودا اور اسے اس میں دفن کر دیا۔ (السیر: جلد، 3 صفحہ 316 سمط النجوم العوالی: جلد، 3 صفحہ 84) یہ روایت بہت ضعیف ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 313) پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے سر مبارک کو اسلحہ خانہ میں محفوظ رکھنے کا یزید کو کیا فائدہ تھا؟ (ایضاً)

 (2) کربلا

 شیعہ امامیہ کے علاوہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہادت کے چالیس دن بعد آپ کا سر دوبارہ کربلا میں لایا گیا اور اسے ان کے جسد مبارک کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ (ایضاً: صفحہ 313 نور الابصار: صفحہ 121) ان کے ہاں یہ دن زیارت اربعین کے نام سے مشہور ہے۔ مگر اس کی تردید کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس قول کے ساتھ شیعہ امامیہ متفرد ہیں مگر اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ ابو نعیم فضل بن دکین بعض لوگوں کے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہیں کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کو پہچانتے ہیں۔ (تاریخ بغداد: جلد، 1 صفحہ 143-144 ترجمۃ الحسین: 276) ابن جریر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی جگہ کا نشان مٹا دیا گیا تھا تاکہ کوئی شخص اس کی تعیین نہ کر سکے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 570)

(3) رقہ

 سبط ابن جوزی اس خبر کو وارد کرنے کے ساتھ منفرد ہیں کہ آپ کے سر مبارک کو رقہ میں دفن کیا گیا، فرماتے ہیں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر دریائے فرات کے کنارے رقہ کی مسجد میں مدفون ہے۔ جب آپ کا سر یزید کے سامنے رکھا گیا تو وہ کہنے لگا: میں اسے رقہ میں مقیم آل ابو معیط کے پاس بھیجوں گا۔ انہوں نے اسے اپنی کسی حویلی میں دفن کر دیا۔ بعدازاں یہ حویلی جامع مسجد میں شامل ہو گئی۔(شخصیات اسلامیۃ، عقاد: جلد، 3 صفحہ 298 مواقف المعارضۃ: صفحہ 314)

 مگر یہ خبر غیر معتبر ہے اور اس روایت کی سند بھی غیر موجود ہے۔ مزید برآں اس خبر میں واضح نکارت ہے اس لیے کہ یہ ان صحیح نصوص کے برعکس ہے، جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید نے اچھا سلوک کیا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 314) یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ سبط ابن جوزی کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں: میں نے اس کی ایک کتاب دیکھی ہے جو اس کے تشیع پر دلالت کرتی ہے۔ (السیر: جلد، 23 صفحہ 297)

(4) عسقلان

 محققین کی ایک جماعت اس خبر کا انکار کرتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کو عسقلان میں دفن کیا گیا تھا۔ قرطبی فرماتے ہیں: یہ قول بالکل باطل ہے کہ آپ کا سر عسقلان میں مدفون ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295) ابن تیمیہ بھی رأس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عسقلان میں موجودگی کا انکار کرتے ہیں۔ (تفسیر سورۃ الاخلاص لابن تیمیۃ: صفحہ 264) ابن کثیرؒ بھی اس سے انکاری ہیں۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 583)

(5) قاہرہ

لگتا ہے کہ عبیدی (فاطمی) حکمرانوں کا جادو اکثر لوگوں پر چل گیا۔ جب 549 ہجری میں صلیبیوں نے عسقلان پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا، تو فاطمی وزیر صالح طلائع بن زریک اپنے لشکر کے ساتھ ننگے پاؤں صالحیہ کی طرف نکلا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر لے کر اسے سبز رنگ کے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آبنوس کی کرسی پر رکھ دیا اور اس کے نیچے عنبر، کستوری اور خوشبو کا چھڑکاؤ کیا اور پھر خان خلیلی کے قریب مشہد حسینی میں دفن کر دیا اور یہ اتوار 8 جمادی الاولیٰ 548 ہجری کا واقعہ ہے۔ (المقریزی: جلد، 1 صفحہ 427 بدائع الزہور: جلد، 1 صفحہ 227) فاروقی نے ذکر کیا ہے کہ فاطمی خلیفہ خود باہر نکلا اور حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر اٹھا کر لایا (تاریخ میارقین: صفحہ 70) اور شبنجی نے ذکر کیا ہے کہ فاطمی وزیر صالح طلائع نے فرنگیوں کے عسقلان پر قبضہ جما لینے کے بعد بڑی بھاری رقم ادا کر کے ان سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک حاصل کیا۔ (نور البصائر: صفحہ 121 مشاہد الصفا: صفحہ 312)

بعض مؤرخین نے یہ ثابت کرنے کی بڑی کوشش کی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک واقعی عسقلان سے مصر منتقل کیا گیا تھا اور مصر میں موجود حسینی مشہد کو حقیقتاً رأس حسین رضی اللہ عنہ پر تعمیر کیا گیا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 317) متاخرین میں سے ایک شخص حسین محمد یوسف نے ثابت کیا ہے کہ مشہد حسینی میں مدفون سر واقعی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر ہے اور اس کے علاوہ جتنے بھی اقوال ہیں وہ سب غلط ہیں، اس کے لیے اس نے بعض صوفیہ کے خوابوں سے استدلال کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ رأس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاہرہ میں موجود ہونے کی وجہ شک کا یقین کے ساتھ متعارض ہونا ہے اور یقین ’’اصحاب کشف‘‘ ہیں۔ (الحسین سیّد شباب اہل الجنۃ: صفحہ 149-153) 

