نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ) - دورِ حاضر کے…

نواب وحید الزماں کی شخصیت (تحقیقی جائزہ)

  طالب نور

صفحہ 4 از 5

³ـ دیوبندیوں کے یہی محدث عظیم و صاحب التحقیق عبدالحلیم چشتی لکھتے ہیں:

’’جب آپ (وحید الزماں ) نے ’’ہدیہ المہدی‘‘ تالیف کی، تو اہل حدیث میں مخالفت کی ایک عام لہر دوڑ گئی تھی۔‘‘

[حیات وحید الزماں: صفحہ 204]​

⁴ـ دیوبندی مکتبہ فکر کی جانب سے شیعہ کے جواب میں لکھی جانے والی کتاب ’’حقیقی دستاویز‘‘ میں لکھا گیا:

’’بہر حال یہ حقیقت ہے کہ نواب صاحب شیعہ ہو گئے تھے ان کے اپنے گروپ کا بھی یہی کہنا ہے۔۔۔۔اپنے بھائی کی صحبت نے نواب صاحب کو غیر مقلدبنا تو دیا مگر علمائے اہل حدیث ان کی چابک دستیوں کی وجہ سے ان سے سخت ناراض رہے۔۔۔۔اکابر علمائے اہل حدیث نے ان سے پر زور بے زاری کا اظہار کیا۔‘‘

[حقیقی دستاویز:صفحہ97]​

مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری​

شبہات اور ان کے جوابات

وحید الزماں کے مسلک اور اہل حدیث کی اس سے بیزاری و برأت پر تفصیل سے بحث پیچھے گزر چکی ہے۔مگر اہلِ حدیث کے مخالفین محض ضد اور تعصب کی بنا پر چند شبہات کے سہارے وحید الزماں کی عبارات و کتب کو اہل حدیث کا مسلک ثابت کرنے کی ناکام جدوجہد میں مشغول رہتے ہیں۔ چنانچہ ان شبہات کے جوابات بھی پیشِ خدمت ہیں۔

پہلا شبہ

مخالفین اہل حدیث سب سے پہلے تو نواب وحید الزماں کے وہ تراجم پیش کرتے ہیں جو انہوں نے کتب احادیث کے کر رکھے ہیں اور اہل حدیث کتب خانے ان کو چھاپ رہے ہیں ۔نیز ان تراجم کی اہل حدیث حلقوںمیں پسندیدگی کو بھی مخالفین کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے۔

الجواب

¹ـ دیوبندیوں کے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی کے داماد محمد یحییٰ صدیقی دیوبندی نے لکھا:

’’چنانچہ طے ہوا کہ مولانا وحید الزماںؒ کا ترجمہ دوسرے کالم میں دیا جائے۔ اس ترجمہ میں میرا مشورہ بھی شامل ہے کیونکہ خود علامہ عثمانی ؒ کو یہ ترجمہ پسند تھا۔‘‘

[فضل الباری:جلد1صحفہ23]​

²ـ پیر مشتاق علی شاہ دیوبندی نے لکھا:

’’بخاری شریف مترجم مولانا عبدالرزاق فاضل دیوبند۔ یہ ترجمہ 6 جلدوں میں لاہور سے علامہ وحید الزماں کی شرح کے ساتھ شائع ہو چکا ہے۔‘‘

[علمائے اہلسنت کی تصنیفی خدمات کی ایک جھلک: صفحہ 22]​

³ـ دیوبندیوں کے امام المحدثین و صاحب التحقیق عبدالحلیم چشتی دیوبندی نے لکھا:

’’متاخرین علمائے حدیث میں مولوی وحید الزماں رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کی ایک نئے رنگ سے خدمت کی اور اردو زبان میں حدیث کی ایک نہایت جامع اور مبسوط لغت تیار کی جو اپنی مثال آپ  ہے۔ آئیندہ اوراق میں اسی عظیم شخصیت کے سوانح حیات اور علمی و عملی کارناموں سے روشناس کرایا گیا ہے۔‘‘

