نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ) - دورِ حاضر کے…

نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ)

  طالب نور

صفحہ 1 از 5

نواب وحید الزماں کی شخصیت، ایک تحقیقی جائزہ

نواب وحید الزماں حیدر آبادی، برصغیر پاک و ہند کے مذہبی و علمی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔موصوف کتب احادیث کے اردو تراجم و دیگر کئی ایک کتب کی تالیف و تصنیف کے حوالے سے کافی مشہور و معروف ہیں۔مگر ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ نواب وحید الزماں کا مسلک برصغیر پاک و ہند کے تمام مذہبی مکاتب فکر کے درمیان کافی متنازعہ ہے۔کوئی انہیں حنفی قرار دیتا ہے تو کوئی غیر مقلد اور کوئی ان کو شیعہ سمجھتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ موصوف کی زندگی میں یہ تینوں ادوار ملتے ہیں کہ پہلے وہ حنفی تھے، پھر انہوں نے حنفیت کو خیرآباد کہہ دیا، ایک غیر مقلد کے طور پر مشہور ہوئے اور پھر غیر مقلدیت کو بھی چھوڑ دیا اور اہل تشیع کے ان عقائد و نظریات کو اختیار کر لیا جن کا براہِ راست ٹکراو کتاب و سنت سے ثابت شدہ عقائد و نظریات سے ہوتا ہے۔

اس حقیقت کے تحت اصولی طور پر تو نواب وحید الزماں کوکسی بھی مسلک کی مستند و معتمد شخصیت کے طور پر پیش کرنا یا ان کی آراء و اقوال کو کسی بھی مسلک کے نظریات و مسائل کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ۔اس کے باوجود اہلِ حدیث کے خلاف مقلدین  دیوبند و بریلوی، نواب وحید الزماں کو ایک معتبر و مستند اہل حدیث عالم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان کے شاذ و خلاف کتاب و سنت اقوال و مسائل کو اہل حدیث کا مسلک بنا کر پیش کرتے ہیں جو کہ اصولی طور سخت نا انصافی اور ظلم ہے کیونکہ ہر دور میں اہلِ حدیث علماء ان کی کتب اور عقائد سے برأت و بیزاری کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں وحیدالزماں حیدرآبادی کا ایک مختصر اور جامع تعارف ایک تحقیقی مضمون کی شکل میں پیشِ خدمت ہے تاکہ متلاشیان حق کے روبرو حق بات بے غبار ہوکر سامنے آ جائے اور مخالفین پر حجت تمام ہو جائے۔

نواب وحید الزماں کا مسلک

نواب وحید الزماں کے سوانح نگار عبدالحلیم چشتی حنفی لکھتے ہیں

مولوی وحید الزماں کا خاندان چونکہ حنفی تھا اس لئے اوائل عمر میں آپ کو حنفی مسلک سے بڑا شغف رہا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ مسیح الزماںؒ کے ایماء سے جس کتاب کا پہلے ترجمہ کیا وہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب شرح الوقایہ تھی۔اس کی اردو میں نہایت مبسوط شرح لکھی جس میں غیر مقلدین کے تمام اعتراضات کا تاز و پود بکھیرا اور مسلکِ احناف کو نہایت محکم دلائل سے ثابت کیا ہے۔‘‘[حیات وحید الزماں: صفحہ 203]​

عبدالحلیم چشتی حنفی ایک اور جگہ لکھتے ہیں

’’شرح الوقایہ کی یہ شرح غیر مقلدین کی اس شورش کی وجہ سے کی تھی ۔ کہ احناف کے تمام مسائل قیاس پر مبنی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہیں، اس کتاب میں اہلحدیث کے انہی اعتراضات کا ایک ایک کر کے تار و پود بکھیرا اور نہایت مدلل جوابات دیے ہیں۔‘‘[حیات وحید الزماں: صفحہ 232]​

اس سے صاف معلوم ہوا کہ نواب وحید الزماں کا تعلق ایک حنفی حاندان سے تھا اور نواب صاحب خود بھی پکے اور متعصب حنفی تھے اور حنفی مسلک پر اہل حدیث کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا کرتے تھے۔
نواب وحید الزماں کے غیر مقلد ہو جانے کے بارے میں عبدالحلیم چشتی لکھتے ہیں:

’’مگر بعد میں آپ کے برادر بزرگ مولوی بدیع الزماں کی صحبت اور حدیث کی کتابوں کے ترجمہ کی وجہ سے غیر مقلد بن گئے تھے۔‘

اس کے بعد محمد حسن لکھنوی کے حوالے سے عبدالحلیم چشتی لکھتے ہیں:

’’اوائل عمر میں آپ مقلد تھے اور مقلد بھی انتہائی متعصب چنانچہ ترجمہ شرح وقایہ دیکھنے سے صاف یہ امر معلوم ہوتا ہے لیکن جوں جوں تحقیق آپ کی بڑھتی گئی تقلید کا مادہ گھٹتا گیا اور اب آپ سچے متبع کتاب و سنت ہیں۔‘‘[حیات وحید الزماں: صفحہ 203]​

ایک متعصب حنفی مقلد ہونے کے بعد جوں جوں تحقیق کی نواب وحید الزماں تقلید سے دستبردار ہوتے گئے۔ مگر نواب صاحب کا یہ دورِ عدم تقلید بھی اہل حدیث کے ساتھ موافقت میں نہیں گزرا بلکہ اہل حدیث کے ساتھ تب بھی اختلاف اور مخاصمت قائم تھی۔ اسی لیے نواب صاحب کے حنفی سوانح نگار کو اس دور کے متعلق بھی لکھنا پڑا کہ "مولوی صاحب کے مزاج میں ایک نوع کا تلون اور انتہاء پسندی بھی تھی جس کی وجہ سے بعض مسائل میں جمہور اہل حدیث سے بھی آپ کا اختلاف رہا۔‘‘
[حیات وحید الزماں: صفحہ 204]​

مزاج کے اسی تلون اور انتہاء پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ نواب وحید الزماں عدم تقلید کے باوجود اہل حدیث سے بھی بیزار ہی رہے بلکہ ان کے خلاف اپنے شدید منفی خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ چنانچہ عبدالحلیم چشتی نے لکھا:

’’اسی مخالفت کا یہ نتیجہ تھا کہ پھر موصوف نے اہل حدیث کی گروہ بندی پر جا بجا نہایت سختی سے نکتہ چینی کی ہے۔‘‘

[حیات وحید الزماں: صفحہ 205]​

عبدالحلیم چشتی دیوبندی نے نواب وحید الزماں کی اہلِ حدیث سے مخالفت اور بیزاری کو خود موصوف کے حوالے سے جا بجا بیان کر رکھا ہے۔اس دوران نواب صاحب اپنے مزاج کے تلون کے عین مطابق اہلِ تشیع کے غلو آمیز اور متصادم اسلام عقائد و نظریات سے متاثر ہوگئے۔علماء اہل حدیث بھی رفتہ رفتہ نواب وحید الزماں سے بد دل ہو گئے اور اہل حدیث میں نواب صاحب کی مخالفت عام ہو گئی اور نواب وحید الزماں اور اہل حدیث کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے پہلے ہی اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہو گئی ۔جس کی تفصیل ان شاء اللہ با دلائل آگے آ رہی ہے۔

وحید الزماں کے سوانح نگار عبدالحلیم چشتی لکھتے ہیں:

’’افسوس! حیدرآباد میں امراء کی صحبت ، دراسات اللبیب فی اسوۃ الحسنۃ بالحبیب مئولفہ ملا معین ٹھٹھوی(المتوفی 1161ھ)اور شیخ طویحی کی مجمع البحرین کے مطالعہ نے اخیر عمر میں اہلِ بیت سے محبت غلو کے درجہ تک پہنچا دی تھی اور تفضیلی قسم کے تسنن کا رنگ غالب آ گیا تھا۔‘‘[حیات وحید الزماں: صفحہ 207]​

نواب وحید الزماں پر اہلِ تشیع کا یہ رنگ اس قدر غالب آیا کہ صحابی رسولﷺ سیدنا امیر معاویہؓ کی تعریف و توصیف کرنا بھی ان کے نزدیک نبیﷺ سے محبت رکھنے والے ایک سچے مسلمان کی شان کے خلاف ٹھہرا۔ دیکھئے حیات وحید الزماں(صحفہ 218) شیعہ کی طرح ہی نواب وحید الزماں محرم کو مستقل غم اور ماتم کا مہینہ سمجھتے۔ دیکھئے حیات وحید الزماں(صفحہ 224)

صفحہ 1 از 5