مگر یہ استدلال تو عقل، منطق اور علمی دلیل پر مبنی نہیں ہے، چہ جائیکہ یہ استدلال اسلامی منہج کے قواعد پر مبنی ہو۔ قاہرہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود پر استدلال اس کی اسی دلیل پر مبنی ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر عسقلان میں مدفون تھا۔ جبکہ ہم کچھ دیر قبل اس کا بطلان ثابت کر چکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قاہرہ میں لایا گیا سر اور اس پر تعمیر کردہ مشہور مشہد حسینی یہ سب کچھ کذب ہے اور اس کا رأس حسینؓ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ عسقلان میں مدفون سر اصلاً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر نہیں تھا، تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس نے دعویٰ کیا کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر عسقلان میں مدفون تھا اور یہ سر کس کا تھا؟

نویری رقم طراز ہے: ’’عسقلان میں مقیم ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر فلاں جگہ مدفون ہے، تو اس نے وہ جگہ اکھیڑ دی۔ یہ مصر کے حکمران مستنصر باللہ عبیدی کے دَورِ حکومت اور بدر جمالی کی وزارت کے ایام کا واقعہ ہے۔ بدر جمالی نے اس پر عسقلان میں مشہد (زیارت گاہ) تعمیر کروا دیا۔‘‘ (نہایۃ الادب: جلد، 20 صفحہ 427) اس کے بعد افضل نے اسے نکال کر اسے خوشبو میں بسایا اور عسقلان میں ہی ایک دوسری جگہ دفنا کر اس پر ایک بڑا مشہد تعمیر کر دیا۔ (اتعاظ الحنفاء، مقریزی: جلد، 3 صفحہ 22)ہو سکتا ہے کہ آپ محض ایک شخص کے خواب کی بنیاد پر عبیدیین کی طرف سے اس سر پر مشہد تعمیر کرنے کے لیے ان کی جلد بازی پر حیران ہوں۔ لیکن اگر آپ عبیدیین کی تاریخ سے واقف ہوں، تو معاملہ اس حدیث تک قابل تعجب نہیں رہے گا۔ چونکہ انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی نسبت کی تصدیق نہیں کرتے، لہٰذا انہوں نے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے عسقلان میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی موجودگی کا پروپیگنڈا کیا اور اسے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے اس پر مشہد تعمیر کر دیا اور اس کی تحسین و تجمیل کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں، تاکہ لوگ ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیں کہ اگر انہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبی تعلق نہ ہوتا، تو وہ اس حد تک اس کا اہتمام نہ کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک سیاسی مقصد بھی تھا، اور وہ تھا بلاد شام میں قائم ہونے والی چھوٹی چھوٹی سنی ریاستوں کے مقابلہ کی کوشش کرنا اور یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ مستنصر باللہ عبیدی کی حکومت کا سنی دولت سلاجقہ کے ساتھ پالا پڑا، جس کا قائد طغرل بک سلجوقی 447 ہجری میں بغداد میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ (النجوم الزاہرۃ: جلد، 5 صفحہ 57)

عسقلان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو نئے سرے سے وجود دینا اور پھر اسے مصر منتقل کرنا صرف عبیدی منصوبہ تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستنصر فاطمی سے قبل کسی بھی کتاب میں یہ بات وارد نہیں ہوئی تھی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عسقلان میں موجود و مدفون ہے، اس سے عبیدیین کی کذب بیانی اور اس بارے میں ان کے مخصوص اغراض و مقاصد کا پتا چلتا ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 319)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ جس سر کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر ہے تو اس کی اس کے علاوہ اور کوئی اصلیت نہیں ہے کہ وہ ایک راہب کا سر تھا۔ (رأس الحسین: صفحہ 187 نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) 

ابن دحیہ نے اپنی کتاب ’’العلم المشہور‘‘ میں عسقلان یا مصر میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود کے کذب پر اجماع نقل کیا ہے، جس طرح کہ انہوں نے قاہرہ میں موجود مشہد حسینی کے کذب و افتراء پر اجماع نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ عبیدیین کی اختراع ہے اور انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس مشہد کو تعمیر کیا، آخر اللہ نے اس حکومت کا خاتمہ فرمایا اور یوں ان کے مذموم مقاصد کو ناکامی سے دوچار کر دیا۔ (رأس الحسین: صفحہ 186 نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی مصر میں موجودگی کا ان علماء و محققین نے انکار کیا ہے:

ابن دقیق العید، ابو محمد بن خلف دمیاطی، ابو محمد بن قسطلانی اور ابو عبداللہ قرطبی وغیرہم۔