[حیات وحید الزماں : صفحہ 59]​

کیا خیال ہے کہ اگر دیوبندی حضرات پر وحید الزماں کی عبارات اور کتب ان کا مسلک بنا کر پیش کر دی جائیں کہ انہوں نے وحید الزماں کی خدمت حدیث اور ترجمہ و لغت کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کر رکھا ہے نیز وحید الزماں کے ترجمہ و شرح کو شائع کر رکھا ہے۔اگر یہ درست نہیں تو اسی بنیاد پر وحید الزماں کی عبارات اہلِ حدیث کا مسلک بنا کر پیش کرنے والوں کو کچھ تو شرم کرنی چاہئے۔
بریلوی حضرات کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ ان کے اعلیٰ حضرت بریلوی نے ’’تذکرۃ غوثیہ‘‘ نامی کتاب کو ضلالتوں، گمراہیوں بلکہ صریح کفر کی باتوں پر مشتمل قرار دے رکھا ہے۔ دیکھئے فتاویٰ رضویہ(جلد15 صفحہ 270)
¹ـ مگر اس گمراہ کن کتاب کو کئی بریلوی ادارے مسلسل شائع کر رہے ہیں۔
²ـ بریلویوں کے پیر و شیر ربانی میاں شیرمحمد شرقپوری کی پسند فرمودہ کتب میں یہ کتاب ’’تذکرہ غوثیہ‘‘ بھی شامل ہے۔ دیکھئے تذکرہ حضرت شیر ربانی شرقپوری اور انکے خلفاء(صفحہ 23)
کتاب ’’تذکرہ حضرت شیر ربانی شرقپوری اور انکے خلفاء‘‘ پرآستانہ شرقپور کے سجادہ نشین صاحبزادہ محمد ابوبکر شرقپوری کی تقریظ موجود ہے(صفحہ 31) نیز کتاب کا مصنف محمد یٰسین قصوری نقشبندی مشہور بریلوی علماء مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور عبدالحکیم شرف قادری کا شاگرد ہے(صفحہ 36)۔
جن کے اپنے اکابرین ضلالتوں ، گمراہیوں بلکہ صریح کفر کی باتوں پر مشتمل کتاب کو بھی پسند کرنے والے ہوں ان کی جانب سے وحید الزماں کے تراجم ِ کتب حدیث اور دیگر علمی کام کے پسند کرنے کو وجۂ اعتراض بنانا کافی حیران کن ہے۔

دوسرا شبہ

وحید الزماں کو اہل حدیث بنا کر پیش کرنے والے ،چند اہل حدیث علماء کا وحید الزماں کے باطل و مردود عقائد و نظریات سے عدم واقفیت، تساہل یا صرف خدمت حدیث کی وجہ سے ان کی تعریف کرنے یا ان کو اپنے علماء میں لکھنے کو بھی بنیاد بناتے ہیں۔

الجواب

اس سلسلے میں عرض ہے کہ اس طرح کی تعریف تو ہر مسلک سے پیش کی جا سکتی ہے کہ اپنے سخت مخالفین کی بھی عدم واقفیت، تساہل یا ان کے کچھ اچھے اور مثبت کاموں کی بنا پر تعریف کر تے ہیں یا ان کو اپنوں میں لکھ دیتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

مدح مخالفیہ در کتب دیوبندیہ​

¹ـ دیوبندی امام المحدثین عبدالحلیم چشتی کا وحید الزماں کی شخصیت کو عظیم قرار دے کر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرنا اوپر گزر چکا ہے۔
²ـ ضیاء الرحمٰن فاروقی دیوبندی نے ’’شیعہ کے بارے میں پہلے اکابرین اسلام کے فتاویٰ جات‘‘ کی فہرست میں اپنے مولانا خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی کے عین نیچے بریلویوں کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کو ان الفاظ کے ساتھ شامل کر رکھا ہے:

’’فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ‘‘

[تاریخی دستاویز: صفحہ 65]

³ـ دیوبندیوں کے فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی نے کہا:

’’ایک بزرگ فرما رہے تھے کہ مولوی احمد رضا خانصاحب میں اتنا زیادہ عشقِ رسول تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس عشق کے طفیل ان کو معاف فرما دیں۔‘‘

[سلوک و احسان: صفحہ 242]​

 ⁴ـ دیوبندیوں کے فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی نے محمد بن علی شوکانی یمنی کوتیرھویں صدی کا مجدد ہونا نقل کر رکھا ہے۔ دیکھئے سلوک و احسان (صفحہ 89)
دیوبندیوں کے امام اہلسنت سرفراز خان صفدر نے لکھ رکھا ہے کہ:

’’جب کوئی مصنف کسی کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے اور اس کے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ ہوتا ہے۔‘‘

[تفریح الخواطر:صفیہب9]​
صفحہ 4 از 5