شہادتِ خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قسط اول
مولانا اقبال رنگونیشہادتِ خلیفہ سوم سیدنا عثمانؓ
قسط اول:
رسولﷺ نے متعدد بار اس بات کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد اس امت میں اختلاف پیدا ہوگا اور یہ اختلاف قتل و قتال تک بھی پہنچ جائے گا رسولﷺ نے اپنی امت میں آنے والے فتنوں کی خبر دی اور فرمایا جب وہ فتنے رونما ہوں تو ان میں داخل اور شمار ہونے سے اجتناب کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ فتنے تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں زرارہ بن عمرو نخعی نے ایک مرتبہ ایک خواب دیکھا کہ زمین سے ایک آگ نکلی جو ان کے اور ان کے بیٹے کے درمیان حائل ہوگئی انہوں نے اپنا یہ خواب رسولﷺ کو سنایا تو آپﷺ نے اس پر فرمایا
اما النار فھی فتنۃ تکون بعدی قال ومال الفتنۃ یا رسولﷺ قال یقتل الناس امامھم ویشتجرون اشتجار اطباق الراس وخالف بین اصابعه دم المؤمن عند المؤمن احلی من الماء یحسب المسیئ انه محسن ان مت ادرکت ابنک و ان مات ابنک ادرکت قال فادع اللّٰہ ان لا تدرکنی فدعاله
ترجمہ: جو آگ تم نے دیکھی ہے اس کی تعبیر ایک فتنہ ہے پوچھا گیا کہ وہ کیسا فتنہ ہوگا تو ارشاد فرمایا کہ لوگ اپنے امام کو قتل کر دیں گے اور اس طرح لڑائیوں اور فتنوں میں داخل ہو جائیں گے جیسے سر کی ہڈیاں ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہیں اور آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا مومن کا خون مومن کے نزدیک پانی سے زیادہ خوشگوار ہوگا بدکام کرنے والا یہ خیال کرے گا کہ میں اچھا کام کر رہا ہوں اگر تو مر گیا تو وہ فتنہ تیرے بیٹے کو پکڑے گا اور اگر تیرا بیٹا مر گیا تو وہ فتنہ تجھے پکڑے گا زرارہ نے کہا اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے اس فتنے سے بچائے رکھے رسولﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
(استیعاب ماخوذ: ازالہ جلد 1 صفحہ397)
عبداللہ بن حوالۃ اسدی کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا۔ "من نجا من ثلاثہ فقد نجا قالوا ماذا یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال موتی وقتل خلیفۃ مصطبر بالحق یعطیہ ومن الدجال"
ترجمہ: جو شخص تین باتوں سے محفوظ رہا وہ بس بچ گیا۔
1) میری موت (کے معاملہ میں پھسل نہ جانا)۔
2) ایک خلیفہ کے قتل پر (اپنے ہاتھ اور منہ کو بند رکھنا) جو حق کے ساتھ اس مصیبت پر صبر کرنے والا ہوگا۔
3) اور دجال (کے فتنے سے بچے رہنا اس کے قریب نہ جانا)۔
( مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 108، تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 181)
30 ہجری کے قریب سیدنا عثمانؓ مدینہ کے ایک کنواں بئر اریس کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے وہ مہر نبوت گر گئی جس سے رسولﷺ اپنے مکتوبات پر مہر لگایا کرتے تھے اور آپﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی اسی سے مہر لگاتے تھے سیدنا عثمانؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ بھی اس سے مہر لگاتے تھے اس پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔
(صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 196)
سیدنا عثمانؓ کو اس کا شدید دکھ ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کا سارا پانی نکال دیا مگر وہ مہر آپؓ کو نہ ملی اس مہر کے گم ہو جانے کے بعد سیدنا عثمانؓ اور آپ کی خلافت آزمائش میں آ گئی اور یہ اشارہ تھا کہ اب فتنے بڑی تیزی سے ابھریں گے۔
رسولﷺ کی دی ہوئی فتنوں کی پیشگوئی حضرت عثمانؓ کے دور خلافت کے آخری چند سالوں میں کھل کر سامنے آئی فتنے اور اختلافات نے زور پکڑا آپ نے اس فتنے میں جس امام کے شہید ہونے کی پیش گوئی فرمائی وہ امام سیدنا عثمانؓ ہوئے آپؓ خود بھی فرماتے ہیں وہ امام مظلوم میں ہوں آپؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا کہ رسولﷺ نے فرمایا: سیقتل امیر وینتزی منتز وانی انا المقتول ولیس عمر انما قتل عمر واحد وانہ یجتمع علی