ابن کثیر رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: مصر کے حکمران فاطمی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مصر پہنچا، تو انہوں نے اسے وہاں دفن کیا اور اس پر مصر میں موجود مشہد تعمیر کیا، جسے تاج الحسین کہا جاتا ہے۔ متعدد ائمہ اہل علم نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اس دعویٰ کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس میں وہ جھوٹے اور خائن ہیں۔ اس کی تنصیص قاضی باقلانی اور ان کی دولت کے کئی جید علماء نے کی ہے۔ میں کہتا ہوں: اکثر لوگوں نے ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کر لیا کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو عسقلان سے لا کر مسجد مذکور میں دفن کیا۔ (رأس الحسین: صفحہ 186-187)

(6) مدینہ طیبہ

جن شہروں کا اوپر ذکر ہوا ان میں حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کا وجود ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔ اب ہمارے سامنے صرف مدینہ منورہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ ابن سعدؓ نے ذکر کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسینؓ کا سر مبارک والی مدینہ عمرو بن سعید کے پاس مدینہ منورہ بھجوا دیا۔ اس نے اسے کفن دیا اور اسے ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بقیع میں دفنا دیا۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 582)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے بقیع میں دفنانے کی شہادت قوم کی عادت سے بھی ملتی ہے۔ وہ لوگ فتنہ کے دَور سے گزر رہے تھے۔ جب ان میں سے کوئی آدمی قتل ہو جاتا، تو وہ اس کا سر اور جسم اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیتے تھے، جیسا کہ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا، اس نے انہیں قتل کرنے اور مصلوب کرنے کے بعد ان کی لاش کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا تھا اور یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ حجاج کا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کے لیے کوشاں ہونا اور ان کے درمیان جس قسم کی جنگ تھی، وہ صورت حال اس سے کہیں سنگین تھی جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے مخالفین کے درمیان تھی۔ (الطبقات: جلد، 5 صفحہ 238 تاریخ الاسلام: صفحہ 20 حوادث: (60-81 ہجریۃ))

اس رائے کی تائید حافظ ابو یعلی ہمدانی کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا گیا اور یہ اس بارے میں صحیح ترین قول ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) زبیر بن بکارؒ اور محمد بن حسن مخزومیؒ جیسے علمائے نسب کا بھی یہی مذہب ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295) ابن ابو المعالی اسعد بن عمار نے اپنی کتاب ’’الفاصل بین الصدق و اعین فی مقر رأس الحسین‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ ابن ابی الدنیا، ابو الموید خوارزمی اور ابوالفرج ابن الجوزی جیسے ثقہ علماء کی ایک جماعت نے اس بات کو تاکیدکے ساتھ ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک مدینہ منورہ میں بقیع میں مدفون ہے۔ (ایضاً) اس بارے میں قرطبی نے بھی ان کی متابعت کی ہے۔ (الرد علی المتعصب العنید نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 323) زرقانی فرماتے ہیں: ابن دحیہ فرماتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی قول صحیح نہیں ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295 مواقف المعارضۃ: صفحہ 324)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس طرف میلان ہے کہ سر حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو یزید نے مدینہ میں اپنے والی عمرو بن سعید کے پاس مدینہ بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ اسے ان کی ماں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں دفنایا جائے۔ وہ اپنے اس قول کی وجہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: رأس حسین رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ منتقل کرنے کا ذکر کرنے والے قابل اعتماد علماء اور ثقہ مورخین ہیں، مثلاً زبیر بن بکارؒ مؤلف ’’کتاب الانساب‘‘ اور محمد بن سعد، واقدی کے کاتب اور مؤلف ’’طبقات‘‘ اور ان جیسے دوسرے لوگ جو علم ثاقت اور اطلاع کے ساتھ معروف ہیں اور وہ اس موضوع کے بارے میں زیادہ علم رکھتے اور زیادہ سچے ہیں ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی صادق تو ہو مگر اسے اسانید کا تجربہ نہ ہو، اس طرح وہ مقبول اور مردود میں فرق کرنے سے قاصر ہوتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا حافظہ خراب ہوتا ہے یا وہ روایت میں کذب بیانی اور جعل سازی کے ساتھ متہم ہوتا ہے، جیسا کہ اکثر اخباریین اور مؤرخین کا حال ہے۔ (رأس الحسین: صفحہ 180)

ابو عمر عبداللہ بن محمد الہادیؒ فرماتے ہیں: اسی طرح انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کی جگہ کے بارے میں بھی اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے ہر کسی کا یہ مقصد ہے کہ وہ اسے اپنے پاس موجود ثابت کر سکے تاکہ زیارات کی کثرت ہو، قبر پر زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا ہو تاکہ اس کے مجاوروں، متولیوں اور گدی نشینوں کو بکثرت مال میسر آئے۔ اس اختلاف کی وجہ سے انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تین سر بنا ڈالے۔ حالانکہ ان کا سر تو ایک ہی تھا۔ (شرح الصدور بـبـیان بدع الجنائز والقبور: صفحہ 127) تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا جسم تو کربلا میں جبکہ ان کا سر مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں مدفون ہے۔ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ۔