امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد
جعفر صادقپہلے شیعہ تحریر اور اعتراض
امر خلافت کے متعلق ذرا اس تحریر کو پڑھیے۔
عقد خلافت بندوں کے ہاتھ میں ہے
یا
عقد خلافت امر الٰہی سے متحقق ہوتا ہے۔
یہ دو نظریات ہیں،
اولذکر کے پاس کوئی دلیل ہو یا نہ ہو، امر واقعہ یہ ہے کہ اکثریت کی طرف سے پہلے نظریے کو ہی ترجیح دی گئی ہے، دور حاضر میں اتفاق سے کفار و مشرکین بھی اسی نظریہ پر ہیں،
اب عقل کا کہنا یہ ہے کہ ترجیح بلا مرجح محال است
جب مرجوح کے متعلق سوال اٹھتا ہے تو پہلے نظریہ سے متمسک حضرات تجربے کو پیش کرتے ہیں، جبکہ تجربہ سے استدلال مصادرہ علیٰ المطلوب کہلاتا ہے۔ اسکا فائدہ کوئی نہیں،
کیونکہ کفر سے بھی نظام حکومت چلایا جاسکتا ہے، یعنی اگر کافر اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر حکومت بنا لیں تو وہ بنا سکتے ہیں۔ ایران کی ہی مثال لے لیجیے، جو آپکے نزدیک کافر ملک ہے، اور وہاں سپریم اتھارٹی ایک آیت اللہ صاحب ہیں جو شیعہ مسلک سے ہیں، انڈیا میں مودی جی ہیں اسی طرح باقی دنیا میں یہود و نصاری حاکم ہیں، اور وہ اپنا حق حکومت اسی دلیل پر جتاتے ہیں جس دلیل پر فریق اول اہل سقیفہ کو مصاب قرار دیتا ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس میں اسلام کا امتیاز زائل ہوتا ہے؟ اس نظریہ نے خود اپنی شکست تسلیم کرلی، کفار و مشرکین تعداد میں زیادہ ہیں، فلہذا مادی طور پر انکی رائے کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ اس مقام پر پہلے نظریہ سے متمسک گروہ کا ایک پوائنٹ کم ہوجاتا ہے۔ اسلام میں اسکی گنجائش نہیں ہے، اسلام نے تمام ملتوں اور اقوام کا حق حکومت مسترد کرتے ہوئے لا الہ الا للہ کا نعرہ متعارف کروایا ہے۔ دنیا پر حکومت کا حق، عنداللہ اسلام کے لیے ہے۔ اور جو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا وہ غاصب حقوق المسلمین ہے۔
،،
اب دوسرے فریق کی سنیے، انکا کہنا ہے کہ عقد خلافت منصوص من اللہ ج ہے، اور اس پر قران کی کئی محکم آیات موجود ہیں، مثلاً
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
سورۃ نور کی اس آیت مبارکہ میں اللہ جل شانہ مومنین سے خلافت ارضیٰ کا وعدہ فرما رہا ہے، اور ساتھ میں یہ بھی فرما رہا ہے کہ موعودہ خلافت کس طرح سے منعقد ہوگی آیت کے الفاظ ملاحظہ کیجیے،
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
ایک دفعہ پھر پڑھیے
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
، جس طرح تم سے پہلے والوں کو خلیفہ بنایا تھا،
(کمنٹ ذرا لمبا ہورہا ہے برحال آپ پڑھیے اور فریق مخالف کی سنیے تاکہ اچھے سے جواب دے سکیں)
اب اس امت سے پہلے والوں کو خلافت ارضی کیسے عطاء ہوئی تھی؟ اسکا طریقہ انعقاد کیا تھا؟؟ ان سوالوں کے جوابات اگر آپ اپنی گراؤنڈ پر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، البتہ فریق مخالف نے انکے جوابات بھی قران ہی سے دیے ہیں، مثلاً
1۔ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
2۔ يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ
3۔ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ
ان آیات سے بخوبی متشرح ہوجاتا ہے کہ عقد خلافت الٰہی امر ہے، اور مومنین کے لیے جس موعودہ خلافت کا ذکر قران میں کیا جارہا ہے وہ انہی سابقہ خلافتوں کی طرح سے منصوص من اللہ ہے۔ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ صرف اسی صورت میں صادق آتا ہے
بصورت دیگراں لازم ہے کہ آپ قران یا حدیث سے سقیفہ کے طرز کی مثال پیش کریں؟؟؟؟