ایک امیر قتل کیا جائے گا اور کوئی حملہ کرنے والا حملہ کرے گا (آپ نے جس کے بارے میں یہ بات فرمائی) وہ امیر مقتول میں ہی ہوں حضرت عمرؓ نہیں ہیں حضرت عمرؓ کو ایک شخص نے قتل کیا تھا جبکہ مجھے قتل کرنے والا ایک پورا گروہ ہوگا
(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 182)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں
رسولﷺ نے ان حدیثوں میں جو حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں بیان فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ شہید ہوں گے اور ان کی شہادت کے قریب ایک عظیم فتنہ برپا ہوگا جو لوگوں کی وضع اور رسموں کو بدل دے گا اور اس کی آفت عالمگیر ہوگی جو زمانہ کہ اس فتنہ سے پہلے کا ہے اس کو آپ نے طرح طرح کی خوبیوں کے ساتھ موصوف کیا اور جو زمانہ اس کے بعد کا ہے اس کو انواع و اقسام کی برائیوں سے یاد کیا ہے اور اس فتنے کے بیان میں آپ نے انتہاء درجے کی توضیح کی یہاں تک کہ اس بیان کا اس فتنہ پر منطبق ہونا جو واقع ہوا کسی شخص پر پوشیدہ نہ رہا اور حضرت نے اس نہایت واضح عبارت میں یہ بیان فرمایا کہ اس فتنہ سے خلافتِ خاصہ کا انتظام ٹوٹ جائے گا اور زمانہ نبوت کی جو برکتیں باقی ہوں گی وہ چھپ جائیں گی اس بات کو ابھی آپ نے ایسا کھول کر بیان فرمایا کہ اصل حقیقت کے اوپر سے پردہ اٹھ گیا اور حجت الہٰی اس کے ثبوت سے قائم ہوگئی۔
(ازالۃ الخفا: جلد 1 صفحہ 379)
اس فتنے کے ظہور میں آنے کے جو اسباب تھے وہ یکے بعد دیگرے ابھرتے گئے ایک طرف اسلامی مملکت کا دائرہ بڑھتا جا رہا تھا تو دوسری طرف مسلمان فقر و فاقہ کی زندگی سے نکل کر خوشحالی اور دولتمندی میں داخل ہو رہے تھے دنیاوی آسائش و آرائش ان کے قریب ہوتی جارہی تھی اجلہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یکے بعد دیگرے اپنے خیمے جنت میں لگا رہے تھے اور نئی نسل اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھی کہ ان کے اسلاف نے کن قربانیوں اور جدوجہد سے اسلام کی خدمت کی تھی اور سوکھے پتے کھا کر اللہ کے دین کا پرچم تھامے رکھا تھا ظاہر ہے جب دولت کی ریل پیل ہو جائے مال غنیمت اور فتوحات کے دروازے یکے بعد دیگرے وا ہونے لگیں وہ تقویٰ بھی باقی نہ رہے جو ان سے پہلوں کا تھا تو پھر اس کے اثرات بھی ظاہر ہو کر رہتے ہیں سیدنا عثمانؓ اس سے بےخبر نہ تھے آپ جانتے تھے کہ لوگ ان فتوحات کے نتیجے میں گم ہو جائیں گے اور اپنی منزل کھو دیں گے تو آپ انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تھے ایک موقع پر آپﷺ نے اس طرح نصیحت فرمائی تھی اے لوگو! اللہ نے تمہیں دنیا اس لیے دی ہے کہ تم اس کے ذریعے آخرت کماؤ اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کہ ہوکر رہ جاؤ یہ دنیا فنا ہو جائے گی جبکہ آخرت باقی رہنے والی ہے دنیاوی خواہشات اور آسائشوں میں پڑ کر اپنی آخرت سے غافل نہ ہو جانا۔
سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں یہود و نصاریٰ اور دوسری قومیں جس طرح شکست سے دو چار ہوئیں ان کا اقتدار مسلمانوں کو ملا وہ اس پر سخت غصے میں تھے اور ان کا دل انتقام کے لیے بے چین تھا سیدنا عمرؓ کے بعد بعض علاقوں میں بغاوتیں پھیلائی گئیں مگر سیدنا عثمانؓ نے حسن تدبیر سے ان بغاوتوں کو ختم کیا اور انہیں اپنی سازش میں کامیاب نہ ہونے دیا بظاہر یہ فتنہ گو دبا نظر آرہا تھا مگر اندر ہی اندر یہ بڑی تیزی سے اپنے منصوبہ پر کام کر رہا تھا اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ اور اس کے گورنروں کے خلاف ایسا خطرناک پراپیگنڈہ کیا جائے جس کے نتیجے میں لوگ ان کی جانب مائل ہو جائیں اور انہیں ان کی ہمدردی مل جائے نیز سیدنا عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے معتقدین کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے اور حضرت علیؓ کی محبت کا نعرہ لگا کر خلیفہ وقت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور انہیں آپس میں اتنا الجھا دیا جائے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی قوت اور فتوحات کے قدم کچھ عرصہ کے لیے رک جائیں اس تحریک میں گو اسلام کے نام لیواؤں کی ایک بڑی تعداد کے شامل ہونے کا انکار نہیں مگر درحقیقت ان کے پیچھے یہود و نصاریٰ اور منافقین تھے
