نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ) - دورِ حاضر کے…

نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ)

  طالب نور

صفحہ 2 از 5

نواب وحید الزماں کے سوانح نگار عبدالحلیم چشتی کو لکھنا پڑا کہ

’’یہ کہنا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے یہ مہینہ غم کا بن گیا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اس ماہ میں غم و اندوہ کا اظہار صرف ایران اور اسی کے اثر سے ہندوستان، عراق اور نجف میں ہوتا ہے دیارِ عرب میں کہیں اس کا رواج نہیں یہ سب تشیع کے اثرات ہیں۔‘‘

[حیات وحید الزماں: صفحہ 224]​

صوفی وحید الزماں نقشبندی​

مسلکی اعتبار سے نواب وحید الزماں کا سفر حنفیت سے شروع ہوکر عدم تقلید اور پھر شیعیت کی جانب کس طرح گامزن ہو گیا اس کا مختصر تذکرہ تو گذر چکا ہے مگر اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ نواب صاحب مشہور صوفی بزرگ فضل الرحمان گنج مراد آبادی کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت تھے۔نواب صاحب کا مسلک کچھ سے کچھ کیوں نہ ہو گیا مگر یہ نقشبندیت اور فضل الرحمان گنج مراد آبادی کی عقیدت تا حیات باقی رہی۔ چنانچہ عبدالحلیم چشتی حنفی نواب وحید الزماں کے بارے میں لکھتے ہیں

’’موصوف نے مولوی فضل رحمان گنج مراد آبادیؒ سے بیعت کا ذکر بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے۔مولوی فضل رحمان گنج مراد آبادی ؒ نے موصوف کو سلسلہ نقشبندیہ میں بھی داخل کر لیا تھا۔
مولوی فضل رحمان گنج مراد آبادی ؒ سے مولوی وحید الزماں ؒ کو بڑی عقیدت تھی، زندگی میں بڑے بڑے انقلابات ہوئے مگر حیرت ہے مولوی گنج مرادآبادی سے روز اول سے جیسی عقیدت ہوئی تا دم مرگ ویسی ہی قائم رہی۔‘‘[حیات وحید الزماں: صفحہ:88]​

اہل حدیث پر اعتراضات اور نکتہ چینی کرنے والے تفضیلی شیعہ نواب وحید الزماں کے حوالے اہل حدیث کا مسلک بنا کر پیش کرنے والوں سے عرض ہے کہ نواب موصوف کی تا عمر قائم نقشبندیت اور حنفی صوفی بزرگ فضل الرحمان گنج مراد آبادی کی عقیدت کو ضرور مدِ نظر رکھیں۔

نواب وحید الزماں کا شیعہ ہونا، مخالفین و غیر اہلِ حدیث کی گواہی

نواب وحید الزماں حنفیت کے بعدغیر مقلدیت کو بھی چھوڑ کر اپنی آخری عمر میں تفضیلی قسم کے شیعہ ہو گئے تھے ۔ یہ بات اتنی واضح اور روشن ہے کہ اہل حدیث کے مخالفین کو بھی اس بات کے مانے بغیر چارہ نہیں۔
۱) نواب وحید الزماں کے سوانح نگار عبدالحلیم چشتی حنفی دیوبندی کی گواہی اس سلسلے میں اوپر گزر چکی ہے ۔ان عبدالحلیم چشتی صاحب کے متعلق محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی نے لکھا:

امام المحدثین جامع العلوم العقلیہ و النقلیہ محدث عظیم صاحب التحقیق و التصنیف حضرت اقدس مولانا الشیخ عبدالحلیم چشتی‘‘
[قطرات العطرشرح اردو شرح نخبۃ الفکر: صفحہ 27]​

²ـ نواب وحید الزماں کے بارے میں ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی لکھتے ہیں:

’’غیر مقلد ہونے کے بعدشیعیت کی طرف خاصے مائل ہو گئے۔ آپ کی کتاب ہدیۃ المہدی آپ کے انہی خیالات کی ترجمان ہے۔آپ فخر الدین الطویحی شیعی( 1085ھ) کی کتاب مطلع نیرین اور مجمع البحرین سے خاصے متاثر تھے۔ وحید اللغات کی اس قسم کی عبارات انہی خیالات کی تائید کرتی ہیں۔‘‘[آثار الحدیث:جلد2 صفحہ 398]​

³ـ نواب وحید الزماں کے متعلق محمد نافع حنفی دیوبندی نے لکھا:

’’جو شخص پہلے سُنی حنفی ہو، پھر کچھ مدت کے بعد تقلید سے آزاد ہو کر غیر مقلد ہو جائے اور پھر اس پر بھی اکتفا نہ کرے بلکہ شیعہ نظریات کو اختیار کر لے تو ایسے متلون مزاج بزرگ کے بیانات پر کیا اعتماد کیا جا سکتا ہے؟‘‘[بناتِ اربعہ:442]​

محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی نے لکھا:

’’رئیس المحققین عمدۃ المحدثین جامع المعقولات والمنقولات استاذ العلماء حضرت اقدس مولانا الشیخ محمد نافع۔۔۔ ‘‘
[قطرات العطرشرح اردو شرح نخبۃ الفکر: صفحہ 25]​

⁴ـ/معروف حنفی دیوبندی عالم ضیاء الرحمٰن فاروقی کی مشہور کتاب’’ تاریخی دستاویز‘‘ کے جواب میں شیعہ کی جانب سے کتاب ’’تحقیقی دستاویز‘‘ لکھی گئی ۔ اس کے رد اور جواب میں دیوبندی مکتبہ فکر کی جانب سے ’’حقیقی دستاویز ‘‘ نامی کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں کئی جگہ پر نواب وحید الزماں کے مسلک کے متعلق روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ کریں:

’’ہدیۃ المہدی وغیرہ ۔۔۔۔جس کا لکھاری تقیہ باز شیعہ ہے۔‘‘

[حقیقی دستاویز: صفحہ 14]​

’’وحید الزماں جو غیر مقلد تھا بالآخر شیعہ ہو مراتھا۔‘‘

[حقیقی دستاویز: صفحہ 595]​

’’ابو داود کا مترجم اور فوائد لکھنے والا وہی نواب وحید الزماں ہے جس کا رفض ابلتی ہنڈیا کی طرح جوش لے رہا ہے۔‘‘

[حقیقی دستاویز: صفحہ 632]​

⁵ـدیوبندیوں کے وکیلِ اہلسنت پاسبانِ صحابہ حافظ مہر محمد میانوالوی دیوبندی نے لکھا:

’آخری عمر میں علامہ وحید الزمان تفضیلی شیعہ ہو گئے تھے ان کا قول حجت نہیں ہے۔‘‘

[شیعہ کے ہزار سوال کا جواب: صفحہ:401]​

دیوبندیوں کے رئیس المحققین و عمدۃ المحدثین محمد نافع کے حوالے سے مہر محمد میانوالوی دیوبندی نے مزید لکھا:

’’اسی دور میں انہوں نے انوار اللغۃ ملقب بہ وحید اللغات مرتب کی اس میں متعدد مقامات پر انہوں نے اپنے ان شیعی خیالات کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔(تفصیلی عبارات بناتِ اربعہ ۔۔۔۔ملاحظہ فرمائیں جو اس کی شیعیت کا برملا اقرار ہیں۔)‘‘

[شیعہ کے ہزار سوال کا جواب: صفحہ:401]​

⁶ـمفتی دارلعلوم حزب الاحناف لاہور، غلام حسن قادری بریلوی نے نواب وحید الزماں کے بارے میں لکھا:

’’موصوف آخری عمر میں شیعہ ہو گئے تھے۔‘‘

[مسئلہ توحید و شرک :صحفہ 92]

صفحہ 2 از 5