سیدنا فاروق اعظمؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے پر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے
سیدنا فاروق اعظمؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے پر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص 10 محرم کو شیعوں کی امام بارگاہ میں گیا وہاں جا کر اس نے شیعوں جیسی حرکات کرتے ہوئے سیدنا فاروق اعظمؓ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے، اس نے دجال کے الفاظ بار بار استعمال کیے۔(العیاذ باللّٰہ) اس گستاخی کے بعد آیا وہ بدستور مسلمان رہا یا دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا؟ اور وہ اگر مسلمان ہی رہا تو اس پر اسکی اس گستاخی کا جرمانہ یا سزا ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا ہے؟
جواب: بشرطِ صحت سوال مذکور میں اگر اس شخص نے (العیاذ باللّٰہ) سیّدنا فاروق اعظمؓ کے متعلق دجال کا لفظ استعمال کیا ہے تو یہ کلمہ کفر ہے۔ لہٰذا یہ شخص مذکورہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔
الرافضى ان كان يسبّ الشيخينؓ و يلعنهما فهو كافرو ان كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع۔
(بزازيه على ہامش الهندیۃ:جلد:6:صفحہ:319)
إس شخص کیلئے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے۔
(ارشاد المفتین:جلد:1:صفحہ:336)