محمد بن جریر طبری(310ھ) نے لکھا:
ابن سباء نے یہ بات پھیلائی کہ گزشتہ زمانے میں بہت سے انبیاء گزرے اور ہر نبی کا ایک وصی (جانشینی کی جس کے بارے وصیت کی گئی ہو) ہوتا ہے اور رسولﷺ کے وصی علی بن ابی طالب ہیں اور رسولﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور علی خاتم الاوصیاء ہیں اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے رسولﷺ کی وصیت پر عمل نہ کیا اور رسول اللہ کے وصی کے حق کو غصب کر کے امت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا پھر اس نے کہا کہ عثمانؓ نے خلافت پر ناحق قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یہاں رسول اللہ کا وصی خود موجود ہے اس لیے تم اس کی مخالفت کرو اور اسے معزول کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور اس کام کا آغاز اپنے اپنے علاقوں کے حکام پر طعن و تشنیع سے کرو اور یہ ظاہر کرو کہ تم نیک کام کا حکم دیتے ہو اور برے کام سے روکتے ہو پھر اس طرح تم عوام کو اپنی طرف مائل کر سکو گے جب وہ تمہاری طرف مائل ہو جائیں تو پھر انہیں اس کام کے لیے بلاؤ۔
ان سبب تالب الاھزاب علی عثمانؓ رجلا یقال له عبداللہ بن سبا کان یھودیا فاظھر الاسلام وصار الی مصر فاوحی الی طائفۃ من الناس کلاما اخترعه من عند نفسه مضمونه انہ یقول للرجل الیس قد ثبت ان عیسی بن مریم سیعود الی ھذہ الدنیا فیقول الرجل نعم فیقول لہ فرسول اللّٰہ افضل منہ فما تنکر ان یعود الی ھذہ الدنیا وھو اشرف من عیسیٰ ابن مریم ثم یقول وقد کان اوصی الی علی بن ابی طالب فمحمد خاتم الانبیاء و علی خاتم الاوصیاء ثم یقول فھو احق بالامرۃ من عثمانؓ و عثمانؓ معتمد فی ولایۃ ما لیس لہ فانکروا علیہ واظھروا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فافتتن بہ بشر کثیر من اھل مصر و کتبوا الی جماعات الی عوام اھل الکوفۃ و البصرۃ فتمالوا علی ذالک وتکاتبوا فیہ وتواعدوا ان یجتمعوا فی الانکار علی عثمانؓ وارسلوا الیہ من یناظرہ ویذکر لہ ما ینقمون علیہ من تولیتہ اقربائہ وذوی رحمہ و عزلہ کبائر الصحابۃ فدخل ھذا فی قلوب کثیر من الناس
ترجمہ: حضرت عثمانؓ کی دشمنی پر لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا طریقہ کار یہ بنا کہ ایک شخص جسے عبداللہ بن سباء کہا جاتا ہے اور وہ یہودی تھا اس نے کہا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے اور پھر مدینہ سے مصر چلا گیا اس نے کچھ لوگوں سے کچھ خفیہ باتیں کیں جسے اس نے خود وضع کیا تھا اور وہ کہنے لگا کہ کیا یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عنقریب اس دنیا کی طرف دوبارہ لوٹیں گے وہ آدمی کہے گا ہاں تو وہ اسے کہے گا کہ رسولﷺ تو ان سے افضل ہیں تو تم ان کے دوبارہ آنے کا کیوں انکار کرتے ہو پھر وہ کہنے لگا کہ محمدﷺ تو خاتم الانبیاء ہیں اور علی بن ابی طالب خاتم الاوصیاء ہیں پھر وہ کہنے لگا کہ حضورﷺ نے علیؓ کو اپنا وصی بنایا ہے اور وہ عثمانؓ کی بہ نسبت اس خلافت کے زیادہ حق دار ہیں عثمانؓ تو خلافت میں زیادتی کرنے والے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے پس ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ پر عیب لگائے اور بظاہر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اظہار کیا اس سے بہت سے اہل مصر ان کے اٹھائے فتنے میں پڑ گئے اور انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کو اور جماعتوں کی طرف خطوط لکھے تو وہ ان کی مدد کے لیے تیار ہوگئے اور آپس میں خط و کتابت کی اور وعدے معاہدے ہوئے کہ وہ عثمان غنیؓ پر عیب لگائیں گے اور پھر انہوں نے اپنے آدمیوں کو حضرت عثمانؓ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس بارے میں بات چیت کریں اور بتائیں کہ وہ آپ سے اس لیے ناراض ہیں کہ انہوں نے اپنے قرابت داروں کو کیوں عہدے دیے اور صحابہ کو کیوں معزول کیا ان کے پروپیگنڈے سے بہت سے لوگ متاثر ہوگئے۔
