نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ) - دورِ حاضر کے…

نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ)

  طالب نور

صفحہ 3 از 5

ان تمام غیر اہل حدیث و مخالفین اہل حدیث کی گواہیوں سے یہ بات کس قدر واضح ہے کہ نواب وحید الزماںنے غیر مقلدیت کو بھی چھوڑ دیاتھا اور شیعہ ہو گئے تھے۔ ان تمام گواہیوں کے باوجود نواب وحید الزماں کی عبارات و کتابوں کو اہل حدیث کا مسلک بنا کر پیش کرنا انتہاء درجے کا ظلم اور نا انصافی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مخالفین اہلِ حدیث ظلم اور نا انصافی کے اسی راستے پر گامزن ہیں۔
اگر کہا جائے کہ اہل حدیث پر نواب وحید الزماں کے حوالے اس لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ موصوف پہلے غیر مقلد تھے تو عرض ہے کہ پھر تو نواب وحید الزماں کے حوالے احناف پر پیش کیے جانے چاہئیں کہ نواب صاحب پہلے کٹر حنفی تھے۔اگر کہا جائے نہیں بعد میں تو غیر مقلد ہو گئے تھے تو عرض ہے کہ بعد میں تو شیعہ بھی ہو گئے تھے۔ ہر دو صورت میں اہلِ حدیث پر نواب وحید الزماں کی عبارات ہرگز پیش نہیں کی جا سکتیں۔ اللہ انصاف سے کام لینے کی توفیق دے، آمین۔

وحید الزماں سے اہل حدیث کی بیزاری و مخالفت

گزشتہ سطور میں نواب وحید الزماں کے مسلک کے حوالے سے یہ بات تفصیل سے بیان کی جا چکی ہے کہ نواب صاحب حنفی سے نیم غیر مقلد اور پھر آخری عمر میں تفضیلی شیعہ ہو گئے تھے جس کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔اہلِ حدیث علماء و عوام، نواب صاحب کا شیعیت کی جانب جھکتا رجحان دیکھ کران سے بد دل اور بد اعتقاد ہو گئے ۔ نواب صاحب کی زندگی میں ہی اہل حدیث نے ان کی مخالفت شروع کر دی تھی۔
¹ـنواب وحید الزماں نے خود اس مخالفت کے بارے میں لکھا:

’’مجھ کو میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ جب سے تم نے کتاب ہدیۃ المہدی تالیف کی ہے تو اہل حدیث کا ایک بڑا گروہ جیسے مولوی شمس الحق عظیم آبادی اور مولوی محمد حسین صاحب لاہوری اور مولوی عبداللہ صاحب غازی پوری اور مولوی فقیر اللہ صاحب پنجابی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری وغیرہم تم سے بددل ہو گئے ہیںاور عامہ اہل حدیث کا اعتقاد تم سے جاتا رہا۔[‘‘حیات وحید الزماں:صحفہ 205]​

ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی نے بھی اس عبارت کو پیش کر رکھا ہے۔ دیکھئے آ ثار الحدیث(جلد2صحفہ398) نیز ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی لکھتے ہیں:

’’آپ کے دور میں مولوی شمس الحق عظیم آبادی، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی عبداللہ غازی پوری، مولوی فقیر اللہ پنجابی غیر مقلدین کی نمایاں شخصیتیں تھے۔مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی خاصے معروف ہو چکے تھے۔‘‘

[آثار الحدیث :جلد 2 صفحہ 397]​

اس سے صاف ظاہر ہے کہ نواب وحید الزماں کی زندگی میں ہی جب ان کے شیعیت سے متاثرہ نظریات ان کی کتاب ’’ہدیۃ المہدی‘‘ کی صورت میں سامنے آئے تو تمام نمایاں اور بڑے اہل حدیث علماء نے نیزاہل حدیث عوام نے ان سے بددلی اور بد اعتقادی ظاہر کر دی تھی۔بعد میں آنے والے اہل حدیث علماء نے بھی نواب وحید الزماں کے نظریات پر شدید تنقید کر رکھی ہے، ان کے اہل حدیث ہونے کا انکار کیا ہے اور ان سے بیزاری و براءت کا اعلانیہ اظہار کر رکھا ہے۔
2)مشہور اہل حدیث عالم سید بدیع الدین شاہ راشدی، نواب وحید الزماں اور ان کی کتب کے متعلق لکھتے ہیں:

’’نزل الابرار ہدیۃ المہدی کا اختصار ہے بلکہ بعینہ وہی کتاب مع خذف دلائل ہے جس سے جماعت اہل حدیث نے بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے جو اہلحدیثوں کو توقع تھی کہ نواب صاحب اہلِ حدیث ہو جائیں گے، ختم ہو گئی تھی۔
نواب صاحب نہ غیر مقلد تھے اور نہ اہل حدیث تھے بلکہ اہل حدیثوں پر حملے کرتے رہے اس لیے ان کی کتابوں کو اہل حدیث کی کتابیں کہنا بہت بڑا سنگین جرم ہے۔‘‘[مروجہ فقہ کی حقیقت: صفحہ 113]​

³ـ معروف اہلِ حدیث عالم مولانا محمد یحییٰ گوندلوی لکھتے ہیں:

’علامہ وحید الزماں کے بارے میں حقائق کا انکشاف ضروری تھا۔ صحیح یہی ہے کہ علامہ صاحب کسی بھی دور میں پختہ کار اہل حدیث نہیں ہوئے تھے بلکہ وہی تصوفانہ میلان کا غلبہ تھا۔ ان کے عقائد و شذوذ سب ماتریدیوں یا پھر رافضہ کے ہیں۔ علی منہج السلف نہیں تھے۔‘‘

[اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں: صفحہ:13]​

⁴ـ نواب وحید الزماں کی عبارات پیش کر کے عمر فاروق قدوسی لکھتے ہیں:

’’یہ اقتباس غور سے پڑھئے۔ اس کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کے لکھنے والا اور کچھ بھی ہو سکتا ہے ، اہل حدیث نہیں۔‘‘

[اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں: صفحہ 169]​

محترم عمر فاروق قدوسی نے وحید الزماں کے باطل عقائد و نظریات اور اہل حدیث علماء و عوام سے ان کی بھرپور مخالفت پر سیر حاصل مدلل بحث کر رکھی ہے ۔ دیکھئے اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں(صفحہ 165 تا 183)
⁵ـ نامور اہل حدیث عالم و محقق حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

’’وحیدالزماں پہلے غالی مقلد، پھر نیم اہل سنت اور آخری عمر میں تفضیلی قسم کا شیعہ بن گیا تھا۔وہ اہلِ حدیث کے نزدیک سخت ضعیف اور متروک الحدیث انسان ہے۔‘‘

[فتاویٰ علمیہ:جلد2 صفحہ 428]​

مزید لکھتے ہیں:

’’مختصر یہ کہ وحید الزماں متروک الحدیث ہے اور اہل حدیث اس کے اقوال اور کتابوں سے بری ہیں۔‘‘

[فتاویٰ علمیہ:جلد2 صفحہ 429]​

اہل حدیث علماء نے نواب وحید الزماں پر جو شدید جرح و تنقید کر رکھی ہے اس کو با حوالہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اب اس سلسلے میں غیر اہل حدیث و مخالفین اہل حدیث کی گواہیاں پیش خدمت ہیں کہ یہ بات ان کے نزدیک بھی تسلیم شدہ ہے کہ اہل حدیث نواب وحید الزماں سے ناراض و ناخوش اور ان کے مخالف و ناقد بلکہ ان کو شیعہ قرار دے کر ان سے پر زور بیزاری کا اظہار کرنے والے ہیں۔
1)نواب وحید الزماں کو جماعت اہل حدیث کاہی عالم سمجھنے کے باوجود صائم چشتی بریلوی لکھتے ہیں:

’’علامہ وحید الزمان اہل علم کے نزدیک محتاج تعارف نہیں۔۔۔۔ان کی جماعت کے اکثر لوگ ان سے پوری طرح خوش نظر نہیں آتے۔۔۔۔مولانا وحید الزماں سے وہابیوں کی ناراضگی۔۔۔۔‘‘

[ہدیۃ المہدی، مترجم صائم چشتی بریلوی: صفحہ 12]​

²ـ دیوبندیوں کے امام المحدثین عبدالحلیم چشتی نے لکھا:

’’آپ (وحید الزماں) کی تالیفات میں سے بس یہی ایک کتاب (ہدیۃ المہدی) ایسی ہے کہ جب چھپ کر منظر عام پر آئی تو طبقہ اہل حدیث میں وہ شورش ہوئی کہ تمام لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔۔۔۔‘‘

[حیات وحید الزماں: صفحہ 277]​
صفحہ 3 از 5