اگر آپ ایسا پیش کرنے سے قاصر ہیں تو آپکا مخالف دوسرے نظریے کو ہی مصاب سمجھتا ہے، کیونکہ حق حکومت کا ثابت ہوجانا ہی کافی ہے، ضروری نہیں کہ حکومت مل بھی جائے، کیونکہ جتنی دیر حکومت مومنین کے غیر کے پاس رہے گی مومنین مظلوم اور دوسرا فریق ظالم و غاصب ہوگا۔ مظلوم ہونا عیب نہیں اور نہ ہی مظلوم ہونا سلب حق کی دلیل ہے۔
آج کفار و مشرکین اگر اکثریت کی بنیاد پر وسائل پر غالب ہیں تو صرف اسی معنیٰ میں ظالم و غاصب ہیں جو ہم نے بیان کیا۔
ایک آخری بات،
عقد خلافت تو ایک بڑا امر ہے اللہ ج کی سنت میں تو ایک بادشاہ مقرر کرنے کی گنجائش بھی بندوں کو نہیں دی گئی۔
اور یہ بات سابقہ امتوں میں معروف تھی، اسی لیے بنی اسرایئل اپنے نبیؑ کے پاس درخواست لیکر آئے تھے کہ ہم پر کسی کو "ملک" مقرر کردیں تاکہ ہم اسکی معیت میں جہاد کرسکیں،
نبیؑ نے انہیں بتایا کہ تم پر طالوت علیہ سلام کو مقرر کیا گیا ہے، جس کو انہوں نے مسترد کیا اور کہا کہ ہم میں سے کسی کو مقرر کیا جائے، چنانچہ ان کے اس اجماع اور رائے اور مشورہ کو بلکل بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم نے طالوت ع کو تم پر علم و جسم میں فوقیت دی ہے۔ اسی لیے حق حکومت اسی کا ہے۔اس واقعہ سے اجماع و شوری اور رائے سے قائم کردہ نظریہ کی حیثیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
شکریہ،
اسکا جواب ضرور دیجیے گا۔ سلام من اتبع الھدی
الجواب:
امر خلافت کے متعلق اس تحریر میں دو نظریے اور چند آیات بیان کر کے شیعہ نظریہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
1: عقد خلافت بندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ (اہلسنت نظریہ)
2: عقد خلافت امر الہی سے متحقق ہوتا ہے۔ (اہل تشیع نظریہ)
معترض نے تسلیم کیا ہے کہ پہلا نظریہ امت مسلمہ کی اکثریت نے قبول کیا یعنی اس پر اجماع ہے۔
ساتھ ہی یہ کہہ کر اجماع کا انکار کیا ہے کہ کفار بھی اکثریت کے مطابق حکومت کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک کفار کا ہر عمل غلط ہی ہوگا چاہے وہ اچھے کام ہی کیوں نہ ہوں۔
پہلے ہم شیعہ کے ان دلائل کا رد پیش کرتے ہیں جنہیں نظریہ 2 کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔
آیت استخلاف پیش کرکے اس جملے پر زور دیا گیا ہے
“ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ”
جس طرح تم سے پہلے والوں کو خلیفہ بنایا تھا،
اس کے بعد شیعہ نے تین آیات پیش کی ہیں تاکہ ثابت ہوسکے کہ گذشتہ خلفاء اللہ عزوجل نے مقرر فرمائے اس لئے خلافت منصوص من اللہ مرتبہ ہے۔
إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ
قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ
شیعہ استدلال
ان آیات سے بخوبی متشرح ہوجاتا ہے کہ عقد خلافت الٰہی امر ہے، اور مومنین کے لیے جس موعودہ خلافت کا ذکر قران میں کیا جارہا ہے وہ انہی سابقہ خلافتوں کی طرح سے منصوص من اللہ ہے۔ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ صرف اسی صورت میں صادق آتا ہے
بصورت دیگراں لازم ہے کہ آپ قران یا حدیث سے سقیفہ کے طرز کی مثال پیش کریں؟؟؟؟
الجواب: پہلی آیت میں زمین میں انسان کو خلیفہ بنانے کا ذکر ہے، اس سے مراد حکمران ہونا ہرگز نہیں ہے۔
الم سورہ البقرة : آیت 30
وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿30﴾
ترجمہ :
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
استدلال: اگر شیعہ اس آیت سے خلافت منصوص من اللہ ثابت کرتے ہیں تو جواب دیں کہ فرشتوں نے اسی خلیفہ کے متعلق یہ کیوں کہا کہ وہ زمین میں فساد پیدا کریں گے؟ کیا شیعہ کے نزدیک خلیفہ جو منصوص من اللہ ہے وہ زمین میں فساد کا ذمیدار ہوگا؟