یہ بات صرف اہل سنت مؤرخین نہیں کہتے بلکہ شیعہ مؤرخین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بات اسی عبداللہ بن سباء نے اٹھائی تھی
عبداللہ ابن سباء مرد یہود بود در زمان عثمانؓ بن عفان مسلمانی گرفت چوں مسلمان شد خلافتِ عثمانؓی در خاطر او پسند نے فتاد پس در مجالس و محافل اصحاب بہ نشستے وقبائح اعمال و مثالب عثمانؓ را ہرچے تواناتے باز گفتے۔ عبداللہ بمصر آمد۔ گفت ہاں اے مردم گر نشیندہ اید نصاریٰ گویند۔ چوں ایں سخن در خاطر پاجائے گیر ساخت گفت خداوند صد و بیست و چہار ہزار پیغمبر بدیں زمین فرد فرستاد ہر پیغمبرے را وزیرے و خلیفتے بود چگونہ می شود پیغمبرے از جہاں برود خاصہ وقتیکہ صاحب شریعت باشد ونائبے و خلیفتے بخلق نگمار دوکار امت کا مہمل بگزار ہمانا محمد را علی علیہ السلام وصی و خلیفہ بود۔ علی علیہ السلام خلیفہ محمد است وہ عثمانؓ ایں منصب را غصب کردہ و باخود بستہ عمر نیز بنا حق ایں کار بشوری افگند عبد الرحمن بن عوف بہوائے نفس دست بر دست عثمانؓ زود دست علی را کہ گرفتہ بود او بیعت کند رہا داد ہنوز آں نیر نیست کہ بتوانیم عثمانؓ را دفع داد واجب میکند کہ چندانکہ بتوانیم عمال عثمانؓ را کہ آتش جور و ستم را وامن ہمی زنند ضعیف داریم و قبائح اعمال ایشاں رابر عالمیاں روشن سازیم و دلہائے مردم را از عثمانؓ و عمال او بگر دانیم۔ و او را از خلیفتے خلع فرمانید
ترجمہ: عبداللہ بن سباء ایک یہودی شخص تھا عثمانؓ کے دور میں (منافقانہ طور پر) مسلمان ہوا اسے حضرت عثمانؓ کی خلافت اچھی نہیں لگتی تھی اپنے دوست یار کی مجلسوں اور محفلوں میں حضرت عثمانؓ کی ہر ممکنہ برائیاں کرتا تھا پھر وہ مصر آیا اور یہاں کے لوگوں کے یہ کہہ کر کان بھرے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آسکتے ہیں تو ان سے زیادہ افضل محمدﷺ کیوں نہیں آ سکتے پھر اس نے کہا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اور ہر پیغمبر کا کوئی وزیر اور جانشین ہوا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ دنیا سے اس طرح جائیں کہ ان کا وزیر و خلیفہ تک نہ ہو اور وہ اپنی امت کو یوں بےکار ہی چھوڑ کر چلا جائے حضرت علی بن ابی طالب اس پیغمبر کے وصی اور خلیفہ تھے عثمانؓ نے اس منصب خلافت پر بزور قوت قبضہ کر رکھا تھا عمر فاروقؓ نے بھی ناحق طور پر اس معاملہ کو مجلس شوریٰ کے سپرد کر دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے خواہش نفسانی کے تحت عثمانؓ کی بیعت کر لی اور علیؓ کو بھی زبردستی بیعت کرا کر ہی چھوڑا۔ اب شریعت ہم پر لازم کرتی ہے کہ ہم س باب میں کسی کی رعایت نہ کریں۔ اگرچہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ ہم عثمانؓ کو بزور قوت خلافت سے اتار دیں لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ عثمانؓ کے گورنروں کو ظلم و ستم کے نام پر بدنام کرکے ان کو کمزور کردیں اور ان کی برائیوں کا پروپیگنڈا کریں اور عوام کے دلوں کو عثمانؓ اور اس کے کارندوں سے برگشتہ کر دیں سو انہوں نے کئی مقامات پر خطوط لکھے اور ابن سعد بن ابی سرح کے خلاف پروپیگنڈہ کیا لوگوں کو ان کے خلاف منظم کیا تاکہ وہ ایک گروہ ہوکر مدینہ آئیں اور سیدنا عثمانؓ کو خلافت سے نکالیں۔
جو شیعہ اور ادیب قسم کے لوگ عبداللہ بن سباء کو ایک فرضی اور خیالی شخص قرار دے رہے ہیں! انہیں لازم ہے کہ وہ مستند شیعہ علماء کی کتابیں ملاحظہ کر لیں۔