صاف ظاہر ہے کہ آیت میں خلیفہ عمومی طور پر تمام بنی نوع انسانی یعنی اشرف المخلوقات کے خلیفہ بنانے کا ذکر ہے، اس سے مراد حکمران ہونا یا خلیفہ منصوص من اللہ ہونا ہرگز نہیں ہے۔
2: ومالی : سورۃ ص : آیت 26
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴿26﴾
ترجمہ: اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔
3: قال الملاء سورہ الاعراف : آیت 142
وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿142﴾
ترجمہ :
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔
استدلال:
ان آیات میں نبیوں کو زمین کا حکمران بنانے کا ذکر ہے۔ بیشک حکمران بھی اللہ عزوجل ہی بناتا ہے لیکن نبوت اور خلافت الگ عہدے ہیں۔ ہر نبی حکمران ہو یہ ضروری نہیں ، خلافت کا منصب اگر واقعی منصوص من اللہ ہوتا تو سوا لاکھ نبی خلیفہ بمعنی حکمران بھی ہوتے، لیکن انہیں خلیفتہ اللہ تو کہا جاتا ہے لیکن ان میں سے کچھ حکمران بادشاہ ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت بمعنی حکمرانی اللہ کی الگ نعمت ہے۔ بیشک نبیوں کی حکمرانی منصوص من اللہ ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ شیعہ نبیوں کی خلافت سے غیر نبی کی خلافت منصوص من اللہ کیسے ثابت کرتے ہیں؟
غیر نبی خلیفتہ اللہ نہیں بلکہ خلیفتہ رسول ہوتے ہیں۔ آیت استخلاف میں خلیفتہ رسول کا وعدہ کیا گیا ہے جو خلفائے راشدین کے دور میں اس طرح پورا ہوا کہ تمام وعدے من وعن پورے ہوئے۔
شیعہ کو چاہئے کہ اس امت سے پہلے نبیوں کے جانشین اگر منصوص من اللہ تھے تو ان کے متعلق دلائل پیش کرے۔ سوا لاکھ انبیائے کرام سے دس پندرہ نہیں صرف ایک ایسا جانشین یا خلیفہ رسول دکھائے جو معصوم بھی تھا اور منصوص من اللہ بھی تھا تاکہ ہم اس دلیل سے امت مسلمہ کے لئے بھی خلیفہ منصوص من اللہ تسلیم کریں۔
ایک آخری بات
عقد خلافت ہو یا بادشاھت یا دنیا کا کوئی بھی کام ہو بلکہ ایک پتہ بھی اگر ہلتا ہے تو مرضی و منشاء الہی ضرور شامل ہوتی ہے، لیکن ہر عمل کا طریقہ کار مختلف ہے۔ انبیائے کرام اللہ کے خاص بندے ہیں جو مرتبہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں لحاظہ عصمت ان کے لئے لازم ہے، تاکہ براہ راست احکامات پہنچانے میں غلطی ، لغزش کا کوئی امکان نہ ہو۔ نائب رسول یا خلیفہ رسول کا فریضہ شریعت نبی پر عمل کرانا ہے، وہ براہ راست شریعت لانے یا اس میں تبدیلی کا اختیار ہی نہیں رکھتا اس لئے اس کے لئے عصمت شرط ہی نہیں اور نہ اس عہدے کو منصوص من اللہ کہہ کر مخصوص شخصیات کو مقرر کردیا جاتا۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں “انتخاب خلیفہ” مشاورت کے بعد ہوا، جن شخصیات نے کیا وہ براہ راست نبی کی تربیت یافتہ جماعت کی اہم شخصیات تھیں۔
دور نبوی سے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کئے جاتے تھے اور اس اہم امتیازی خصوصیت کو قرآن کریم (سورة آل عمران آیت 159)میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ (رض) سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا۔
الیہ یرد سورہ الشورى : آیت 38
وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿38﴾
ترجمہ :
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں ۔
معترض نے پہلے نظریے کو اجماع امت کا تسلیم کر کے بھی اس کا انکار کر کے براہ راست اس آیت کی بھی مخالفت کی ہے۔
والمحصنت سورہ النسآء : آیت 115
وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿115﴾
ترجمہ :
جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
♦️ نوٹ: اگر کوئی شیعہ اہل علم اس تحریر کا رد لکھنا چاہے تو شوق سے کوشش کرے لیکن دلائل کا جواب دلائل سے ہی دیا جائے۔